پاکستان میں پولیس کو ہمیشہ محافظ کہا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ اب عوام کا محافظ کم اور جرائم پیشہ افراد کا کاروباری شراکت دار زیادہ بن چکا ہے۔ سی سی ڈی کے قیام کے بعد وہ سچ آشکارہوا ہے جسے سن کر روح بھی کانپ جائے۔ اصل خوف ڈاکوؤں کا نہیں بلکہ ان پولیس افسران کا ہے جو اس نظام کی رگوں میں سرایت کرچکے ہیں ان کے نزدیک جرم کم ہونا ادارے کی موت ہے کیونکہ اگر جرائم ختم ہو گئے تو بجٹ پر کٹ لگ جائےگا، مراعات بند ہو جائیں گی، اور نئے "آپریشن” کے نام پر ملنے والے کروڑوں کے فنڈز پرچھری نہیں بلکہ تلوار چل جائے گی۔
یوں تو سیدھی بات ہے جرم کم ہو تو پولیس بیروزگار، جرم بڑھ جائے تو ترقی اور کمائی دونوں پکی ہیں سانگلا ہل میں بلی گرداور اور وحید کاکا جیسے دہشت گرد جب مارے گئے تو عوام نے سکھ کا سانس لیا مگر پولیس افسران کی پیشانیوں پر شکنیں پڑ گئیں۔ کیوں؟ کیونکہ جب مجرم زندہ رہتا ہے تو پولیس کی دکان بھی چمکتی رہتی ہے۔ اور جب مجرم مر جاتا ہے تو ان کی جیبوں پر تالے لگ جاتے ہیں۔
پھر شروع ہوا جوڈیشل انکوائری کا ڈرامہ جسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی عام عدالت کا نہیں بلکہ کسی ڈرامہ سیریل کا سین ہے۔ خاتون سول جج نے مقابلے کو "جعلی” قرار دیا، حالانکہ بڑے بڑے افسران موقع پر موجود تھے۔ بعد میں عقدہ کھلا کہ محترمہ کے والد کے گن مین ہی وحید کاکا کے بیٹے تھے یوں انصاف بھی رشتہ داری کے منبر پر قربان ہو گیا۔
اس کے بعد جو کھیل کھیلا گیا، وہ کرپشن کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ایک ایس ایچ او پر قتل کا مقدمہ بنا، ضمانت ملی، آئی جی کے سامنے پیشی ہوئی۔ آئی جی صاحب نے ایس پی انوسٹی گیشن پی ایس پی افسر کو بلا کر حکم دیا:”انسپکٹر آپ کی گاڑی چلائے گا، اس کا مقدمہ ختم کر کے کاپی دے دینا‘‘۔
انسپکٹر نے گاڑی چلائی، افسر نے مکالمہ مارا:’’مقدمہ ختم کروانا ہے تو دام لگیں گے، ورنہ آئی جی کو خود کہہ کر دیکھ لو‘‘یوں گاڑی کے اسٹیئرنگ کے ساتھ ساتھ انصاف کا اسٹیئرنگ بھی گھمایا گیا۔ ڈیل ایک کروڑ سے شروع ہو کر تیس لاکھ پر طے پا گئی۔ سبحان اللہ! یہ ہے انصاف کا نیا نرخ نامہ: عوام کے خون پسینے سے پلنے والا وہ بھتہ جو کرپشن کے پیٹ کو بھرتا ہے۔
اب وہی افسر پنجاب پولیس میں بڑے عہدے پر براجمان ہے، اور عوام کو انصاف دینے کے بجائے انصاف کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ بلی گرداور گینگ کے بچے کھچے ساتھی آج بھی کھلے عام گھومتے تھے لیکن سی سی ڈی کے قیام کے بعد انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور جرم سے توبہ کر لی جس سے سانگلاہل اور گردونواح میں سکون ہوگیا کیونکہ پہلے پولیس کے لئے وہ مجرم نہیں، بلکہ سرمایہ تھے اب یہ سرمایہ ختم ہو گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب محافظ ہی تاجر بن جائے تو عوام کہاں جائیں؟ ڈاکو رات کی تاریکی میں لوٹتا ہے، مگر پولیس دن کی روشنی میں انصاف کو نیلام کرتی ہے،آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے،جرم زندہ ہے، پولیس زندہ ہے اور عوام لاش کی طرح نظام کے کندھوں پر پڑے ہیں۔



