انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

امریکہ کا جنگی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ، ایران پر نئی پابندیاں عائد

پابندیوں میں 11شخصیات، امارات،سنگاپور،برطانیہ میں قائم کمپنیوں کونشانہ بنایا گیا،جارحیت ہوئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے:ایران،امریکہ طاقت کے استعمال کی ضد ترک کر دے:چین، سوئٹزرلینڈ کی ثالثی کی پیشکش

واشنگٹن،تہران (ویب ڈیسک)ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے جنگی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ نے ممکنہ طور پر ایران کی جانب پیش قدمی کیلئے مشرق وسطیٰ میں صف بندی شروع کردی ہے۔ پینٹاگون نے بتایا کہ بحیرہ جنوبی چین سے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا ہے۔

trump-iran

جنگی بیڑے میں طیارہ بردار جہاز، ڈسٹرائر، تباہ کن جہاز اور جنگی کشتیاں شامل ہیں۔ یہ بیڑا اب امریکی سینٹ کام کے ماتحت ہوگا۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تمام ممکنہ آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں، اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد جاری رکھا تو شدید اور بڑی فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں جن میں ایران سے تعلق پرشخصیات اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

iran

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ایرانی نژاد 11شخصیات جبکہ متحدہ عرب امارات، سنگاپور، برطانیہ اور ایران میں قائم 12کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔دریں اثنا سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب مائیک والز نے کہا کہ ایران خبردار رہے صدر ٹرمپ نےتمام آپشنز میز پر رکھے ہوئے ہیں، صدر ٹرمپ باتوں نہیں ایکشن والے شخص ہیں۔ایران میں قتل عام رکنا چاہیے۔

iran-presedent -pazshakyan

انہوں نے ایران پر صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بہت ہو گیا، ایرانی حکومت کے مظالم ختم کرنا ہوں گے۔اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ہم کشیدگی چاہتے ہیں نہ تصادم، اگر جارحیت کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ امریکہ کا ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا شرمناک ہے۔ایران معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے مگر براہ راست یا بالواسطہ جارحیت کی جاتی ہے تو ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔

araghchi iran

اقوام متحدہ میں چین کے قائم مقام مستقل مندوب سن لے نے کہا کہ چین ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی کی سخت مخالفت کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات کا فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا چاہیے۔امریکہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی ضد ترک کر دے، طاقت مسائل کو حل نہیں کر سکتی بلکہ انہیں مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیتی ہے۔

علاوہ ازیں سوئٹزرلینڈ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔سوئس وزارت خارجہ کے مطابق محکمہ بین الاقوامی سلامتی کے سربراہ گیبریل نے ایرانی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی لاریجانی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور کشیدگی میں کمی کیلئے مدد کی پیشکش کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button