انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

کیا خوفناک تباہی ٹل گئی؟

دنیا میں اتنی تیزی آ چکی ہے کہ اب منٹوں سیکنڈوں کی گیم ہو گئی ہے۔ چند لمحوں میں کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے، چند لمحوں میں سارے منظر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جب امریکہ نے ایران پر بنکر بسٹر بم اور ٹوم ہاک میزائل پھینکے تو دنیا کو تجسس تھا کہ اب دیکھتے ہیں ایران کیا کرتا ہے لیکن جب ایران نے قطر عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو عام لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب امریکہ کا ردعمل بہت خوفناک ہو گا۔

وہ ایران کو ملیا میٹ کرنے کے لیے کارپٹ بمباری کرے گا، جنگ پورے مشرق وسطی میں پھیل جائے گی، روس ایران کی مدد کے لیے جنگ میں اتر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی حملہ کے بعد سچویشن روم میں پہنچ گئے۔ انھوں نے وزیر دفاع اور افواج کے سربراہان سے ہنگامی مشاورت شروع کر دی۔ اس وقت بھی یہ سوچا جا رہا تھا کہ امریکہ خوفناک جنگ چھیڑنے جا رہا ہے۔

قبل ازیں ٹرمپ نیٹو سے صلاح مشوروں کے لیے جا رہا تھا تو اس وقت بھی یہی سوچا جا رہا تھا کہ امریکہ نیٹو اور دوست عرب ممالک کے ساتھ ایران پر چڑھائی کرنے والا ہے لیکن اچانک سوچوں کے برعکس بات صلح صفائی کی طرف جا نکلی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو باقاعدہ اس جنگ کا حصہ دار اور فریق بن چکا تھا اچانک فریق سے منصف بن گیا۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اور ایران تقریبا ایک ہی وقت میں میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ دونوں ممالک بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ سیدھے راستے اور سچائی سے ہٹے تو بہت کچھ کھو بھی سکتے ہیں۔ آخر میں ٹرمپ نے بڑا بزرگ بن کر دونوں کو دعا بھی دی کہ خدا آپ دونوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے، دونوں کا مستقبل بے حد روشن اور امکانات سے بھر پور ہے۔

کل تک ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکیاں دینے والے آج دعائیں دے رہے ہیں۔ وہ خود ہی درد بھی دیتا ہے اور دوا بھی تجویز کرتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران نے قطر میں حملہ سے قبل ہمیں آگاہ کر دیا تھا۔ دراصل امریکہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ قطر پر حملہ فیس سیونگ تھی۔

ٹرمپ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی قیادت ہے جو پل میں ماشہ اور پل میں تولہ ہوتے ہیں۔ لاابالی طبیعت کے مالک ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بے اعتبارا شخص ہے لیکن سبھی اس پر اعتبار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ انتہائی چالاک اور شاطر شخص ہے جو اپنے مفاد کے لیے بےعزتی کو بھی عزت سمجھ لیتا ہے اور اچھے بھلے بندے کی عزت کرتے کرتے بےعزتی کر دیتا ہے۔ اس کے بارے میں اندازہ لگانا بہت ہی مشکل ہے کہ وہ کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

وہ سیدھے چلتے چلتے اچانک کٹ مار لیتا ہے۔ اب وہ ایران اسرائیل جنگ جو کہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ تھی، اس کا بھی خوب کریڈٹ لے گا کہ میں نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا ہے۔ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک اسرائیل ایران جنگ کا سیز فائر ہو چکا ہو گا لیکن توقع یہی ہے کہ پاک بھارت جنگ کی طرح یہ سیز فائر بھی زبانی کلامی ہو گا۔ دونوں فریقین کو سمجھا دیا جائے گا کہ اب مزید کارروائی نشتہ۔

جس طرح پاک بھارت جنگ کے سیز فائر کے باوجود چنگاری سلگ رہی ہے تنازعات اور مسائل بھی جوں کے توں ہیں، اسی طرح ایران اسرائیل جنگ بندی کی پوزیشن بھی ویسی ہی ہو گی۔ اسے عارضی جنگ بندی کہا جا سکتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ غزہ کا کیا بنے گا۔ ایران اسرائیل کے درمیان تو جنگ بند ہو جائے گی لیکن اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی کیا رخ اختیار کرے گی اس پر مکمل خاموشی ہے۔

دراصل اس جنگ کے تینوں فریقین کو اندازہ نہیں تھا کہ معاملات اس نہج تک پہنچ جائیں گے۔ تینوں نے ایک دوسرے کو انڈر اسٹیمیٹ کیا اور آخر میں تینوں کی صورتحال ایسی بن گئی تھی جیسے سانپ کے منہ میں چھپکلی آجائے کہ نہ وہ اسے نگل سکتا ہے اور نہ وہ اسے اگل سکتا ہے۔ آخر کار تینوں نے فیس سیونگ کا راستہ اختیار کیا ہے لیکن اس گیارہ بارہ دنوں کی لڑائی نے بہت کچھ ایکسپوز کر دیا ہے۔

طے شدہ حکمت عملی کے مطابق اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ ایران کی ٹاپ ملٹری لیڈر شپ اور جوہری سائنسدانوں کو ختم کر دے گا تو ایران میں مایوسی پھیل جائے گی۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایران ایک ترنوالہ ثابت ہو گا لیکن ایرانی قوم نے کمال یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ڈو اور ڈائی تک جانے کے لیے تیار ہو گئے تو امریکہ کو براہ راست جنگ میں کودنا پڑا۔

جب دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں نے بھی ایرانی قوم کو ٹس سے مس نہ کیا تو واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ یہی کچھ پاک بھارت جنگ میں بھی ہوا تھا۔ بھارت بھی غلط اندازے لگا بیٹھا تھا بھارت کا بھی خیال تھا کہ جب میں حملہ کروں گا تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بغاوت ہو جائے گی لیکن بھارت کی جارحیت نے قوم کو اکٹھا کر دیا۔ ان دونوں جنگوں نے بہت کچھ بینقاب کر دیا ہے۔ اب امریکہ کو بھی بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر اس نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو اس کی عالمی چوہدراہٹ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اسے یہ بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ اب ٹیکنالوجی پر صرف اس کی اجارہ داری نہیں رہی بلکہ دوسروں کے پاس بھی کئی قسم کے متبادل ہیں۔ دنیا تقسیم ہو رہی ہے اب امریکہ نئے قسم کے جال بنے گا اگر امریکہ کو خدشات کا ادراک نہ ہوتا تو وہ ایران جنگ کو منطقی انجام تک لے کر جاتا۔ ادھوری جنگ کے ڈراپ سین نے بہت سارے سوال چھوڑ دیے ہیں جن کا جواب صرف وقت ہی دے سکتا ہے۔ اب ایک نئی طرح کی سرد جنگ کا آغاز ہو رہا ہے جس میں نئی طاقتوں کا آگے بڑھنا اور پرانی طاقت کی اپنی بالادستی قائم رکھنے کی کشمکش جاری رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button