پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

اغوا کا ڈراپ سین،DSPخود بیوی اور بیٹی کا قاتل نکلا،لاشیں برآمد

عثمان حیدر گجر نے لاشیں کاہنہ اور شیخوپورہ پھینک کر اغوا کا پرچہ درج کرا دیا ، تحقیقات میں اغوا کی کہانی جھوٹی ثابت

لاہور (بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) اغوا کا ڈرامہ بے نقاب، ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے خود بیوی اور بیٹی کو قتل کیا، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات مکمل کر لی۔ تفصیل کے مطابق بر کی کے علاقہ میں اغوا کے ایک ہائی پروفائل مقدمے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے جہاں ایک حاضر سروس ڈی ایس پی نے اپنی ہی بیوی اور کمسن بیٹی کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا اعترافی سراغ سامنے آ گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے بطور ڈی ایس پی کاہنہ تعیناتی کے دوران 18اکتوبر کو تھانہ برکی میں اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس کی اہلیہ سمیعہ عثمان اور بیٹی خنسا عثمان کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔تاہم چند ہی دنوں میں یہ کہانی شکوک کی زد میں آگئی۔
ملزم کی ساس اور سالی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مر یم نو از شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت اعلیٰ حکام کو تحریری درخواستیں دی گئیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اغوا نہیں بلکہ قتل ہوا ہے اور اس کے پیچھے خود ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر پولیس، سی سی ڈی اور دیگر تحقیقاتی اداروں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی گئی جس نے کیس کی ازسرنو تفتیش کی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور تکنیکی ڈیٹا نے اغوا کی کہانی کو جھوٹ ثابت کر دیا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ملزم ڈی ایس پی نے اپنی بیوی اور بیٹی کو فائرنگ کر کے قتل کیا، بعد ازاں اہلیہ کی لاش شیخوپورہ جبکہ بیٹی کی لاش لاہور کے علاقے کاہنہ میں پھینک دی۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر دونوں لاشیں برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئیں۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا روزنامہ جہا ن پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ شواہد مضبوط ہیں، ملزم کے خلاف ٹھوس چالان مرتب کر کے اسے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔ یہ کیس نہ صرف ایک سنگین دوہرے قتل کا معاملہ ہے بلکہ پولیس نظام پر ایک کڑا سوال بھی ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ جب ایک حاضر سروس ڈی ایس پی ہی قاتل نکل آئے تو کیا سی سی ڈی اور دیگر ادارے قانون کے مطابق شفاف تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے یا پھر ماضی کی طرح کسی پولیس مقابلے کی آڑ میں معاملہ نمٹا دیا جائے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک پیٹی بھائی ہونے کے ناتے ملزم کو استثنا حاصل ہوگا یا اسے عام شہری کی طرح عدالت میں پیش کر کے سزا دلائی جائے گی۔
تحقیقات کی نگرانی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا او ر ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید قریشی کر رہے ہیں جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں انویسٹی گیشن پولیس، سی سی ڈی کے تفتیشی افسران، فرانزک ماہرین، تکنیکی و ڈیٹا اینالسس یونٹس اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید قریشی نے سی این این اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام پہلوئوں پر غیر جانبدارانہ تفتیش کی جا رہی ہے اور کسی بھی مرحلے پر قانون سے انحراف نہیں کیا جائے گا۔ یہ مقدمہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا نظامِ انصاف وردی کے اندر موجود جرم کو بھی اسی سختی سے نمٹاتا ہے جس سختی سے وہ عام شہری کے جرم کو دیکھتا ہے یا نہیں۔ عوام کی نظریں اب تفتیش اور عدالتی کارروائی پر جمی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button