بشیر کی پتنگ ،غربت اور ریاست کا معاشی جھوٹ
بشیر سبزی والا ایک عام پاکستانی شہری ہے، مگر اس عام انسان کے اندر غیر معمولی حوصلہ اور محنت چھپی ہوئی تھی۔ وہ ہر صبح اپنی ریڑھی پر سبزی رکھ کر مختلف علاقوں میں پھیرے لگاتا تاکہ اپنے اور اپنے چار بچوں کا پیٹ پال سکے۔ بشیر نہ کسی پارٹی کا نعرہ ہے، نہ کسی این جی او کی رپورٹ کا حصہ، وہ صرف ایک محنت کش ہےجو ریاست کے معاشی نظام کے نیچے سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول بھیجتا تھا، کیونکہ نجی اسکول اس کے لیے صرف ایک خواب تھے۔ ایک وقت تھا جب بشیر شہر کا اچھا پتنگ باز بھی تھا۔ وہ بچوں کو بسنت کے قصے سناتا—کہ کیسے لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا تھا، اور چھتوں پر زندگی کے رنگ بکھر جاتے تھے۔ جب 22 سال بعد حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دی تو بشیر کی آنکھوں میں امید جاگ اٹھی۔ اس نے بچوں سے وعدہ کیا کہ اس سال وہ شاندار بسنت منائیں گے۔ بچے ہر روز اس دن کا انتظار کرنے لگے اور بشیر نے محنت بڑھا دی تاکہ بچوں کے لیے پتنگ اور ڈور خرید سکے۔
مگر ریاست نے غربت کے خلاف نہیں، غریب کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ ایک دن بشیر سبزی بیچ رہا تھا کہ سرکاری فورسز نے اسے پکڑ لیا۔ اس سے پوچھا گیا: “تم کام کیوں کر رہے ہو؟” بشیر حیران رہ گیا۔ اسے بتایا گیا کہ ملک میں بیروزگاری کے اعداد و شمار کم دکھانے ہیں، اور جو شخص محنت کرتا نظر آئے گا، اسے غیر قانونی کاروبار کے جرم میں سزا دی جائے گی۔ اس کی ریڑھی ضبط کر لی گئی، سبزی سڑک پر پھینک دی گئی۔ بشیر روتا رہا مگر بچوں کے سامنے مسکرا کر کہا: “میں نے نیا بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔” یوں ایک محنت کش کو ریاست نے بے روزگاری کا بزنس مین بنا دیا۔
اگلے دن بشیر بازار گیا تاکہ بچوں کے لیے پتنگ اور ڈور خرید سکے۔ اس کے پاس تھوڑی سی بچت تھی مگر قیمتیں دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ مارکیٹ میں پتنگیں کم اور امیروں کے لیے مخصوص تھیں۔ بسنت عوامی تہوار نہیں رہی، بلکہ اشرافیہ کی فیشن انڈسٹری بن چکی تھی۔
وہ دیکھ رہا تھا کہ حکومت کی نئی فورسز صرف محنت کشوں کے لیے تھیں۔ بشیر جسے محنت کے جرم میں ذلیل کیا گیا تھا، اسے لوٹنے والے سرمایہ دار ریاست کی نظروں میں قابلِ احترام شہری تھے۔ بازار میں کوئی ریٹ کنٹرول کمیٹی نہیں تھی، کوئی فورس منافع خوروں کو پکڑنے کے لیے نہیں تھی۔ یہ معیشت نہیں، ریاستی تھیٹر تھا جہاں غریب کو سزا اور امیر کو جشن ملتا ہے۔
یہاں محنت جرم نہیں، بلکہ محنت سے حلال رزق کمانا ریاست کے لیے مسئلہ بن چکا ہے۔ خود کفیل انسان کسی اشرافیہ کا محتاج نہیں ہوتا، اور آزاد انسان کسی معاشی پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بنتا۔ اسی لیے بشیر جیسے لوگ نظام کے لیے خطرہ ہیں اور اشرافیہ کے لیے صرف ایک عدد۔
ریاست نے ہر سرگرمی امیروں کے لیے ڈیزائن کرنا شروع کر دی ہے۔ تہوار، تفریح، تعلیم، صحت، کاروبار—سب کچھ اشرافیہ کے لیے ہے۔ غریب کو صرف ووٹ ڈالنے کے لیے زندہ رکھا گیا ہے۔ بسنت امیروں کے لیے ثقافت ہے اور غریب کے لیے جرم۔
ٹی وی اسکرینوں پر رنگ، موسیقی اور معاشی استحکام کے دعوے ہوتے ہیں، مگر زمین پر بشیر کی ریڑھی ضبط، سبزی سڑک پر اور بچے بھوکے ہوتے ہیں۔ یہ معیشت نہیں، ایک اسٹیج شو ہے جہاں حکمران چھتوں پر ناچتے ہیں اور غریب نیچے لاٹھی کھاتا ہے۔ ریاست ایک پتنگ ہے جس کی ڈور اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے، اور جس کی کٹائی ہر سال بشیر جیسے لوگوں کی ہوتی ہے۔
بسنت میں پتنگیں نہیں اڑتیں، بس ریاستی جھوٹ اڑایا جاتا ہے، اور بشیر جیسے لوگ زمین پر گرتے ہیں۔ یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ریاست کی پالیسیوں میں بھی عوام کے رنگ بھرے جائیں، ورنہ ہر بسنت صرف اشرافیہ کی عید اور غریب کا جرم رہے گی۔



