لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)صوبائی دارالحکومت لاہور کی کئی معروف شاہراہیں اور علاقے جسم فروشی ،بدکاری سمیت جرائم کی آماجگاہ بن گئے۔

4سےزائد تھانوں کی حدود ہونے کے باوجود سبزہ زار،علامہ اقبال ٹائون،گرینڈ بیٹری سٹاپ،شاہ نورسٹوڈیو،ٹھوکرنیازبیگ اور علی ٹائون تک فحاشی وجسم فروشی کا کارروبار عروج پر ہے ،ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں مبینہ طور پر پولیس کی ملی بھگت سے قحبہ خانے اور بدکاری کے اڈے قائم ہیں ،شام سے لے کر رات گئے تک علی ٹائون میں ہوسٹلوں میں مقیم لڑکیاں،ٹھوکرنیازبیگ کے اطراف میں خواجہ سرااورشاہ نورسٹوڈیو کے علاقہ میں خواتین گاہکوں کی تلاش میں رہتی ہیں۔

ٹھوکر نیازبیگ چوک میں پارک اور گرین بیلٹ ،پارکوں اور ویرانوں میں سرعام خواجہ سرا اور فاحشہ خواتین دعوت گناہ دیتی ہیں ،شہریوں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار باقاعدہ منتھلی اور دیہاڑی لیتے ہیں ان علاقوں میں جسم فروشی کا دھندہ کھلے عام پولیس کی ملی بھگت کے ساتھ ہو رہا ہے جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، قانون ساز اداروں نے بھی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔


ٹ
ٹھوکرنیازبیگ چوک کے اطراف اور پل کے نیچے گرین بیلٹس میں پودوں میں چھپ کر زناکاری کی جاتی ہےاردگردکے علاقہ میں فحاشی کے اڈوں پر اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی آمدوروفت اور قیام بھی معمول کی بات ہے ، پولیس شکایات کے باوجود مقدمات درج ہی نہیں کرتی کیونکہ محکمہ میں شامل کئی کالی بھیڑیں خود ان کی سرپرستی کرتی ہیں۔

مقامی افرادکا کہنا ہے کہ بدکاری کے دھندے میں ملوث خواتین اور خواجہ سراسرعا م دعوت گناہ دیتے ہیں خواتین اور بچوں سمیت شرفا کا باہر نکلنا محال ہوگیا ہے۔
نمائندہ سی این این اردوڈاٹ کام کے رابطہ پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوزنے ایسے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا جبکہ

ایس پی اقبال ٹائون ڈاکٹر عمر نے اپنے موقف میں فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن کی یقین دہانی کرادی۔ایس پی اقبال ٹائون نے کہا کہ کسی کو بھی کسی غیرقانونی کام کی اجازت نہیں قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔



