لاہور:(میاں حبیب) آج کل یونیورسٹیوں میں داخلے ہو رہے ہیں اور انٹر کے طلبہ شدید دبائو کا شکار ہیں والدین علیحدہ سے پریشان ہیں والدین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی معیاری تعلیم ہے اور اس کے لیے والدین اپنا آپ بیچ رہے ہیں۔

پاکستان میں نظام تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہے اور تعلیمی سرمایہ کار والدین کی اس نفسیات سے بخوبی واقف ہیں انھیں پتہ ہے کہ ہر کوئی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے اپنی جائیداد رہن رکھنے کو تیار ہوتا ہے ہر کوئی قیمتی اشیاء فروخت کر کے بھی ہر صورت بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے پرائیویٹ سیکٹر تو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے لیکن پبلک سیکٹر بھی اب پیچھے نہیں رہا مالی بوجھ اپنی جگہ لیکن جو زیادتی طلبہ سے انٹری ٹیسٹ کے نام پر ہو رہی ہے اس کا کسی کو احساس نہیں۔

ہر یونیورسٹی داخلے کے لیے اپنا انٹری ٹیسٹ لے رہی ہے اگر ایک ہی انٹری ٹیسٹ ہوتا تو پھر بھی کسی حد تک قابل قبول تھا جس طرح میڈیکل میں داخلے کے لیے ایک ہی ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ ہے لیکن یہاں تو ہر سبجیکٹ کا علیحدہ سے انٹری ٹیسٹ ہے اور ہر انٹری ٹیسٹ کے لیے ایک ہزار سے تین ہزار فیس ہے۔
اگر ایک طالب علم کو دس یونیورسٹیوں میں اپلائی کرنا ہو اور تین چار مضامین کا آپشن ہوتو اس کے چالیس پچاس ہزار گئے مالی بوجھ اپنی جگہ لیکن نت نئی طرز کے ٹیسٹوں نے بچوں کو پاگل کر چھوڑا ہے حکومت تعلیم کو عام کرنے کا سلوگن دیتی ہے لیکن یہاں تو ہر مرحلہ پر تعلیم کے راستے میں سپیڈبریکر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

لگتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو ہمارے امتحانی سسٹم پر اعتبار نہیں اس لیے ہر مضمون میں داخلے کے لیے علیحدہ علیحدہ انٹری ٹیسٹ رکھے گئے ہیں اگر داخلے انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر ہی ہونے ہیں تو پھر امتحانی سسٹم ختم کر کے انٹری ٹیسٹ ہی لے لیے جائیں امتحانات کی لمبی مشق علیحدہ سے کی جا رہی ہے اور انٹری ٹیسٹ کا شغل علیحدہ سے لگایا ہوا ہے بچوں کو آگے بڑھنے کے لیے ان کے سہولت کار بنیں نہ کہ انھیں بدظن کرنے کے لیے نت نئی رکاوٹیں کھڑی کریں، ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ وہ اس بارے ضرور سوچیں والدین اور طلبہ کی مشکلات کو آسان کریں۔
طلبا اور والدین نے حکام سےمطالبہ کیا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے آسانیاں پید ا کی جائیں نہ کے مشکلات پیدا کی جائیں ۔



