سوئی ناردرن گیس کمپنی میں رشوت کابازارگرم،شہری کنکشن کیلئے خوار
گلشن راوی،شادباغ،چائنہ سکیم ،عالیہ ٹائون،ملتانی کالونی ،کرول گھاٹی،رائیونڈسمیت لاہور کے کئی علاقوں میں عملہ کا مک مکا ،شہری تحمل سے کام لیں:حکام سوئی ناردرن گیس کمپنی
لاہور :(بیوروچیف/سیدظہیرنقوی) سوئی ناردرن گیس کمپنی میں مبینہ طور پر نئے گیس کنکشن کے حصول کیلئے رشوت کا بازارگرم ہوگیا ،نارمل فیس جمع کرانےوالوں کو چکر لگوائے جانے لگے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی ماہ گزرنے کےباوجود کنکشن نہیں لگائے جارہے عملہ سامان کی کمی کے بہانے بھاری رشوت کا مطالبہ کرتا ہے ،شہریوں کا کہنا ہےکہ گیس کے نئے کنکشن کے حصول کے عمل میں رشوت کا کھلم کھلا اور زور و شور سے استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو حکومتی محکمے کی واضح نااہلی اور غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
شہریوں کے مطابق رشوت دینے والوں کو مقررہ قواعد و ضوابط اور ضروری ہوم ورک مکمل نہ ہونے کے باوجود نئے کنکشن جاری کر دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ عام عوام شدید پریشانی، ذلت اور خوار ہونے کا شکار ہیں۔
اس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان لگتا ہے، جبکہ غریب شہری رشوت نہ دینے کی وجہ سے بنیادی سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں، جو حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا دھبہ ہے۔
گلشن راوی،شادباغ،چائنہ سکیم ،عالیہ ٹائون،ملتانی کالونی ،کرول گھاٹی،رائیونڈسمیت لاہور کے کئی علاقوں کےرہائشیوں کاکہنا ہےکہ
سوئی ناردرن گیس کمپنی کا عملہ گیس کنکشن کیلئے خوار کررہا ہے ،سوئی گیس دفاتر کے چکر لگا لگا کر شہری پریشان ہو چکے ہیں عملہ کبھی سامان نہ ہونے کا بہانہ اور کبھی مختلف حیلے بہانوں سے خوار کررہے ہیں۔
سی این این اردوڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ ہزاروں روپے فیس جمع کروانے کے باوجود پریشان کیا جارہا ہے محکمہ میں رشوت کا بازار گرام ہے۔
دریں اثنا حکام کا کہنا ہے کہ فاسٹ ٹریک کیٹیگری کے تحت تقریباً 4 لاکھ نئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 29 ہزار کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ نارمل میرٹ کیٹیگری کے تحت مزید 3 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
سوئی ناردرن حکام نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور کمپنی کے عملے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ نئے کنکشنز کی فراہمی باقاعدگی سے کی جا سکے۔



