ایران بہادری سے لڑا، ٹرمپ کا اعتراف : غزہ میں جنگ بندی کیلئے نمایاں پیشرفت: امریکی صدر روس، یوکرین سیز فائر کیلئے بھی پر امید
اگلے ہفتے مذاکرات اور معاہدہ ممکن، اب جنگ نہیں ہو گی، تہران حکومت نے جوہری تنصیبات بحال کرنے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر
دی ہیگ ( ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی، اگلے ہفتے مذاکرات اور معاہدہ ہو سکتا ہے۔ دی ہیگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ ہوچکی ہیں، گزشتہ ہفتے ایرانی جوہری تنصیبات پر کامیاب حملہ کیا، امن کیلئے جو ہوسکا ہم نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حملے کی وجہ سے ایران اسرائیل کی جنگ بندی ہوئی، مجھے نہیں لگتا ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ ہوگی، ماضی میں بھی ہیروشیما، ناگا ساکی پر حملے سے جنگ ختم ہوئی تھی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نیو یارک ٹائمز اور سی این این نے بہت غلط خبریں شائع کی ہیں، اب انہیں کوئی نہیں پوچھتا، امریکی حملوں سے ایران کئی سال پیچھے چلا گیا، مجھے یقین ہے فردو میں سب کچھ ختم ہو گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے، ہمیں ایک شاندار فتح حاصل ہوئی ہے، ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی آبدوزوں سے میزائل داغے، ایران کی جوہری تنصیبات اب فعال نہیں رہیں گی، ایران کے تمام میزائلوں کو مار گرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قطر پر حملوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا، قطر میں امریکی ایئر بیس کو پہلے ہی خالی کر دیا گیا تھا ، قطر میں امریکی ایئر بیس پر 14میزائل داغے گئے، ہمارے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں۔
امریکہ نے قیام امن کیلئے بھر پور کردار ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو کے رکن ممالک بجٹ کا 5فیصد دفاع پر خرچ کریں گے، نیٹو کے دفاعی بجٹ میں اضافہ تاریخی اقدامات ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران نے بہادری کے ساتھ جنگ لڑی ، ان کے ساتھ اگلے ہفتے بات ہوسکتی ہے، دنیا میں جو بھی مذاکرات کا خواہاں ہے امریکہ اس کے لیے تیار ہے، ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو تعمیر نو کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے۔
چین کی مرضی ہے وہ ایران سی تیل خریدتا ہے یا نہیں۔ جبکہ نیٹو سمٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے جوہری تنصیبات بحال کرنے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی تھوڑی بہت خلاف ورزی ہوئی تھی تاہم اب اسرائیل ایران جنگ بندی پر اچھے سے عمل ہو رہا ہے، سیز فائر کے بعد میرے کہنے پر اسرائیلی طیارے واپس آگئے تھے، اسرائیل کا جنگ سے پیچھے ہٹنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو سب کیلئے اہم ہیں، ایران میں فردو جوہری سائٹ تباہ کر دی اور فردو جوہری سائٹ پر اب تباہی کے سوا کچھ نہیں، جنگ بندی ایران کیلئے بھی فتح ہے، ان کا ملک بچ گیا۔
ایرانی حملوں سے اسرائیل میں عمارتیں تباہ ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اب ایران طویل عرصے تک ایٹمی مواد نہیں بنا سکے گا اور ایران کے لئے اب جوہری ہتھیار بنانا بہت مشکل ہے۔ صحافی کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے جنگ ختم کر دی، اب اگر ایران یورینیئم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کرے تو اس پر پھر حملہ کریں گے۔
غزہ سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر بھی بڑی پیش رفت ہو رہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انہیں بتایا ہے جنگ بندی معاہدہ ممکنہ طور پر طے پانے کے قریب ہے۔ انہوں نے مزید کہا مجھے لگتا ہے کہ غزہ کے حوالے سے بہت اچھی خبریں آنے والی ہیں، جس کی وجہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی ہے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی ترک صدر طیب اردگان سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، ترک صدر نے غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلئے بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
ترک صدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کوششوں سے ایران جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، امریکہ کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں، توانائی، سرمایہ کاری اور ڈیفنس کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع ہیں۔ امریکی صدر نے روس یوکرین جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا نیٹو سمٹ کے دوران یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات ہوسکتی ہے، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کیلئے پر امید ہوں۔



