انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ تریندلچسپ و حیرت انگیزسائنس و ٹیکنالوجیکالم

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی ابتدااور مستقبل!

تحریر:علینہ ارشاد

(مصنوعی ذہانت) کمپیوٹیشنل سسٹمز کی وہ صلاحیت ہے جو عام طور پر انسانی ذہانت سے وابستہ کاموں کو انجام دیتی ہے، جیسے سیکھنا، مسئلہ حل کرنا اور فیصلہ کرنا ۔ یہ کمپیوٹر سائنس میں تحقیق کا ایک شعبہ ہے جو ایسے طریقوں اور سافٹ ویئر کو تیار کرتا ہے اور اس کا مطالعہ کرتا ہے جو مشینوں کو اپنے ماحول کو سمجھنے اور سیکھنے اور ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے کے قابل بناتا ہے جو ان کی صلاحیتوں اور کام کرنے کی کی بنیاد پر اہداف کے حصول کو ممکن بناتا ہے۔

رومیوں اور یونانیوں کے افسانوں میں مشینی مردوں کا بے شمار ذکر ملتا ہے، جسے جدید دور کا روبوٹ کہا جا سکتا ہے۔ یونانی افسانوں میں ایک ایسا ہی مشہور نام تالوس ہے۔ افسانے میں بتایا گیا ہے کہ، تالوس ایک بڑا کانسے کا آٹومیٹن تھا جو یونانی شہر یوروپا کو قزاقوں اور باہری حملہ آوروں کے حملوں سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان افسانوں سے آگے بڑھیں تو ہماری فلمیں اور کتابیں ایسی مشینوں سے جڑی ہوئی ہیں ۔ ان چیزوں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ، انسانوں کو طویل عرصے سے اپنے ذہن کے ساتھ انسان نما اشیاء کا خیال آتا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت کے دائرے میں حقیقی ترقی 1956 میں شروع ہوئی جب مصنوعی ذہانت کے شعبے کو باضابطہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔

نظریاتی کمپیوٹر سائنس کے موجد کے طور پر اپنی پہچان بنانے والے برطانوی ریاضی کے ماہر ایلن ٹورنگ نے ایک تجویز پیش کی جو اے آئی کی بنیاد بن گئی۔ تجویز سادہ تھی، جس میں انسانی دماغ کی طرح، مشینیں معلومات کا استعمال مسائل کو حل کرنے اور معلومات کے دیئے گئے سیٹ کی بنیاد پر انتخاب اور فیصلے کیوں نہیں کر سکتیں؟

1950کی دہائی کے ٹورنگ کے ایک مقالے میں ایسی ذہین مشینیں بنانے کے بارے میں لکھا گیا جو فیصلے کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کی ذہانت کو کیسے جانچا جا سکتا ہے۔

اس کے چند سال بعد مصنوعی ذہانت کی اصطلاح باضابطہ طور پر ڈارٹ ماؤتھ کالج میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جان میک کارتھی نامی کمپیوٹر سائنس دان نے وضع کی، جنھیں اے آئی کا موجد کہا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں دو ماہ تک دس افراد کی تعلیم کی تجویز پیش کی گئی۔میکارتھی نے تجویز پیش کی کہ اے آئی کو سمجھنے کے لیے یہ کمیونٹی مشینوں کو زبانیں استعمال کرنے، تجریدات اور تصورات بنانے، انسانوں کے مختلف قسم کے مسائل کو حل کرنے کے طریقے پر غور کرے گی۔علمی سائنس دانوں کی کمیونٹی مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو لے کر پرامید تھی۔

سنہ 2000 یعنی 21ویں صدی کے آغاز میں، ہونڈا کا اسیمو روبوٹ منظر عام پر آیا جوانسانوں کی طرح کام کرتا تھا، ہوٹلوں میں گاہک تک ٹرے پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ اسی سال، کسمٹ نامی روبوٹ ایجاد ہوا جس میں انسانی جذبات کو سمجھنے اور ان کی نقل کرنے کی صلاحیت تھی۔

2014میں منظر پوری طرح بدل گیا جب گوگل کی بغیر ڈرائیور والی کار نے خود ڈرائیونگ کرتے ہوئے امتحان پاس کیا۔ 2016 میں انسان نما صوفیا روبوٹ سامنے آیا جو کسی ملک کی شہریت حاصل کرنے والا پہلا روبوٹ بن گیا۔

مصنوعی ذہانت کو عمومی طور پر چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
(ری اکٹو مشینز)
یہ مشینیں مخصوص کاموں میں ماہر ہوتی ہیں اور ماضی کے تجربات کو یاد نہیں رکھتیں۔
(لیمیٹڈ میموری)
یہ مشینیں ماضی کے تجربات کو مختصر مدت کے لیے یاد رکھ سکتی ہیں۔
تھیوری آف مائنڈ
یہ مشینیں دوسروں کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں-
خود آگاہی
یہ مشینیں خود شعور رکھتی ہیں اور اپنے وجود سے آگاہ ہوتی ہیں

آرٹیفیشل انٹیلیجنس آج کل دنیا کے ہر شعبے میں استعمال ہو رہی ہےپوری دنیا میں اس کے اوپر تیزی سے کام ہو رہا ہے ، ہمارا ہمسائیہ ملک انڈیا فصلوں کی بہتری اور کلاس روم میں اس کے استعمال پر توجہ دے رہا ہے، چائینہ نے اے آئی سمارٹ شہر بنانے کی تیاریاں شروع کر دی ہوئی ہیں-بنگلہ دیش اپنے وژن 2041 پلان کے تحت نوجوانوں کو AI، روبوٹکس اور ڈیٹا سائنس میں تربیت دے رہا ہے۔اور پھر پاکستان ہے۔جہاں کا نوجوان ذہین ہے دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی فری لانس کمیونٹیز میں سے ایک، اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی شرح جو عالمی پلیٹ فارمز کو بھی حیران کر دیتی ہےلیکن اسکول کی سطح پر کوئی مناسب AI تعلیم نہیں، اور اس جگہ میں کوئی بامعنی سرکاری سرمایہ کاری بھی نہیں ہے۔

اگر آرٹیفیشل انٹیلجنس میں دیکھا جائے کے اس دوڑ میں کون سے ممالک آگے ہیں تو اس دوڑ میں سرفہرست امریکہ ہے، جس نے اے آئی میں 109 بلین ڈالر ڈالے، جو کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے۔کے فو لی ایک اے آئی ایکسپرٹ ہیں جس نے حیرت انگیز انکشافات کیے ۔ ایک چینل پر انہوں نے انکشاف کیا کہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلجنس یہ تک پتہ لگا لے گا کہ کون سے بچے میں کون سا ٹیلنٹ ہے۔ کیا اسے شاعری پسند ہے یا ریاضی ۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتا چل سکے گا کہ پڑھتے وقت بچوں کو کس مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تا کہ اساتزہ بہتر طور پر بچے کی مدد کر سکیں-انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی چالیس فیصد نوکریوں کی اگلے پندرہ سے بیس سالوں میں جگہ حاصل کر لے گاجیسے کہ ڈرائیورز، شیف ، ویٹرز وغیرہ۔

اس کے علاوہ اے آئی سے جب کوئی تنازعاتی سوال کیا جاتا ہے تو نا صرف وہ اس کا جواب نہیں دیتا بلکہ موضوع سے توجہ ہٹانے کی بھی کوشش کرتا ہے ۔ جیسے کہ جب اس سے سوال کیا گیا کے بم کیسے بناتے ہیں تو اس نے نا صرف یہ کہا کہ اسے معلومات نہیں ہیں بلکہ جواب میں یہ بھی کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انٹارکٹک گلیشیرز میں موجود برف کا 3% حصہ پینگوئن کے یورین(urine) پر مشتمل ہے۔

کچھ ایکسپرٹس نے اے آئی پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ جھوٹ اور سچ میں فرق نہیں کر سکتی اور اس کو مستقبل میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے حال ہی میں خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس کے مطابق مصنوعی ذہانت 30 کروڑ ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سے نئی ملازمتیں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

نومبر 2022 سے اب تک مصنوعی ذہانت کے ٹُول میں سے ایک، ChatGPT کو اب تک کئی لاکھ لوگ استعمال کرچکے ہیں اور مائیکروسافٹ نے اس پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں البتہ، پرائیویسی خدشات کی بنا پر اٹلی میں اس پر وقتی طور پر پابندی لگا ئی گئی ہےٹیکنالوجی کی دنیا میں ایلون مسک سمیت دیگر اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ طاقتور AI سسٹمز کی تربیت انسانیت کے لیے خطرے کے خدشات پیدا کرسکتے ہیں نامور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ اسے ’’انسان کی تاریخی بیوقوفی‘‘کہا۔

ائی ایم ایف نے اے آئی پریپرڈنس انڈیکس (اے آئی پی آئی) رپورٹ تیار کی ہے جس میں 174 ممالک میں اے آئی کو اپنانے کے لیے کون سا ملک کتنا تیار ہے اس کا اندازہ لگایا گیا ہے -درجہ بندی کے مطابق، سنگاپور وہ ملک ہے جو AI کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اپنی صنعتوں میں AI کو آسانی سے اپنا سکتا ہے۔ سنگاپور پہلے ہی AI پر اور AI کو اپنانے کے لیے قومی حکمت عملی بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ ٹاپ ٹین رینکنگ میں دیگر یورپی ممالک ہالینڈ، ایسٹونیا، فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ، جرمنی اور سویڈن ہیں۔اگر پاکستان کی بات کی جائے تو 174 ممالک میں سے پاکستان کا 122 نمبر ہے۔

یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ وہ ٹیکنالوجی جو آنے والے سالوں میں کئی ملازمتوں کی جگہ لے گی پاکستان اس دوڑ میں کہاں کھڑا ہے پہلے ہی پاکستان کا نوجوان بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے آنے والے سالوں میں حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے کیا ملک ڈیفالٹ ہو سکتا ہے ؟

نوجوانوں کو چاہیے کے اپنی مدد آپ کے تحت آرٹیفیشل انٹیلجنس پر کام کریں ۔ بہت سی ویبسائٹس ایسی ہیں جو مفت کورسز کروا رہی ہیں-جتنا سیکھ سکتے ہیں سیکھیں اور اپنے آپ کو آنے والے وقتوں کے لیے تیار کریں ہمارا مذہب بھی ہمیں یہ ہی تعلیم دیتا ہے عقل والوں کو قرآن مجید میں 60 سے زائد مقامات پر مخاطب کیا گیا ہے اور انہیں کائنات میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button