پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

اعلیٰ تقرریاں،میرٹوریس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس رانابہترین انتخاب،نظراندازکرنے پرتحفظات

ڈاکٹر محمد یونس گولڈ میڈل یافتہ ماہر تعلیم ، تقرریوں سے متعلق افواہیں بھی زیر گردش ، مریم نواز شریف کو آخر مافیا کیا تاثر دینا چاہتا ہے ؟

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)ڈاکٹر یونس رانا نہ صرف ایک ممتاز محقق ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں۔ انہوں نے مختلف جامعات میں بشمول نارووال اور دیگر اداروں میں، وائس چانسلر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نہایت مہارت، دیانت اور وژن کے ساتھ انجام دی ہیں ان کی قیادت میں اداروں نے تعلیمی معیار، تحقیقی پیداوار اور انتظامی استحکام کے حوالے سے نمایاں ترقی کی۔

میرٹوریس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس رانا (تمغۂ امتیاز)، وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال، کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز اسلام آباد کے صدر کی جانب سے PAS گولڈ میڈل 2025سے نوازا جانا ان کی غیرمعمولی علمی، تحقیقی اور انتظامی صلاحیتوں کا واضح اعتراف ہے۔ یہ اعزاز انہیں ایک باوقار تقریب میں پیش کیا گیا، جو زرعی تحقیق، سائنسی ترقی اور تعلیمی فروغ کے میدان میں ان کی گرانقدر خدمات کا مظہر ہے۔

تاہم ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی اعلیٰ سطحی تقرریوں، خصوصاً وائس چانسلر کے حتمی انتخاب کا مرحلہ آتا ہے، تو میرٹ کے برعکس مختلف قیاس آرائیاں اور غیرشفاف رویے سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر بعض حلقوں کی جانب سے قبل از وقت نتائج کی بازگشت سنائی دینا، یا بے بنیاد تحفظات کا تاثر دینا، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

یہ پروپیگنڈہ کہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی وائس چانسلر UVAS بن گئے ہیں اور پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود (ڈین ویٹر نیر ی ایگریکلچر یونیورسٹی) وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی لگا دیئے گئے ہیں ۔اور پاکستان کے پہلے اور واحد میرٹوریس پروفیسر اور بہترین منتظم ڈاکٹر محمد یونس رانا (تمغۂ امتیاز) کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف کو آخر یہ مافیا کیا تاثر دینا چاہتا ہے ۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایک ایسے قابل، تجربہ کار اور قومی سطح پر تسلیم شدہ ماہر تعلیم کو نظرانداز کرنا آخر کس مفاد میں ہے؟ اگر واقعی میرٹ کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، تو یہ نہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ملکی تعلیمی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسے شخص کو، جس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہو اور قومی و بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دی ہوں، اہم ذمہ داریوں سے دور رکھ کر آخر کون سی قومی خدمت سرانجام دی جا رہی ہے؟ مافیا کے پروپیگنڈہ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ شفاف نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی عہدوں پر تقرریوں کو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق یقینی بنایا جائے، تاکہ ملک کا تعلیمی مستقبل مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button