پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

ڈی پی او حافظ آباد کا شاہانہ دفتر، پولیس نظام پر سوالات کی بوچھاڑ،تحقیقات شروع

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خصوصی آڈٹ کا حکم دے دیا، عوامی فنڈز کے غیر شفاف استعمال پر تشویش

لاہور:( رپورٹ :اسد مرزا)پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں ضلعی پولیس افسر ڈی پی اوعاطف نذیر کا نیا دفتر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نہ صرف عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اس پر فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

ڈی پی اوحافظ آبادعاطف نذیر

 

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ دفتر کی تعمیر، تزئین و آرائش، اور استعمال شدہ فنڈز کا خصوصی آڈٹ کیا جائے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ یہ پُر تعیش دفتر عوامی پیسوں سے مختص بجٹ میں کیسے ممکن ہوا۔حکام کو یہ جاننے کی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اگر دفتر پر اضافی رقم خرچ کی گئی ہے تو وہ کہاں سے آئی اور کس اتھارٹی کی اجازت سے استعمال ہوئی۔ معاملہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ پنجاب پولیس کے دیگر اضلاع میں قائم نئے دفاتر اور تھانوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔

کیا واقعی یہ ایک سرکاری دفتر ہے؟
ڈی پی او حافظ آباد کا نیا دفتر، جو بظاہر شہر سے باہر ایک نئی عمارت میں قائم کیا گیا ہے، ایک ایسی جگہ کی تصویر پیش کرتا ہے جو کسی فائیو اسٹار ہوٹل، فلمی سیٹ یا شاہی محل سے کم نہیں۔اس دفتر کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔

 

سنہری تھیم پر مبنی اندرونی سجاوٹ: دیواروں پر طلائی رنگ کی جھلک، سفید گلدستہ نما پینلنگ، اور جھلملاتی چھتوں کا کام


عیش و عشرت سے بھرپور فرنیچر: پُرآسائش صوفے اور نشستیں، جو عام سرکاری دفاتر کی سادگی سے بالکل مختلف،بڑی ایل ای ڈی اسکرین: جسے کانفرنس یا بریفنگز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

 

دو الگ ڈرائنگ رومز: ایک رسمی ملاقاتوں اور دوسرا آرام دہ ماحول کے لیے

مرکزی دفتر: ڈی پی او کا ذاتی کام کرنے کا کمرہ، جو نفیس انداز میں ڈیزائن شدہ ہے۔

 

معاون عملے کے دفاتر: جنہیں الگ اور بہتر انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔

پولیس کے چند اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا ، شکر کریں اس دفتر میں سوئمنگ پول یا سونا باتھ نہیں بنایا گیا سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اسے پنجاب کا سب سے پرکشش سرکاری دفتر قرار دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ عوام کے ٹیکس سے بننے والے دفاتر میں اس قدر شان و شوکت کیا واقعی جائز ہے؟

دفتر، نفسیاتی تاثر یا عوامی خدمت؟
تاریخی حوالہ دیتے ہوئے بعض تجزیہ کاروں نے اٹلی کے فوجی جنرل میس لیونی کے دفتر کا ذکر کیا ہے، جو اپنے مخصوص طرز تعمیر کے باعث مہمان پر ایک نفسیاتی دباؤ قائم کرتا تھا۔ لمبی راہداریاں، خاموشی سے بھرے کمرے، اور یونیفارم پہنے اہلکاروں کی موجودگی ۔۔۔ یہ سب ایک حکمت عملی کے تحت کیا گیا تاکہ بات چیت سے قبل طاقت کا تاثر قائم ہو۔تاہم حافظ آباد کے ڈی پی او عاطف نذیر کی کہانی اس کے برعکس ہے۔ وہ نہ صرف اپنے شاہانہ دفتر میں بیٹھتے ہیں بلکہ آنے والے سائلین سے خندہ پیشانی سے ملتے اور ان کے مسائل سن کر فوری اقدامات بھی کرتے ہیں۔

دیگر اضلاع میں بھی چھان بین کا مطالبہ
پولیس کے بعض حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نہ صرف حافظ آباد بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی پولیس دفاتر اور تھانوں کی تعمیر و تزئین کا آڈٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان عمارتوں کے ٹھیکیداروں سے بیانات لیے جائیں تو بہت سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

نظام میں موجود فرض شناس افسران
پولیس نظام پر اٹھنے والے سوالات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افسران کی مثالیں بھی موجود ہیں جو اپنے کردار و عمل سے نظام میں امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ایس ایس پی طارق ولایت انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کے ڈرائیور نے غلطی سے ان کی ذاتی گاڑی میں سرکاری پٹرول ڈلوا دیا، تو انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور خود اس پٹرول کو نکلوا دیا۔ اس سے قبل جب ان کا تبادلہ ہوا تو ساتھی عملے نے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا، لیکن انہوں نے مکمل اخراجات خود برداشت کیے۔

اسی طرح عاصم مہدی نامی ایک مالی، جو پنجاب پولیس کے حساس ترین شعبہ میں کام کر رہا تھا، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت کے باعث ایڈیشنل آئی جی کی براہ راست ٹیم کا حصہ بن گیا۔ وہ پریزنٹیشنز تیار کرتا، اہم فائلز مکمل کرتا، اور دیگر اہم ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ مگر ایک غلط وقت پر سچ بولنے کی قیمت اسے یہ ادا کرنی پڑی کہ اسے دوبارہ مالی کے منصب پر لگا دیا گیا۔ سفارشیں بھی کام نہ آئیں اور بالآخر اس نے نوکری چھوڑ دی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ امتحان دے کر سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں بطور کلرک بھرتی ہوا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button