پاکستان کے وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران و اہم شخصیات حتیٰ کہ عام شہریوں کا ذاتی ڈیٹا بھی انٹرنیٹ پر فروخت ہو رہا ہے تو یہ محض ایک انکشاف نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آخر وہ ادارے کہاں ہیں جو دن رات قومی سلامتی و ڈیجیٹل پالیسیوں اور سائبر سیکیورٹی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں؟ اگر ایک عام شہری کے شناختی کارڈ کی کاپی، موبائل لوکیشن، بیرون ملک سفر کی تفصیلات اور کال ریکارڈ تک محض چند ہزار میں دستیاب ہیں تو سوچئے کہ ملک کے وزرا، ججز، جرنیل یا اہم فیصلے کرنے والے افسران کے ڈیٹا کی قیمت کیا ہوگی اور اس کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ذرا ماضی کی مثالیں یاد کریں 2019 میں سنگاپور کے ہیلتھ ڈیٹا بیس پر حملہ ہوا تو وزیر صحت کا ذاتی ڈیٹا بھی افشا ہوا مگر چند ہی دنوں میں نہ صرف ذمہ داران کا پتہ چل گیا بلکہ ان پر مقدمات بھی قائم ہوئے اور نظام کو ازسرنو محفوظ بنایا گیا۔ برطانیہ میں 2020 میں جب ڈیٹا لیک کا معاملہ ہوا تو پارلیمنٹ میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ ہم نے کیا کیا؟ جب 2020 میں نادرا کے ڈیٹا بیس سے متعلق خدشات اٹھے تو کمیٹیوں پر کمیٹیاں بنیں، رپورٹیں تیار ہوئیں مگر عملی اقدام صفر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انٹرنیٹ کی بلیک مارکیٹ میں کسی کے بارے میں جاننا ہو تو صرف دو ہزار روپے میں پوری معلومات خریدی جا سکتی ہیں۔
اب ذرا تصور کریں کہ ایک غیر ملکی ایجنسی یا کوئی دشمن ریاست اگر یہ ڈیٹا خرید لے تو کیا کچھ کر سکتی ہے؟ کسی وزیر کے خاندان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا کسی افسر کے سفری شیڈول سے حملہ پلان کرنا کسی جج کی نجی گفتگو کو لیک کر کے بلیک میل کرنایہ سب صرف فلموں میں نہیں بلکہ حقیقت میں ممکن ہو چکا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے متعدد کیسز ایسے ہیں جن میں پاکستانی افسران کو ڈیجیٹل بلیک میلنگ کے ذریعے جال میں پھنسایا گیا ان کی موبائل لوکیشنز اور کال ریکارڈز کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ڈیجیٹل تحفظ کو کبھی قومی سلامتی کے برابر نہیں سمجھا۔ ہم نیوکلیئر اثاثوں کی حفاظت پر اربوں خرچ کرتے ہیں مگر وہی اثاثے بنانے والے سائنسدانوں کے ای میل اکاؤنٹس اور فونز کس حال میں ہیں؟ ایک طرف آپ سی پیک کی حفاظت کیلئے فوجی ڈویژن بناتے ہیں دوسری طرف چینی انجینئرز کے پاسپورٹ اور ویزا کی تفصیل پانچ ہزار روپے میں کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتی ہے۔ یہ تضاد صرف انتظامی نااہلی نہیں بلکہ قومی خودکشی کے مترادف ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس ڈیٹا فروخت کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ کیا یہ صرف ہیکرز ہیں؟ نہیں۔ کئی بار یہ کام اندر کے لوگوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ بینکوں کے ملازمین، موبائل کمپنیوں کے کنٹریکٹرز، سرکاری محکموں کے اہلکار، سبھی اس گھناؤنے کاروبار میں شریک ہیں۔ پچھلے سال ایف آئی اے نے ایک چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ پاسپورٹ آفس کے چند اہلکار ہر ہفتے ہزاروں ریکارڈ بیچ کر لاکھوں کماتے رہے۔ یہ تو وہ ہیں جو پکڑے گئے نہ جانے اور کتنے آج بھی یہ کام کر رہے ہیں۔یہاں قانون سازی بھی مضحکہ خیز ہے۔ ہمارا سائبر کرائم ایکٹ 2016 میں بنا تھا مگر آج بھی اس میں ذاتی ڈیٹا کی فروخت کیلئے کوئی واضح سزا موجود نہیں۔
آپ کسی کے شناختی کارڈ کی کاپی بیچ دیں آپ پر مقدمہ نہیں ہوگا جب تک وہ متاثرہ فریق باقاعدہ درخواست نہ دے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈیٹا پروٹیکشن لازمی شرط ہے یہاں بس ایک خانہ پُری ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ ہماری حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کیا روڈ میپ تیار کیا؟ ہر سال بجٹ میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کیلئے کروڑوں رکھے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر نہ کوئی قومی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کام کر رہی ہے نہ کوئی آزادانہ نگرانی کا نظام موجود ہے۔ جب تک ادارے آزاد نہیں ہوں گے اور سزا یقینی نہیں ہوگی تب تک یہ کاروبار چلتا رہے گا۔ کل اگر کسی سفارتکار کی ملاقاتوں کی فہرست لیک ہو گئی، کسی ایٹمی سائنسدان کے خاندان کی معلومات بلیک مارکیٹ میں آ گئیں یا کسی حساس افسر کی لوکیشن دشمن کے ہاتھ لگ گئی تو ہم صرف یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ ہمیں علم نہیں تھا۔
ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دور کی جنگوں میں لڑنے کیلئے تیاری کرنی ہے یا اپنی کوتاہیوں کے ہاتھوں یرغمال بننا ہے۔اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ رکے تو سب سے پہلے قومی سطح پر ایک سخت قانون بنانا ہوگا۔ ڈیٹا لیک کرنے والے کو وہی سزا دینی ہوگی جو ملک دشمن کو دی جاتی ہے۔ دوسرا تمام حساس اداروں کے ملازمین کی ڈیجیٹل تربیت لازمی قرار دی جائے۔ تیسرے ہر موبائل کمپنی، بینک اور سرکاری ادارے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیٹا انکرپشن اور دوہری سیکیورٹی لازمی کرنا ہوگی۔ اور سب سے اہم حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنی ہوگی ورنہ چند ہزار میں بکنے والا یہ ڈیٹا کل کو پورے ملک کی سلامتی کو چند ٹکوں میں نیلام کر دے گا۔
کیا ہم اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں گے یا پھر یہ بھی ایک خبر بن کر اخبار کے صفحے سے مٹ جائے گی؟ یہ سوال آج ہم سب سے زیادہ اپنے حکمرانوں اور ان اداروں سے ہے جن کے کاندھوں پر عوام کا اعتماد اور ملک کی عزت ٹکی ہوئی ہے۔ کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں جنگیں ٹینکوں سے نہیں معلومات سے جیتی اور ہاری جاتی ہیں اور افسوس ہم یہ جنگ ابھی سے ہارتے دکھائی دے رہے ہیں۔



