پاکستان اور ازبکستان میں 28معاہدے، مفاہمتی یادداشتیں: امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے ملکر کام کرنیکا عزم
وزیر اعظم شہباز شریف اور شوکت مرزایوف کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں تعاون کے نئے راستے کھولنے پر اتفاق
اسلام آباد ( ویب ڈیسک) پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 28معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتو ں کا تبادلہ ہوگیا، وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر ازبکستان شوکت مرزایوف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب وزیراعظم ہائوس میں ہوئی، دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ملکوں کے درمیان انٹر ریجنل فورم کے قیام کا معاہدہ کیا گیا، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے کیلئے معاہدے ، آئی ٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔ ادویہ سازی کے شعبے میں تعاون کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، دونوں ملکوں کے درمیان نشہ آور ادویات کی سمگلنگ روکنے کا معاہدہ کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔ شہباز شریف نے کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے حمایت پر ازبکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان اور ازبکستان کی دوستی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، ازبکستان کے سینئر وزرا اور پاکستانی وزرا شریک تھے۔ معاہدوں میں وزارت خارجہ کے درمیان تعاون، انٹر ریجنل فورم کے قیام، سزا یافتہ افراد کے تبادلے، آئی ٹی، ادویہ سازی، اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس موقع پر ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاءوس میں استقبالیہ تقریب بھی منعقد ہوئی، جہاں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ مزید برآں صدر شوکت مرزایوف کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جسے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی ایک اہم علامت قرار دیا گیا۔ مزید برآں پاکستان کا دورہ کرنے والے صدر ازبکستان شوکت مرزا ئیوف نے سینئر وزرا کے ہمراہ پاکستان کے اہم دفاعی و صنعتی ادارے Global Industrial & Defence Solutionsکا دورہ کیا، دونوں ممالک نے دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر شوکت مرزائیوب اور ان کے وفد کا گرمی سے استقبال کیا اور ادارے کا مکمل دورہ کرایا۔
اس دوران صدر کو GIDSکے مختلف شعبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں جدید دفاعی حل، صنعتی صلاحیتیں اور تکنیکی ایجادات شامل تھیں۔ صدر اور ان کے وفد نی اہم سہولیات کا معائنہ کیا اور پاکستان میں مقامی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے مختلف شعبوں کی ترقی دیکھنے کا موقع حاصل کیا۔
دورے نے پاکستان کی دفاعی صنعت میں بڑھتی ہوئی مہارت اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں شراکت داری، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔ اس دورے نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور تعاون کے مختلف مواقع تلاش کرنے میں اہم قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور مشترکہ سرمایہ کاری، تکنیکی اشتراک اور صنعتی منصوبوں کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں تعاون کے نئے راستے کھولنے پر اتفاق کیا۔ قبل ازین ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تو صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے استقبال کیا۔ ازبک مہمان کا نور خان ایئربیس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، 21توپوں کی سلامی دی گئی، ثقافتی ملبوسات میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کیے۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بھی ازبکستان کے صدرکو شان دار فضائی سلامی دیتے ہوئے پاکستان میں ان کا زبردست استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے 6رکنی دستے نے شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی سلامی پیش کی۔



