انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، مزید 81فلسطینی شہید : عالمی برادری فوری جنگ بندی کرائے، او آئی سی

مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل صرف دو ریاستی حل میں مضمر ، اسلامی ممالک مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں، او آئی سی اعلامیہ

غزہ، تل ابیب، دوحہ، جنیوا، واشنگٹن (ویب ڈیسک) اسرائیل کی غزہ میں جاری وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 24گھنٹے میں مزید100 فلسطینی شہید ہوگئے۔ شہدا میں امداد کے منتظر 31فلسطینی بھی شامل ہیں۔ ادھر تل ابیب میں اسرائیلی شہریوں نے غزہ میں بھوک سے انتقال کرنے والے فلسطینی بچوں کی تصویروں والے بینر اٹھا کر احتجاج کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ غزہ کے حالات کا اسرائیل ذمہ دار ہے، غذائی قلت کے ذریعے اموات جنگی جرائم ہی۔ دوسری جانب حماس نے اسرائیلی جارحیت پر مسلم ممالک اور عالمی برادری سے احتجاج کی اپیل کردی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک اور تباہی روکنے کی کوشش کریں، دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں کے باہر احتجاج اور دھرنے دیئے جائیں۔ ادھر اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کرائی جائے۔ جدہ میں غزہ سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرے، غزہ میں امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، غزہ میں اسرائیلی محاصرہ فوری طور پر ختم کروایا جائے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، یہ جنگی جرم ہے، عالمی عدالت اسرائیل کے جنگی جرائم کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائے، اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ او آئی سی اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل صرف دو ریاستی حل میں مضمر ہے، اسلامی ممالک اسرائیلی مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں۔ دریں اثنا اقوامِ متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے 1000سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔
یہ شہادتیں اس وقت شروع ہوئیں جب سے غزہ ہیومینیٹرین فائونڈیشن اپنی امدادی سرگرمیاں 26مئی سے شروع کیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یو این ہیومن رائٹس آفس کے ترجمان ثمین الخیطان نے بتایا کہ 21جولائی تک ہمارے پاس ایسے 1054افراد کی اموات کا ریکارڈ موجود ہے جو غزہ میں خوراک لینے کی کوشش کے دوران اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان میں سے 766افراد غزہ ہیومینیٹرین فائونڈیشن کے مراکز کے قریب اور 288افراد اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی فلاحی اداروں کے قافلوں کے قریب شہید ہوئے۔ مزید برآں ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز، سیو دی چلڈرن اور آکسفیم جیسی111تنظیموں کے دستخط سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمارے ساتھی اور جن لوگوں کی ہم خدمت کرتے ہیں، وہ بھوک سے نڈھال ہو رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب اسرائیلی حکومت کی ناکہ بندی غزہ کے لوگوں کو بھوکا مار رہی ہے، تو امدادی کارکن بھی اب انہی قطاروں میں کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے خاندان کے لیے خوراک حاصل کرنے میں گولی لگنے کا خطرہ ہے۔
ان امدادی گروہوں نے بھی فوری جنگ بندی، تمام زمینی گزرگاہوں کو کھولنے اور اقوام متحدہ کی قیادت میں امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی نے فلسطین حامی مظاہروں میں شرکت کرنے والے طلبا کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق طلبا کے ایک سرگرم گروپ نے بتایا کہ 80کے قریب طالب علموں کو ایک سال سے تین سال کے لیے معطلی کا نوٹس بھیجا گیا ہے یا پھر انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button