انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پاکستان امن کا ضامن، اسلام کا پاسبان

مدبر حکمتِ عملی، مضبوط دفاع اور خفیہ قربانیاں پاکستان امتِ مسلمہ کا حقیقی بازو ہے۔بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں، ان کے میڈیا پر بیٹھے بڑے بڑے دفاعی، سیاسی اور معاشی تجزیہ کار اپنی حکومت کی نالائقی پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان کی کامیاب خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر حیران اور پریشان ہیں۔ پاکستان کی حکمتِ عملی اور مدبر سوچ نے انہیں یہ باور کرا دیا ہے کہ اب پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ آج پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں، اس کے ہر فیصلے کو اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت نہ صرف اسلامی ممالک کا دباؤ بازو ہے بلکہ دنیا کے امن کا تاج اپنے سر پر سجائے بیٹھا ہے۔

پورے عالمِ اسلام کو یہ حقیقت سمجھ آ چکی ہے کہ ان کی بقا پاکستان کی سلامتی اور مضبوطی میں ہے۔ پاکستان دفاعی لحاظ سے تو پہلے ہی ایک ناقابلِ تسخیر قوت ہے، مگر اب اس کی معیشت کو مستحکم کرنا بھی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ممالک پاکستان کی معیشتی اور دفاعی مضبوطی کو اپنی اجتماعی حفاظت کا ضامن سمجھتے ہیں۔

بھارت کی نالائق انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اپنے سیاستدانوں اور دفاعی اداروں کو غلط رپورٹنگ کے ذریعے اندھیرے میں رکھا۔ وہ پاکستان کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھتے رہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ پاکستان کے دفاعی اور انٹیلیجنس ادارے اسی خاموشی میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے اور مضبوط کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالیہ بھارتی جنگی جنون کے موقع پر پاکستان نے ان کے اربوں ڈالر کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیا اور ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے رافیل طیاروں اور S-400 جیسے جدید ترین نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا، تو دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ایسی قوت ہے جسے ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔

حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ اگر امن چاہتے ہو تو طاقت کا مظاہرہ کرو۔ پاکستان نے بھی یہی کیا۔ جب دشمن نے بزدلانہ حملے کیے تو پاکستان کے لیے ناگزیر ہو گیا کہ بھرپور جواب دیا جائے۔ پاکستان نے امن کے لیے طاقت کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے دنیا بھر میں اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کر دیا۔ یہاں تک کہ امریکہ جیسی بڑی طاقت بھی بھارت کے حق میں کھڑی نہ رہ سکی اور بھارت کو گھٹنے ٹیک کر امریکہ سے ثالثی کی درخواست کرنا پڑی۔
پاکستان نے کبھی اپنی طاقت کو صرف اپنا نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ اسے امتِ مسلمہ کے تحفظ کے لیے استعمال کیا۔ اسرائیل کی جانب سے بزدلانہ حملوں اور فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد جب قطر کی خودمختاری پر بھی حملہ کیا گیا، تو پاکستان نے آرمی چیف اور وزیراعظم کی قیادت میں قطر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ امتِ مسلمہ تنہا نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب عالمِ اسلام نے پاکستان کو اپنا دفاعی بازو تسلیم کرنا شروع کیا۔
اسی تسلسل کی سب سے بڑی مثال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ ہے جس نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ معاہدہ صرف فوجی تعاون نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی حفاظت کا عزم ہے۔ بھارت اس معاہدے پر سب سے زیادہ تلملا رہا ہے، ان کے میڈیا پر یہ چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے کہ "سعودی عرب اور پاکستان مل کر ایک نیا نیٹو بنا رہے ہیں!”۔ دراصل یہ شور ان کے دل کے اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر پاکستان اور سعودی عرب ایک ساتھ آ گئے تو بھارت اور اس جیسے ممالک کے خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہو جائیں گے۔
پاکستان کا مقصد کبھی دنیا کے امن کو خراب کرنا نہیں رہا۔ اس کے اداروں کا ہدف ہمیشہ عالمی امن کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر کوئی پاکستان کی سالمیت یا عالمِ اسلام کی عزت پر میلی نگاہ ڈالے گا تو پاکستان ہر وقت چاک و چوبند کھڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آرمی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شکل میں ایک ایسی قیادت عطا کی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالمِ اسلام کی امیدوں کا مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی اداروں کی عزت کو بحال کیا اور دنیا بھر میں ملک کے وقار کو بلند کیا۔

ان سب کامیابیوں کے پیچھے وہ خفیہ طاقتیں بھی ہیں جنہیں خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ ہمارے انٹیلیجنس ادارے، جنہوں نے دن رات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے رازوں کو بے نقاب کیا اور بروقت و بہترین معلومات فراہم کیں، دراصل وہ خاموش محافظ ہیں جنہوں نے پاکستان کو دنیا کے سامنے سیاسی، دفاعی اور انٹیلیجنس میدان میں ایک بہترین قوت ثابت کیا۔پاکستان آج صرف ایک ملک نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا حقیقی بازو ہے، امن کا ضامن اور اسلام کا پاسبان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button