پاکستانی معیشت کی حیثیت اس بندریا کی سی ہے جو”عالمی اقتصادی دہشت گرد“ آئی ایم ایف کی ڈگڈگی پر برسوں سے ناچ رہی ہے اور پاکستانی قوم اس تماشے میں مدتوں سے ”تماشائی“ کا کردار ادا کررہی ہے جبکہ پاکستان کے حکمران مداری کے ”بچہ جمورا “کی طرح ”تماشائی“کی جانب سے ملنے والے پےسوں کو اکٹھا کر نے میں مگن ہیں۔
بدقسمتی سے ہر حکمران جماعت کی یہی پالیسی رہی ہے کہ مڈل کلاس کی کمر توڑو اور اشرافیہ کو بچائو ۔پاکستان کے حکمران قوم کو آئی ایم ایف کی شرائط کے نام پر خوفزدہ کرکے ان پر ٹیکس، مہنگائی اوربیروزگاری مسلط کرتے ہیں جبکہ عوام کا بنیادی حق تعلیم، صحت، صاف پانی روزگار، امن وامان اور انصاف انہیں نہیں دیتے ٹیکس تو ان کاموں کیلئے وصول کیا جاتا ہے اس سے بڑا دھوکا قوم کے ساتھ اور کیا ہوگا۔ہمارے حکمرانوں نے ملکی معیشت کوعالمی سودخور نظام کے شکنجے میں پھنسا دیاہے جس کی وجہ سے عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ اشرافیہ کو مفت پیٹرول ، مفت رہائشیں ، مفت سفرکی سہولت، مفت علاج ، مفت سرکای گاڑیوں سمیت دیگر مراعات دی جا رہی ہیں جو ظلم کے مترادف ہے۔
پاکستان بدقسمت ملک ہے کہ اس کی سیاست اور معیشت عوام دشمن قوتوں کے کنٹرول میں ہیں اور ان قوتوں کا مقصد اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اور اس کے لیے امریکی ماتحت اداروں کی کاسہ لیسی اور غلامی کرنا ان کا اوّلین مقصد حیات ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سیاسی اور ”غیر سیاسی“ اشرافیہ اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں غلامی کا طوق پہن کر عوام دشمن اقدامات کے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ کچھ بھی فروخت کرسکتے ہیں چاہے وہ جوہری پروگرام ہی کیوں نہ ہو۔عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے جو ”پھانسی کاپھندا“تیار کیا ہے ہمارے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور اپنی عیاشیوں کے لیے ملک و قوم کو اس ”پھانسی کے پھندے“ پر چڑھا رکھاہے۔
انٹر نیشنل مانیٹرنگ فنڈ( آئی ایم ایف)ایک ”عالمی اقتصادی دہشت گرد“ ادارہ ہے جبکہ ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکا کے حکمران اس کے آلہ کار بن کر اپنی قوم کو افلاس و فاقہ کشی کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ آئی ایم ایف 80 کے قریب ملکوں کو قرض مہیا کرتا ہے مگر ان میں سے کسی ایک ملک کی معیشت بھی صحت مند، مضبوط اور توانا نہیں ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ آئی ایم ایف کا مقصد کمزور قوموں کو معاشی اعتبار سے طاقت ور بنانا نہیں بلکہ انہیں اپنا غلام بنانا ہے پاکستان کی معیشت اور معاشی حقائق خود اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا قرض اگر پاکستان کی معیشت کیلئے مفید ہوتا تو پاکستان کا قرض مسلسل نہ بڑھتا بلکہ وہ اس سطح پر منجمد رہتا یا اس میں مسلسل کمی واقع ہوتی رہتی ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہمیں سود ادا کرنے کیلئے بھی آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑتا ہے۔ قومیں صرف اپنی ”سیاسی آزادی“سے نہیں، اپنی ”معاشی آزادی“ سے بھی پہچانی جاتی ہیں، مگر جیسے ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے ہمیں کبھی امریکا کے شکنجے سے نکلنے اور سیاسی آزادی حاصل نہیں کرنے دی اسی طرح انہوں نے ہمیں شعوری طور پر معاشی آزادی سے بھی محروم رکھا۔ پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے ”معاشی دہشت گردوں “کے ہاتھ میں ہے۔
اگربجٹ اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ہماری ”معاشی غلامی“ پوری طرح آشکار ہوجاتی ہے ،ہمارے تمام حکمرانوں نے ملک کی معیشت کو ”قرضوں کی معیشت“ نہ بنایا ہوتا تو آج طرح طرح کے معاشی، سیاسی، تزویراتی اور دفاعی خطرات ہمارے سروں پر نہ منڈلا رہے ہوتے۔تاریخی حقائق سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے ” دجال “ کے شیطانی نظام کو پوری دنیا میں نافذ کرنے کے مشن پر گامزن تنظیموں ” فری میسن ،المناٹی اور کمیٹی آف 300 “کے اہم ترین ہتھیاروں کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ہتھیاروں کا مقصد غریب اور کمزور بالخصوص اسلامی ممالک کی معیشت کو بحران سے نکالنا نہیں بلکہ اسے بحران میں مبتلا کرنا اور بحران میں مبتلا ”رکھنا“ ہے تاکہ دجال کا شیطانی نظام نافذ کیا جا سکے ان دجالی تنظیموں کی معاونت ،امریکا ، اسرا ئیل ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائز یشن ، اقوام متحدہ اور نیٹو فورسز کر رہے ہیں۔
پاکستان کی پارلیمان میں جاگیرداروں اور کارپوریٹ مالکان کی بھرپور نمائندگی ہے اور زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں کے ممبران سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی جاگیردار یا کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی مراعات ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو غریب عوام کو دی جانے والی مراعات اور سبسڈیز کے خاتمے پر بحث کی جاتی ہے اور پھر اسے ختم بھی کردیا جاتا ہے۔
اشرافیہ کو ملنے والی مراعات زیر بحث ہی نہیں آتیں کیوں کہ پارلیمان میں موجود نمائندگان طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ صدر مملکت ، وزیراعظم، وزرا، مشیران و معاونین اور بیوروکریٹس کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کی مد میں قومی خزانے سے ہونے والے اخراجات پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں جتنے بھی سیاست داں موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے طبقہ اشرافیہ سے ” فیض“ نہ اٹھایا ہو ، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں ، ایسے میں کون اس پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔
کاش، ہمارے حکمران عام پاکستانیوں کے چہرے کبھی غور سے دیکھیں جن کے چہروں پر حسرت نمایاں نظر آتی ہے اور آنکھوں میں آنے والے دنوں کے وسوسے اور خدشات سر اٹھاتے ہیں جبکہ ملک کی ہر نوع کی سرکاری اشرافیہ کے پرآسائش طرز زندگی پر پاکستان کے خزانے سے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین کینٹین سے جو کھانا کھاتے ہیں، اس پر بھی انہیں سبسڈی دی جاتی ہے جبکہ عوام کیلئے سبسڈی ختم کر دی گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست، معیشت، نظام، عدل سب تباہ ہوگیاہے۔ پاکستانی معیشت اس جگہ پہنچ گئی ہے کہ ہر آنے والی حکومت یہ کہتی ہے کہ اسے آئی ایم ایف سے کیے جانے والے معاہدوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے کیے ہوئے معاہدوں کا بوجھ آئندہ آنے والی حکومت کو اٹھانا ہوگا۔
ایٹمی پاکستان کا ایک عام شہری قرض کے بوجھ تلے دبا ہواہے، جہاں مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہو، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہو، 40 فی صد سے زائد افراد خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، جس ملک کی شرح خواندگی فخر کے قابل نہ ہو، جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہوں، جہاں بے روزگاری کی وجہ سے گزشتہ چار سال میں 32 لاکھ سے زائد نوجوان بہتر روزگار کے لیے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاچکے ہوں،جہاں 96 فی صد شہری اور 89 فی صد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہ ہو،جہاں باپ اپنے بچوں کی خواہشات نہ پوری کرنے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہا ہو، بچے فروخت کیے جارہے ہوں۔
خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہو، مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہو، غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں، وہاں کے ارکان پارلیمنٹ شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہوں ،اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ حکومتی ارکان اور عوامی نمائندوں کو غریب عوام کے مسائل و مشکلات کی قطعاً پروا نہیں، ان کی بلا سے کوئی مرے یا جیئے۔
گزشتہ سال عوامی نمائندوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو جواز بنا کر اپنی تنخواہوں میں لاکھوں روپے اضافہ کروایا تھا،مزے کی بات یہ تھی کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے، ”ووٹ کو عزت دو“ کے آرزو مند، اور ملک میں ”انصاف“ کا بول بالا کرنے کا عزم رکھنے والوں نے مراعات کے حصول کیلئے اپنے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر نظر آئے اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے وقت کوئی عار محسوس نہیں کی، نہ انہیں عوام یاد آئے نہ عوامی مسائل، اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کرانے والوں نے عوام کا نہیں سوچا۔نہ عوام کی معاشی مشکلات کا خیال کیا نہ ہی اپنے اس حلف کا پاس رکھا جس میں درج تھا کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی و عوامی مفادات پر ترجیح دیں گے۔
یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنا نہ حکومت کی ترجیح ہے نہ ان سیاسی جماعتوں کی جو عوام کو سبز باغ دکھاکر ایوان تک پہنچتی ہیں، آج عوام کس صورتحال سے دوچار ہیں، انہیں کن معاشی مشکلات کا سامنا ہے؟ کوئی نہیں جو عوام کے لیے سوچے اور گوناگوں مسائل کے گرداب میں پھنسے عوام کے لیے کچھ کرے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ایک مزدور کی جو تنخواہ مقرر کی ہے کیا وہ تنخواہ ایک مزدور اور اس کے خاندان کے لیے کفالت کا باعث ہے؟ کیا اسے ملنے والی تنخواہ میں کوئی میں اقتصادی جادوگر چار پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا بجٹ بنا سکتا ہے؟۔حکمرانوں کے اقدامات سے عوام سخت مایوس اور بددلی ہو چکی ہے ، عوام کے اندر جو لاوا پک رہا ہے اگر وہ پھٹ گیا توحالات حکمران طبقے کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے لہٰذا حکمران حالات اس نہج پر پہنچنے سے پہلے ہی ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو مہنگائی ، بے روز گاری بچائیں ۔



