انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

بورڈ آف پیس

گہرے جنگل پر رات اتر رہی تھی۔ آسمان پر بادل تھے اور ہوا میں بےچینی۔ اچانک شاہی ڈھول بجا اور اعلان ہوا کہ شیر بادشاہ نے تمام طاقتور جانوروں کو غارِ سلطنت میں طلب کیا ہے۔ مقصد بتایا گیا کہ جنگل کے قانون میں تبدیلی کر کے ایک ایسا نظام بنایا جائے جو ہمیشہ کے لیے امن قائم کر دے۔
باز کو بلایا گیا تاکہ فضاؤں کی نگرانی اس کے ہاتھ میں ہو، چیتے کو بلایا گیا تاکہ رفتار اور طاقت اس کے ساتھ ہو، سانپ کو شامل کیا گیا تاکہ حکمتِ عملی اس کے سپرد ہو، اور بھیڑیے کو اس لیے کہ وہ خوف کی علامت تھا۔ کمزور جانوروں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ کہا گیا کہ یہ اعلیٰ سطحی مشاورت ہے، سب کے مفاد میں ہے، اس لیے سب کو خاموش رہنا چاہیے۔
کئی گھنٹوں کے بعد اعلان ہوا کہ ایک نیا اتحاد قائم کیا گیا ہے جس کا نام ہے “بورڈ آف پیس”۔ کہا گیا کہ اب جنگل میں کوئی بدامنی نہیں ہوگی، کوئی اپنی مرضی سے اتحاد نہیں بنائے گا، اور اگر کوئی نظم کے خلاف اٹھا تو اسے امن دشمن سمجھا جائے گا۔ لفظ “امن” کو اس قدر دہرایا گیا کہ وہ خود اپنی معنویت کھونے لگا۔
جنگل کے کمزور جانوروں نے پہلے سکھ کا سانس لیا، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ اس نئے بورڈ کا اصل مقصد انصاف نہیں بلکہ طاقت کا ارتکاز ہے۔ اگر ہرن، خرگوش یا بارہ سنگھا مل کر اپنی حفاظت کے لیے کوئی حلقہ بناتے تو بورڈ آف پیس فوراً متحرک ہو جاتا اور اعلان کرتا کہ یہ جنگل کے استحکام کے خلاف سازش ہے۔
یہ منظر صرف جنگل تک محدود نہیں۔ دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو براعظموں کے درمیان طاقت کی لکیر صاف دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب دنیا ملبے سے اٹھ رہی تھی تو United Nations قائم کی گئی تاکہ آئندہ نسلیں جنگ کی ہولناکی سے بچ سکیں۔ منشور میں مساوات، خودمختاری اور انسانی وقار کی ضمانت دی گئی۔ مگر عملی سیاست میں طاقتور ممالک کو خصوصی اختیارات دیے گئے، خاص طور پر سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق۔ یوں قانون کی کتاب تو سب کے لیے ایک تھی، مگر اس کی چابی چند ہاتھوں میں رہی۔
دنیا کے مختلف خطوں میں یہ تضاد نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے تنازع میں، جدید ٹیکنالوجی، ڈرون، میزائل سسٹمز اور نگرانی کے آلات نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید عسکری برتری کے ذریعے ایسے آپریشن کیے گئے جن میں بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہوئے، جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ مزید یہ کہ خطے کے بعض ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی اور سخت بیانات نے عدم استحکام کے خدشات کو بڑھایا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر عالمی نظام واقعی غیر جانبدار “بورڈ آف پیس” ہے تو پھر جدید ٹیکنالوجی کے سائے میں ہونے والی تباہی پر اس کی آواز اتنی کمزور کیوں سنائی دیتی ہے؟
افریقہ کے کچھ ممالک، ایشیا کے تنازعات، اور یورپ کی نئی جنگی صف بندیاں بھی یہی کہانی دہراتی ہیں۔ بڑے ممالک اسلحے کی منڈیوں کو زندہ رکھتے ہیں، چھوٹے ممالک اپنی بقا کے لیے کسی نہ کسی طاقت کے سائے میں چلے جاتے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور سلامتی کے نام پر عسکری اتحاد—یہ سب جدید دور کے وہ اوزار ہیں جن کے ذریعے عالمی “بورڈ آف پیس” اپنا اثر قائم رکھتا ہے۔
جنگل کی کہانی میں بھی یہی ہوا تھا۔ جب تک کمزور جانور منتشر رہے، امن برقرار رہا۔ جیسے ہی انہوں نے شعور حاصل کیا اور اتحاد کا سوچا، انہیں خطرہ قرار دے دیا گیا۔ امن کا مفہوم بدل گیا؛ وہ انصاف کی ضمانت کے بجائے طاقت کی حفاظت بن گیا۔

دنیا کے نقشے پر آج نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ عالمی نظام میں اصلاحات کی بات ہو رہی ہے، ویٹو اختیار پر سوال اٹھ رہے ہیں، انسانی حقوق کی نئی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں عالمی ادارے واقعی سب کے لیے برابر ہوں گے، یا صرف طاقت کا توازن بدل جائے گا اور نام وہی رہے گا؟
لفظ “امن” اپنی اصل میں ایک مقدس تصور ہے، مگر جب اسے مفادات کی چادر اوڑھا دی جائے تو وہ محض نعرہ رہ جاتا ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی کمزور کی حفاظت کے بجائے اس کی تباہی کا ذریعہ بنے، اگر عالمی قانون طاقت کے تابع ہو جائے، تو “بورڈ آف پیس” خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
اصل امن تب آئے گا جب قانون کی طاقت، ہتھیار کی طاقت سے بڑی ہوگی—اور جب دنیا کے نقشے پر ہر ریاست، ہر قوم اور ہر انسان کو یکساں انصاف ملے گا۔ ورنہ چاہے وہ جنگل ہو یا عالمی سیاست، نام امن کا ہوگا مگر اختیار طاقت کا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button