گل پلازہ26زندگیاں نگل گیا، انسانی اعضا برآمد،سندھ حکومت کا امداد کا اعلان
کراچی:(ویب ڈیسک)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوگئے اور موجود افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کر دیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے،ریسکیو عملے کے افراد کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کمشنر کراچی حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، کچھ لاشوں کا ڈی این اے کروائیں گے جس کے بعد باقی لاشوں کی شناخت سامنے آئے گی تاحال 75 افراد لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید بنی کھوسہ نے بتایا کہ گل پلازہ عمارت کے مخدوش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم کرے گی، یہ ٹیم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد کرے گی اس کے بعد عمارت کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔
ایک دکاندار نے اپنی دکان تک پہنچنے کے لیے ایک ایکسیویٹر اور ڈرلنگ مشین استعمال کیا تاہم انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشین کو ہٹادیا۔ دکاندار رحمت اللہ نے بتایا کہ مشین لانے کا مقصد صرف دکان تک پہنچنے کا راستہ بنانا تھا، دکان میں ان کے دو بھتیجے، کوئٹہ سے آنے والا مہمان اور ملازمین موجود تھے۔
ایک نوجوان شدید دھویں کے باوجود دیواریں ٹٹولتا ہوا عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر بے ہوش ہوگیا،خالد نے بتایا کہ اس وقت دکان میں اس کے دو بھائی نعمت اور عبداللہ، کوئٹہ سے آنے والا کزن یوسف، تین ملازمین اور کچھ خریدار بھی موجود تھے، وہ اپنے ایک بھائی زبیر کے ساتھ باہر نکلا اور دیواریں ٹٹولتا ہوا باہر کی جانب بڑھا، اس وقت سانس لینے میں بہت مشکل ہورہی تھی مگر کسی نہ کسی طرح عمارت سے باہر آنے میں کامیاب تو ہوگیا مگر پھر اسے ہوش نہیں رہا، بعد میں اس کی آنکھ اسپتال میں کھلی۔
اس نے بتایا کہ گل پلازہ میں ان کی میز نائن فلور پر 144 نمبر کی دکان تھی۔ خالد نے بتایا کہ وہ گل پلازہ کے باہر اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ موجود ہے اور اندر رہ جانے والے بھائیوں کا منتظر ہے۔
بیک وقت تین جگہ آپریشن جاری، حتمی ہلاکتوں کی تعداد فی الحال نہیں بتاسکتے، 1122
ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کے مطابق حادثے کے مقام پر 5 مختلف نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، ایک خصوصی ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ کے عمل میں مصروف ہے تاکہ آپریشن کے دوران محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے، ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔
ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
لاپتا افراد کے ناموں کی فہرست سامنے آگئی
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔
حکومت سندھ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کردیا۔
کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پرسوں رات کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، گل پلازہ ہم سبھی کسی نہ کسی وقت جا چکے ہونگے، وہاں تقریباً سوا دس بجے کے قریب آگ لگنے کا واقعہ ہوا، ابھی تک وجوہات فائنل نہیں ہوئیں، اندازا ہے شاید شارٹ سرکٹ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کی آگ اب بھی 10 فیصد باقی ہے، عمارت میں اندر جانے کے راستے نہیں ہیں، فائر سیفٹی آڈٹ 2024 پر فوری طور پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اس رپورٹ میں 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
مزید براں گل پلازہ میں نقشے کے برخلاف خارجی راستوں اور پارکنگ میں مجموعی طور پر خلاف ضابطہ 179 دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا ہے، امکان ہے کہ آگ لگنے پر خارجی راستوں میں بنی دکانیں بھی لوگوں کے انخلا میں رکاوٹ بنیں۔
گل پلازہ کراچی کے اُن چند صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اسباب بنے، ان کا تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا لیکن چند بے ضابطگیاں تو ہوئیں۔
نقشے کے مطابق جتنی دکانیں بنانے کی اجازت دی گئی اس سے کئی زیادہ دکانیں بنائی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنائیں گئیں۔



