بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

کوٹ ادو: قانون کے ’’کفن ‘‘میں لپٹا سچ

کوٹ ادو کی مٹی آج بھی سوال پوچھ رہی ہے، مگر جواب دینے والا کوئی نہیں۔ ایک جوان، ایک بیٹا ایک باپ، ایک شہری عمران مانی ریاست کی تحویل میں آیا اور لاش بن کر واپس لوٹا یہ کوئی حادثہ نہیں تھا یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے آئینِ پاکستان قانون کی بالادستی اور پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں ۔
یہ کہنا اب مشکل نہیں رہا کہ عمران مانی کو شب خون کی طرز پر رات کے اندھیرے میں بغیر وارنٹ اور بغیر کسی قانونی کارروائی کے اس کے گھر سے اٹھایا گیا آئین کا آرٹیکل 4 شہری کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل 10 گرفتاری کے ضابطے واضح کرتا ہے مگر کوٹ ادو میں اس رات آئین کتابوں میں بند اور طاقت سڑکوں پر آزاد تھی
پھر وہی کہانی جو اس ملک میں بار بار دہرائی جاتی ہے حراست تشدد اذیت اور پھر اچانک ایک ایسا لفظ جو ہر سچ کو دفن کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ہارٹ اٹیک یہ لفظ اب محض بیماری کا نام نہیں رہا بلکہ پاکستان میں یہ ریاستی جبر کو چھپانے کی سرکاری اصطلاح بن چکا ہے
اگر عمران مانی کو واقعی دل کا دورہ پڑا تھا تو اس کے جسم پر نیل کیوں تھے؟ بازوؤں، ٹانگوں اور جسم کے مختلف حصوں پر زخم کس بیماری کی علامت تھے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو کسی جذباتی شخص کے نہیں، بلکہ عقل قانون اور ضمیر کے سوالات ہیں۔

معاملہ اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ انکشاف سامنے آتا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو مشکوک انداز میں تیار کیا گیا۔ اگر واقعی رپورٹ کو مسخ کیا گیا تو یہ صرف ایک انسان کو مارنے کا جرم نہیں، بلکہ سچ، انصاف اور قانون کو قتل کرنے کی کوشش ہے یہ جرم صرف ایک تھانے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا نظام اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے ۔

اسی لیے اس کیس کا ایف آئی اے کے پاس جانا ایک امید کی کرن ہے ایف آئی اے اب یہ طے کرے گی کہ عمران مانی کو اٹھانے کا حکم کس نے دیا تشدد کس نے کیا، رپورٹ کس نے بدلی، اور خاموش تماشائی کون بنے رہے کیونکہ جرم صرف وہ نہیں کرتا جو ہاتھ اٹھاتا ہے، جرم وہ بھی کرتا ہے جو آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عمران مانی عدالت سے مجرم ثابت نہیں ہوا تھا۔ آئین ہر شہری کو اس وقت تک بے گناہ مانتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے پھر پولیس کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک ہی رات میں تفتیش کار، جج اور جلاد بن جائے؟
کوٹ ادو پولیس کا یہ واقعہ کوئی انفرادی غلطی نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ کا عکس ہے جو خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی جب وردی قانون سے بالا ہو جائے، تو شہری کا وجود محض ایک عدد بن جاتا ہے جسے مٹا دینا آسان اور چھپا دینا اس سے بھی آسان ہوتا ہے۔

آج عمران مانی خود بول نہیں سکتا، مگر اس کے زخم بول رہے ہیں اس کی ماں کی خاموش آنکھیں بول رہی ہیں۔ اس کے بچوں کا مستقبل بول رہا ہے اگر آج بھی اس کیس کو دبا دیا گیا تو کل ہر شہری غیر محفوظ ہو گا، کیونکہ پھر کسی بھی دروازے پر رات کی دستک ہو سکتی ہے۔

ریاست کے پاس اب دو ہی راستے ہیں یا وہ مظلوم شہید عمران مانی کو انصاف دے کر یہ ثابت کرے کہ قانون واقعی زندہ ہے،یا پھر یہ مان لے کہ اس ملک میں طاقتور کیلئے سب کچھ جائز اور کمزور کیلئے صرف قبر ہے۔

چند ایک سوالات ہیں جو وقت خود دہراتا رہے گا،اگر عمران مانی قصوروار تھا تو اسے عدالت میں کیوں نہ پیش کیا گیااور اگر بے قصور تھا تو اسے زندہ کیوں نہ چھوڑا گیا؟اگر ان سوالوں کے جواب نہ ملے تو یہ کالم نہیں یہ ریاست کے نام ایک فردِ جرم ہے ،جس پر ایک ہی نام درج ہے عمران مانی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button