پاکستانتازہ ترینکالم

حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

تحریر :عاطف عارف

ہمارے ملک میں حکومت اپنی پبلسٹی پر بے شمار پیسے خرچ کررہی ہے جبکہ گرائونڈ پر کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے مثال کے طور پر حکومت کہتی ہے کہ ملک ترقی کررہا ہے اور شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اور حکومتی ترجمان بھی زمین اور آسمان ایک کئے ہوئے ہیں۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال حکومتی آمدنی 9 ہزار 946 ارب، اخراجات 17 ہزار ارب روپے رہےآپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کی آمدن کم اور خرچے زیادہ ہو تو آپ کیسے گزاراکریں گے آپ قرض لے کر گزرا کریں گے کیا قرض لے کر گھر یا ملک چلانے کو آپ ترقی کہیں گے جبکہ آپ کے ملک میں سرمایہ کار باہر بھا گ رہے ہیں ،آپ کے ملک میں نظام انصاف دنیا کے نچلے ممالک کی طرح ہے اور آپ کے وزیر دفاع کہہ رہے کہ بیوروکریسی ملک کو کھا گئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینی کی تیاری کر رہی ھے۔ اوریہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں ۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھا تے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیو نکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔

پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلیت کر رہی ہیں ہمارے ملک سے 6ماہ میں بیروزگاری، معاشی عدم استحکام اور کم تنخواہوں کے باعث رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، ڈاکٹرز، نرسز اور تکنیکی ماہرین بھی شامل ہیں، اس رجحان نے نہ صرف ملکی برین ڈرین میں اضافہ کیا ہے بلکہ نظامِ صحت جیسے حساس شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

اگر یہ سب ترقی ہے تو اللہ ہی حافظ ہے ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ نے صرف اپنی ذات اور ذاتی مفاد کا ہی سوچا اس لیے آج ہم دنیا سے پیچھے ہیں ہمیں ہر ادارے میں میرٹ لانا ہوگا اور جوہمارے ہاں یہ ر یٹائرڈ لوگوں کو دوبارہ ملازمتیں دی جاتی ہیں یہ بھی اس کی بڑی وجہ ہے ہر سیاسی جماعت اپنے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو لے آتی ہے جبکہ ملک کا پڑھا لکھا نوجوان آج بے روزگاری کی دلد میں دھنستا چلا جارہا ہے جب تک ہم اپنی روش نہیں بدلیں گے اس وقت تک تباہی ہی تباہی ہے اللہ پاک ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button