انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاسائنس و ٹیکنالوجیکاروبارکالم

خوف کی منڈی اور امتِ مسلمہ

طاقت، ایمان اور عالمی سیاست کا فلسفیانہ و سیاسی تجزیہ،دنیا ایک عجیب بازار میں تبدیل ہو چکی ہے—ایسا بازار جہاں روٹی، کپڑا یا سونا نہیں بکتا، بلکہ خوف، عدم تحفظ اور جنگ کے خواب فروخت ہوتے ہیں۔
یہ وہ عالمی اسلحہ منڈی ہے جہاں میزائل، لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، دفاعی نظام اور جنگی معاہدے انسانوں کی زندگیوں سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔
اس بازار کا سب سے بڑا مالک، قانون ساز اور طاقت کا مرکز امریکہ ہے، جبکہ اس کے مستقل گاہک مشرقِ وسطیٰ میں ہیں،یہ منڈی صرف اسلحہ نہیں بیچتی، یہ خوف کی نفسیات بیچتی ہے، قوموں کو ایک دوسرے سے ڈراتی ہے، اور جنگ کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیتی ہے۔
اسی خوف کی منڈی میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے طے پاتے ہیں، جہاں طاقت کا توازن سوچ سمجھ کر ایک سمت جھکایا جاتا ہے، اور عالمی سیاست کو میزائلوں اور معاہدوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔اسی بازار میں ایک دن بڑے سودے طے پائے۔امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کے 30 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر دینے کی منظوری دی، ساتھ ہی 1.8 ارب ڈالر کی جوائنٹ لائٹ ٹیکٹیکل گاڑیاں بھی فراہم کیں۔
اسی وقت سعودی عرب کو 9 ارب ڈالر کے 730 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کا اعلان ہوا۔پھر خبر آئی کہ سعودی عرب کو ایف-35 جنگی طیارے بھی ملیں گے، مگر ایک خاموش شرط کے ساتھ: یہ طیارے اسرائیل کے طیاروں سے کم اپڈیٹ، کم طاقتور اور کم سافٹ ویئر صلاحیت کے حامل ہوں گے، کیونکہ امریکی قانون کے مطابق اسرائیل کی فوجی برتری کو ہر حال میں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

یہ محض اسلحہ کی فروخت نہیں تھی، بلکہ طاقت کے توازن کو جان بوجھ کر ایک سمت جھکانے کی حکمتِ عملی تھی۔اسرائیل کو اپنے ایف-35 طیاروں میں خود ہتھیار شامل کرنے، ریڈار جامنگ سسٹم لگانے اور اپڈیٹس کرنے کی آزادی حاصل ہے، جبکہ مسلم ممالک کو دیا جانے والا اسلحہ مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں رہتا ہے۔
جدید ترین AIM-260 میزائل جیسے حساس ہتھیار مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ یوں ٹیکنالوجی کے اندر بھی ایک خاموش طبقاتی نظام قائم ہے۔طاقت کے اسی بازار میں بھارت بھی ایک ابھرتا ہوا خریدار تھا۔
مودی کے دور میں بھارت کی معیشت اور دفاعی صلاحیت تیزی سے بڑھی، دنیا اس کی بات سنجیدگی سے سنتی تھی۔ مگر طاقت کا نشہ عقل کو اندھا کر دیتا ہے۔
مئی میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور جنگی اقدامات اسی نشے کا نتیجہ تھے۔بھارت نے سمجھ لیا تھا کہ سامنے والا ملک معاشی اور سیاسی لحاظ سے کمزور ہے، مگر دنیا نے دیکھا کہ بڑی معیشت اور جدید ٹیکنالوجی بھی اگر حکمت اور اخلاق سے خالی ہوں تو تماشہ بن جاتی ہیں۔
امریکہ کی کہانی بھی اسی بازار سے جڑی ہے۔
ٹرمپ کے دور میں دفاعی صنعت کو معیشت کا ستون بنا دیا گیا۔ جنگ نہ بھی ہو، جنگ کا خوف کافی ہے کہ اربوں ڈالر کے معاہدے سائن ہو جائیں۔
اسلحہ انڈسٹری کا فارمولا سادہ ہے: خوف پیدا کرو، اسلحہ بیچو، معیشت مضبوط کرو۔خلیجی ممالک کو بتایا جاتا ہے کہ اگر زندگی چاہیے، اگر اسرائیل سے بچنا ہے، تو امریکہ سے جدید اسلحہ خریدنا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اسلحہ کنٹرولڈ ہوتا ہے۔
سافٹ ویئر اپڈیٹس، ڈیٹا لنکس، سپیئر پارٹس—سب کچھ امریکہ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ وہ چاہے تو جہاز اڑے، وہ نہ چاہے تو وہی جہاز زمین پر لوہے کا بے جان کھلونا بن جائے۔
یہ صورتحال ایسے ہے جیسے کسی مریض کو ایسی دوا دی جائے جو وقتی آرام دے مگر اصل بیماری کو ختم نہ کرے، بلکہ ایک نئی بیماری پیدا کر دے۔
مسلمان ممالک اپنی محنت سے کمائے گئے اربوں ڈالر عالمی طاقتوں کے خزانے میں ڈال دیتے ہیں، اور بدلے میں ایسی ٹیکنالوجی لیتے ہیں جس پر ان کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔
آج ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اسی خوف کے بازار کا تسلسل ہے۔ہر فریق خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے غرور میں ڈوبی ہوئی سلطنتیں ہمیشہ غیر متوقع انجام سے دوچار ہوئی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنے میزائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کائنات کے فیصلے کس کے ہاتھ میں ہیں۔
اگر مسلم ممالک آپس میں اتحاد قائم کر لیں، پاکستان کے دفاعی نظام کو اجتماعی اسلامی دفاع کا محور بنا دیں، اور قرآن کے اس فیصلے کو عملاً مان لیں کہ “یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے” تو طاقت کا توازن دو حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
اگر اسلامی ممالک مذہب کی بنیاد پر ایک اسلامی اتحاد قائم کریں، کمزور مسلم ریاستوں کی اقتصادی اور دفاعی مدد کریں، اور اپنی دولت کو مغربی اسلحہ منڈیوں کے بجائے اسلامی تحقیق، دفاع اور ٹیکنالوجی میں لگائیں، تو دنیا کا تماشہ بند ہو سکتا ہے۔
تب جنگ کا کھیل اور عالمی طاقتوں کی اجارہ داری ٹوٹ سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی طاقت یک قطبی نہیں رہے گی بلکہ دو قطبوں میں تقسیم ہو جائے گی۔
یہاں قرآن اور تاریخ ہمیں ایک مختلف سبق دیتے ہیں۔
جب ابراہا ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبہ کو گرانے آیا، تو حضرت عبدالمطلب نے کہا:
“کعبہ اللہ کا گھر ہے، اللہ خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا۔”
پھر اللہ نے ابابیلوں کے ذریعے ہاتھیوں کے لشکر کو تباہ کر دیا، اور یہ واقعہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔
مسلم دنیا کی موجودہ حالت ایک تمثیلی کہانی کی مانند ہے۔
ایک تاجر کے پانچ بیٹے تھے، دشمنوں نے انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا دیا، بھائی بھائی سے لڑے، کمزور ہوئے، اور آخرکار اصل دولت دشمن لے گیا۔
آج مسلم دنیا بھی آپس کی لڑائیوں میں کمزور ہو رہی ہے، جبکہ اسلحہ بیچنے والے اصل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس سب کے باوجود، دنیا میں سب سے بڑی حقیقت امن ہے۔
مذہب کی تبلیغ ہر انسان کا حق ہے، مگر انسانیت کا قتل کسی مذہب کی تعلیم نہیں۔
پاکستان کی مضبوط معیشت، خود مختار دفاعی نظام، اور مسلم ممالک کا اتحاد ہی اس کھیل کا واحد جواب ہے۔
طاقت ہتھیار سے نہیں، ایمان، اتحاد اور خود انحصاری سے بنتی ہے۔
دنیا کی طاقتیں اسلحہ بیچ سکتی ہیں، مگر عزت نہیں۔
ٹیکنالوجی دے سکتی ہیں، مگر آزادی نہیں۔
اگر مسلمان یہ حقیقت سمجھ لیں، تو خوف کی یہ منڈی ایک دن خود بند ہو جائے گی—
اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ اصل طاقت فولاد میں نہیں، یقین میں ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button