انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پر تشدد احتجاج سازش، ٹرمپ ’’ مجرم ‘‘ ایرانی سپریم لیڈر: ایران رہنے کے لئے بدترین جگہ، نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا، امریکی صدر کا جواب

حالیہ بغاوت کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی، منظم کارروائیاں کی گئیں، مقصد ایران پر غلبہ پانا تھا، امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث، ایران جنگ نہیں چاہتا مگر مجرموں کو نہیں چھوڑے گا، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک اعلان

تہران، واشنگٹن، ماسکو، اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد میں امریکہ اور اسرائیل پر براہِ راست مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’ مجرم‘‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ ایران مخالف احتجاجی لہر اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بیرونی قوتوں کی منظم سازش کا نتیجہ ہے۔ سپریم لیڈر نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک عناصر نے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور احتجاج کے دوران ہزاروں افراد کو ہلاک کیا۔ ان کے مطابق خونریزی اور بدامنی کے پیچھے غیر ملکی نیٹ ورکس کارفرما تھے جنہوں نے زمینی سطح پر کارروائیاں کیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگرچہ ایران سرحدوں سے باہر کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے گا، تاہم ذمہ دار عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن داخلی یا بین الاقوامی مجرموں کو سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ بی بی سی کے مطباق آیت اللہ خامنہ ای نے تقریب سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ حالیہ بغاوت کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی۔ امریکہ کی جانب سے منظم انداز میں کارروائیاں کی گئیں، جس کا مقصد ایران پر غلبہ پانا تھا۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کے آغاز سے آج تک امریکہ ایران پر اپنی بالادستی کھو چکا ہے، جسے وہ دوبارہ اپنی فوجی، سیاسی اور اقتصادی بالادستی کے تحت لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں ماضی کی متعدد بغاوتوں میں عام طور پر امریکی یا یورپی سیاستدانوں کے دوسرے درجے کے رہنما اور ذرائع ابلاغ مداخلت کرتے رہے ہیں۔ مزید برآں ایرانی وزارت خارجہ نے جی سیون ممالک کے بیان کو مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں تشدد اور دہشتگردی میں اسرائیلی کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں پُرامن احتجاج کو صیہونی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے پرتشدد بنایا، 8سے 10جنوری کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، تشدد اور دہشتگردی میں اسرائیلی کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کا واضح ثبوت ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، آئین کے تحت شہری حقوق کا پابند ہے، ریاست شہریوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کی مکمل ذمہ داری نبھائے گی اور بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کا دفاع کیا جائی گا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہ یکہ جی سیون ممالک کا ایران کے اندرونی معاملات پر بیان مداخلت پسندانہ ہے، انسانی حقوق کے نام پر امریکی قیادت میں جی سیون کا دوہرا معیار بے نقاب ہوگیا ہے، جی سیون ممالک خود انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق فلسطینی عوام کی نسل کشی میں جی سیون ممالک اسرائیل کے ساتھ براہ راست شریک ہیں، جی سیون کو انسانی حقوق پر کسی کو لیکچر دینے کا اخلاقی جواز حاصل نہیں، ایرانی قوم 2025ء میں اسرائیلی حملوں میں شہری ہلاکتوں کو فراموش نہیں کرے گی۔ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ جی سیون ایران کے داخلی معاملات میں غیرقانونی مداخلت بند کرے، غیرقانونی پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی حقوق کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے، انسانی حقوق کے نام پر تشدد اور دہشتگردی کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی فارسی زبان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور امریکہ کے خلاف بیانات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کے اثاثوں پر حملہ کرے گا تو اسے ایک نہایت طاقتور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ان کے سامنے تمام آپشن موجود ہیں۔ پیغام کے ایک اور حصے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور دوبارہ خبردار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے بیان کے ردعمل میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے حکمران حکومت چلانے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ ٹرمپ نے کہا کہ قیادت کا مطلب احترام ہے، خوف اور موت نہیں، اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں کو قتل کرنے کے بجائے حکمرانوں کو ملک کو درست طریقے سے چلانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسے میں امریکہ میں کرتا ہوں۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ناقص قیادت کی وجہ سے ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے۔ ادھر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رابطے میں دونوں رہنمائوں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کیلئے عباس عراقچی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب ایران اور اسرائیل دونوں کا حلیف سمجھا جانے والا روس بھی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہو گیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ولادی میر پوتن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر نے پوتن کو ملک کے اندر صورتحال کو سنبھالنے اور اسے حل کرنے کے لیے ایرانی قیادت کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں سے آگاہ کیا۔
کریملن کے مطابق اس موقع پر زور دیا گیا کہ روس اور ایران دونوں اس بات کے حامی ہیں کہ ایران اور مجموعی طور پر پورے خطے میں جلد از جلد کشیدگی میں کمی لائی جائے، تاکہ پیدا ہونے والے مسائل کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جا سکے۔ پیسکوف نے یہ بھی بتایا کہ پوتن نے نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ روس بطور ثالثی اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو جلد ہی ایرانی صدر سے ہونے والی فون کال کے نتائج کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق روسی صدر کشیدگی کم کرنے کی حوصلہ افزائی کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button