لاہور:(تجزیہ /میاں حبیب) وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے دورہ لاہوراور وزیر اعظم شہبازشریف کی پی ٹی آئی سے مذاکرات کی راگنی سے کچھ نیا ہونےکااشارہ ملتا ہے۔وزیر اعلی کے پی کے کہیں نہ کہیں سے اجازت لے کرآئے،آفریدی کےدورہ پنجاب پر مس ہینڈلنگ ہوئی،ہائیکورٹ کی جانب سے پراپرٹی اونرشپ قانون کی معطلی بھی واضح اشارے ہیں۔

رواں سال کے آخری دنوں میں کئی قابل ذکر واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن دو واقعات تو بہت ہی اہم ہیں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے قبضہ گروپوں کے بارے میں آرڈیننس کے ذریعے ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مل کر جو فیصلے کر رہی تھی اور کئی جائیدادوں کے گھنٹوں میں فیصلے کیے گئے جسے سراہا جا رہا تھا اس پر لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے جو فیصلہ دیا اور پراپرٹی اونر شپ قانون معطل کر کے قبضے واپس کرنے کے احکامات جاری کیے اس پر وکلاء برادری تو بہت خوش ہے لیکن پبلک میں اس پر طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں ۔
سیاسی پنڈت تو اس کا کچھ کا کچھ مطلب نکال رہے ہیں کوئی اسے اشارہ قرار دے رہا ہے تو کوئی اس کے پس پردہ چھپی حکمتوں کو تلاش کرنے پر زور دے رہا ہے یہ تاثر عام ہو چلا تھا کہ عدالتیں آج کل حکومتی معاملات کا نوٹس نہیں لیتیں اور اکثر کیسز میں فیصلے حکومت کے حق میں آتے ہیں لیکن مذکورہ بالا کیس میں پنجاب حکومت کو بڑا سیٹ بیک ہوا ہے لیکن عدالتی ساکھ پر اچھا اثر پڑا ہے پنجاب حکومت اس کا توڑ نکال رہی ہے دیکھتے ہیں پنجاب حکومت اس میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے پنجاب اسمبلی میں اس پر کافی لے دے ہوئی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے اس فیصلے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
پنجاب میں اس قانون پر ہر سطح پر بحث مباحثے ہو رہے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں لوگ اس کے جو جومطلب نکال رہے ہیں ان کے اثرات کو تو زائل نہیں کیا جا سکتا لوگ تو حالات وواقعات کو جوڑ کر کئی کئی تھیوریاں تیار کر لیتے ہیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دینا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل خان آفریدی کا دورہ لاہور کو ملا کر یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اس وقت تحریک انصاف سے مذاکرات کی ضرورت کو کیوں کر محسوس کیا جانے لگا ہے اس وقت تسلسل کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں لوگ تو سہیل خان آفریدی کے دورہ لاہور کو بھی اشارہ قرار دے رہے ہیں ان کا تھیسز ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کہیں نہ کہیں سے اجازت لے کر آئے ہیں اور اس کا مقصد پنجاب حکومت کو باور کروانا ہے کہ آہستہ چلیں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کے دورہ لاہور سے بھی کئی کہانیاں نتھی کی جا رہی ہیں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں تحریک انصاف نے حکمت عملی تبدیل کر کے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی بجائے پنجاب کو ٹارگٹ کر لیا ہے قبل ازیں پنجاب میں تحریک انصاف کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی تھی پنجاب حکومت سب سے سکھی تھی پنجاب حکومت تو اپوزیشن کی رڑک بھی محسوس نہیں کرتی تھی اور جو جی میں آتا تھا اس کے نتائج کو بالا طاق رکھ کر کھل کر کھیل رہی تھی جتنا فری ہینڈ پنجاب حکومت کو تھا پاکستان میں کسی اور حکومت کو نہ تھا ۔
اگر تحریک انصاف پنجاب کو احتجاج کا مرکز بنا لیتی ہے تو سب سے زیادہ مسئلہ پنجاب حکومت کو ہو گا ابھی تک تو پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کو پر مارنے کی بھی اجازت نہیں دی کچھ لوگ سہیل خان آفریدی کو سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کے دورہ لاہور کی طرح ایک واقعہ قرار دے رہے ہیں لیکن یہ واضح ہو کہ علی امین میوچل انڈر سٹینڈنگ سے لاہور آئے تھے ان کی سرگرمیاں محدود تھیں لیکن سہیل خان آفریدی کی سرگرمیاں تحریک انصاف کے ورکرز کو متحرک کرنے کی کوشش ہے وہ پارٹی رہنماوں کے گھر گئے لبرٹی مارکیٹ گئے جیل میں بند تحریک انصاف کے رہنمائوں کو ملنے گئے(وہ علیحدہ بات ہے کہ انھیں جیل میں کسی لیڈر کو نہ ملنے دیا گیا ) وہ پنجاب اسمبلی بھی گئے ان کی لاہور میں سرگرمیوں کا مقصد یہ تھا کہ ایک تو اپنی جماعت کے رہنماوں کو باور کروایا جائے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت آپ کے پیچھے کھڑی ہے آپ لاوارث نہیں۔
دوسرا مایوس سیاسی ورکرز کو متحرک کرنا مقصود تھا تیسرا خوف کی فضا کو ختم کرنا تھا پنجاب حکومت کو چاہیے تھا یا تو وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کو دورہ ہی نہ کرنے دیتی یا پھر وہ ان کو وزیر اعلی پنجاب یا سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے کھانے یا چائے کی دعوت پر مدعو کرتی اور ان کو محدود جگہوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے جانے دیا جاتا سہیل خان آفریدی کے ساتھ مس ہینڈلنگ ہوئی ہے جس کا تاثر اچھا نہیں گیا ایک تو پنجاب اسمبلی کے اندر سہیل آفریدی کو روکا نہیں جانا چاہیے تھا ان کے محدود لوگوں کو باعزت طریقے سے اسمبلی کا وزٹ کروایا جاتا صحافیوں کو بھی غیر اخلاقی سوال نہیں کرنے چاہیں تھے ۔
ان سوالوں سے واضح ہو رہا تھا کہ یہ پلانٹڈ سوال تھے ان کا مقصد سہیل خان آفریدی کو بےعزت کرنا تھا ایسے سوال سلجھے ہوئے صحافیوں کو ویسے ہی زیب نہیں دیتے سہیل آفریدی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا یہ نہ تو لاہور اور نہ ہی پنجاب کی روایات ہیں پبلک نے اس کو اچھا نہیں سمجھا تحریک انصاف والے اس کو سٹریٹ موومنٹ قرار دے رہے ہیں اور اب خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی پنجاب کے بعد سندھ اور کراچی جانے کا اعلان کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ پورے پاکستان میں تحریک انصاف کو متحرک کرنے کی مہم پر نکل آئے ہیں ۔
اس کے بعد وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی جا سکتے ہیں کیا زیادہ بہتر نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں کو اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں تک ہی محدود رکھا جاتا اگر وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کی سرگرمیوں کو محدود نہیں کیا جاتا تو اس کا واضح مطلب ہو گا کہ تحریک انصاف کو کہیں نہ کہیں سے کچھ ریلکسیشن مل گئی ہیں ان سہولتوں کا مقصد کیا ہے اور تحریک انصاف سے مذاکرات سے کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا تاہم اب کچھ نہ کچھ نیا ہونے جا رہا ہے۔



