انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

روایتوں کی زنجیروں میں جکڑی عورت

بازغہ چشتی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ترقی، تعلیم اور جدید شعور کے دعووں کے ساتھ معاشرے آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں۔ ہر دور اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ مہذب اور باشعور سمجھتا ہے، مگر کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود زیادہ تبدیل نہیں ہوتیں۔ انہی حقیقتوں میں ایک حقیقت عورت کی زندگی بھی ہے۔ بظاہر اسے عزت، احترام اور حقوق دینے کی بات کی جاتی ہے، مگر عملی زندگی میں اکثر وہی عورت روایتوں، رسموں اور فرسودہ سوچ کے ایسے حصار میں قید دکھائی دیتی ہے جہاں اس کی آزادی اور اس کے حقوق محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔

آٹھ مارچ خواتین کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تقاریر ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں اور عورت کے تحفظ کے لیے قوانین بنانے کے دعوے بھی سامنے آتے ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ اس بات کی علامت محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے اور عورت کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مگر جب معاشرے کی حقیقت کو قریب سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عورت کی زندگی آج بھی بہت سی ایسی روایتوں اور سوچوں میں جکڑی ہوئی ہے جن سے آزادی حاصل کرنا آسان نہیں۔

جہیز اور جائیداد کے مسئلے کو ہی دیکھ لیا جائے تو حقیقت بہت واضح ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بیٹی کو شادی کے وقت جو جہیز دیا جاتا ہے وہی اس کا حصہ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جہیز دراصل ایک ضرورت یا معاشرتی رسم کے طور پر دیا جانے والا سامان ہوتا ہے جبکہ جائیداد میں عورت کا حصہ اس کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں مگر بدقسمتی سے اس فرق کو دانستہ طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اگر کچھ گھرانے بیٹی کو اس کی جائیداد میں حصہ دے بھی دیں تو وہاں ایک اور مسئلہ جنم لے لیتا ہے۔ شادی کے بعد اکثر سسرال والے مختلف بہانوں سے اس جائیداد یا رقم پر اپنا اختیار قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس رقم کو کاروبار میں لگا دیا جائے گا، کبھی اسے گھر کے اخراجات کے نام پر استعمال کر لیا جاتا ہے۔ یوں عورت کا حق ایک بار پھر اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور وہ خاموشی سے اس صورتحال کو برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

معاشرتی ڈھانچے میں عورت کی مالی خودمختاری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کو آزادی حاصل ہے، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو بہت سی عورتوں کو اپنا الگ بینک اکاؤنٹ تک کھولنے کی آزادی نہیں دی جاتی۔ زیادہ سے زیادہ جو سہولت دی جاتی ہے وہ شوہر کے ساتھ ایک مشترکہ اکاؤنٹ ہوتا ہے جس میں اصل اختیار بھی عموماً مرد ہی کے پاس ہوتا ہے۔ عورت اپنی کمائی کی مالک ہونے کے باوجود اس پر مکمل اختیار حاصل نہیں کر پاتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مرد اکثر یہ سمجھتا ہے کہ اس کی کمائی صرف اس کی اپنی ہے اور اس پر سب سے زیادہ حق بھی اسی کا ہے۔ لیکن بیوی کی کمائی کو وہ گھر کی مشترکہ آمدنی سمجھتا ہے۔ یوں ایک عجیب تضاد پیدا ہو جاتا ہے جہاں مرد کا پیسہ مرد کا اور عورت کا پیسہ بھی مرد کا تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو عورت کو معاشی طور پر کمزور اور محتاج بنا دیتی ہے۔

معاشرتی ناانصافی کی ایک اور تلخ شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب کسی عورت کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آ جائے۔ ایسے مواقع پر ہمدردی اور انصاف کے بجائے سب سے پہلے سوالات کا رخ اسی عورت کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے لباس، اس کے باہر نکلنے کے وقت، اس کے رویے اور اس کی زندگی کے ہر پہلو کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک مظلوم عورت انصاف کی تلاش میں نکلتی ہے تو معاشرہ اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانے لگتا ہے۔ یہ رویہ دراصل وکٹم بلیمنگ کی وہ تلخ حقیقت ہے جو ظلم سہنے والی عورت کے زخموں کو اور گہرا کر دیتی ہے۔

زیادتی کا شکار ہونے والی عورت پہلے ہی ایک شدید صدمے سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اسے انصاف اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کے برعکس اسے شک، طنز اور الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات خاندان کی عزت کے نام پر اسے خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ معاملہ دب جائے اور گھر کی بدنامی نہ ہو۔ یوں ظلم کرنے والا اکثر بچ نکلتا ہے جبکہ ظلم سہنے والی عورت عمر بھر کے لیے ایک بوجھ اپنے دل میں لے کر جیتی رہتی ہے۔

اگر مجموعی معاشرتی صورتحال کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ عورت کے ساتھ ناانصافی کے واقعات اب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر اپنے بنیادی معاشی یا سماجی حقوق سے محروم رہتی ہیں۔ وراثت کے معاملے میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ بہت سی بیٹیاں اپنا حق مانگنے سے اس لیے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے خاندان کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔

دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ اور بھی زیادہ گہرا ہے۔ وہاں بڑی تعداد میں خواتین ایسی ہیں جنہیں جائیداد کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات انہیں یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ بھائیوں کا گھر ہی ان کی اصل پناہ گاہ ہے، اس لیے انہیں جائیداد کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ یوں ایک روایت کو عزت اور خاندانی وقار کا نام دے کر عورت کے حق کو دبایا جاتا ہے۔

شہری علاقوں میں تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد بڑھنے کے باوجود مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تعلیم نے عورت کو شعور تو دیا ہے مگر سماجی دباؤ اب بھی بہت مضبوط ہے۔ بہت سی پڑھی لکھی خواتین اپنے حقوق کو سلب ہوتا دیکھتی ہیں مگر گھر کے سکون اور رشتوں کی بقا کے لیے خاموش رہنا بہتر سمجھتی ہیں۔ یہ خاموشی ہی دراصل اس نظام کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ قوانین بنانا نسبتاً آسان کام ہے مگر معاشرتی ذہنیت کو بدلنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں عورتوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین متعارف کروائے گئے ہیں اور ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں، مگر عملی طور پر ان قوانین کا اثر تبھی نظر آئے گا جب معاشرے کی سوچ تبدیل ہوگی۔

ہر نسل اپنے ساتھ کچھ نئی امیدیں بھی لاتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو عورت کو ایک آزاد اور باوقار انسان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ تعلیم، میڈیا اور سماجی شعور نے بہت سے لوگوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ عورت کو اس کا حق دینا صرف انصاف کا تقاضا ہی نہیں بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔

اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ عورت آج بھی بہت سے غیر مرئی حصاروں میں قید ہے۔ کبھی روایتوں کے نام پر، کبھی عزت کے نام پر اور کبھی خاندان کی خوشی کے نام پر اس کے حقوق کو محدود کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو اسے باوقار سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ آواز اٹھائے تو اسے باغی قرار دے دیا جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ ہماری موجودہ نسل اس تبدیلی کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے۔ بہت سے لوگ آج بھی پرانی روایتوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور انہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نئی نسل کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور لاتی ہے۔

شاید آنے والے وقتوں میں ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جائے جہاں عورت کو اس کے حقوق مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ وہ اسے خود بخود مل جائیں۔ جہاں بیٹی کو جائیداد کے حق کے لیے دلائل نہ دینے پڑیں، جہاں کسی مظلوم عورت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے، اور جہاں اس کی کمائی، اس کی عزت اور اس کی آواز تینوں محفوظ ہوں۔

جب ایسا ہوگا تو عورت صرف معاشرے کا کمزور حصہ نہیں بلکہ اس کی مضبوط بنیاد بن کر سامنے آئے گی، اور تب شاید روایتوں کی وہ زنجیریں بھی ٹوٹ جائیں گی جنہوں نے صدیوں سے اس کی آزادی کو قید کر رکھا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button