پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندیوں کی تیاریاں
کم عمر افراد کےٹک ٹاک اور انسٹاگرام استعمال پر پابندی لگائی جائے:فلک ناز چترالی ،ادارے مشترکہ حکمتِ عملی بنائیں:طارق فضل، عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ عدالت و جیل حکام کے مابین :وفاقی وزیرقانون
اسلا م آباد:(ویب ڈیسک) سینٹ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پراظہارتشویش کرتے ہوئے فوری اقدامات پر اتفاق کیاگیا۔ ایوان بالا کو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا 18سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،ریاستی اداروں کو مشترکہ اور جامع حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی، اگر سینیٹ خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرے تو حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی۔
توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہاپاکستان میں 18سال سے کم عمربچے سوشل میڈیا پلیٹ فارم جن میں ٹک ٹاک سمیت دیگر شامل ہیں بغیر کسی پابندی کے استعمال کر رہے ہیں جس سے ان کی ذہنی صلاحیت متاثر ہورہی ہے، حکومت 18سال سے کم عمر بچوں کے ٹک ٹاک اور انسٹا گرام استعمال کرنے پر پابندی عائدکرے اور اور ایوان کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے ۔
سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہاسوشل میڈیا والدین کے لئے ایک سیریس مسئلہ بن چکا ، اس پر مل کر کام کرنا ہوگا اور تعلیمی اداروں میں اس پر کونسلنگ ہونی چاہیے،یہ سائیبر کرائم میں بھی آجاتا ہے ،اگر اس وقت بچوں کو صحیح کونسلنگ نہ کی گئی تو اس سے مزید مسائل بن سکتے ہیں، تعلیمی نصاب میں بھی سوشل میڈیا کے خطرات کے حوالے سے مضامین شامل کئے جائیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کو قائمہ کمیٹی میں بھجوانا چاہیے ، اس مسئلے میں صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ تعلیم ،آئی ٹی اور داخلہ کے افسران مل بیٹھ کر اس کا حل نکالیں،حکومت کس حد تک اس میں مداخلت کر سکتی ہے، اس پر متفقہ کوششوں کی ضرورت ہے، سینیٹر شیری رحمن نے کہایہ مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے، اس حوالے سے اس ایوان کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے،اس مسئلے میں صوبائی حکومتوں کا بھی عمل دخل ضروری ہے ،چیرمین سینیٹ کی اجازت سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں کئی کمیٹیوں کے اراکین شامل ہوں ، ہمیں سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے، قائداعظم یونیورسٹی کے اندر کسی قسم کا کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا۔
سینیٹر افنان اﷲ خان نے کہاکہ ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے ایک بل ایوان میں جمع کرا چکا ہوں اس بل کو بھی شامل کیا جائے۔ شیری رحمن نے کراچی میں پانی کے ٹینکر جلائے جانے کے معاملے پر سندھ حکومت کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔سینیٹردوست محمد خان نے کہاکہ کراچی میں ایک ڈمپر نے بچے کو کچل دیا تھا جس کے بعد مشتعل ہجوم نے 7/8ٹینکرز جلا دئیے گئے تھے، اس کا نوٹس لیا جائے اور جن کے ٹینکرز جلائے گئے ہیں ان کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ سینٹ نے وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناء اﷲ کی جانب سے پیش کئے جانے والےتین مختلف بلز کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا۔
رانا ثناء اﷲ نے ٹریول ایجنسی (ترمیمی) بل 2026ء ، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز (ترمیمی) بل 2026ء اور پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس(ترمیمی) بل 2026ء پیش کئے ۔ایوان بالا نے پی ٹی آئی کے مرحوم اقلیتی سینیٹر جان کینتھ ویلیم کی خدمات کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ،قرارداد ،سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے پیش کی۔سینیٹر شیری رحمن نے مرحوم سینیٹر کے اہل خانہ کے ساتھ ایوان کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ایوان بالا نے اسلام آباد اور چترال میں درختوں کی بے دریغ کٹائی سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے منصو بوں میں فنڈز استعمال نہ ہونے کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ ایوان بالا کو وفاقی وزیر برائے انسداد غربت سید عمران احمد شاہ نے بتایا ہے کہ چترال کے طلباء کو بیت المال سے وظائف کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ عدالت و جیل حکام کے مابین ہے ،ہمارا کنٹرول نہیں۔سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا دو ماہ سے بانی پی ٹی آئی تک کسی کی رسائی نہیں،سینیٹرعلی ظفر نے کہا عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کروائی جارہی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا میں خود اس حوالے سے رپورٹ آئندہ ہفتے سینٹ میں پیش کروں گا۔



