انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پانی نعمتِ الٰہی اور انسانی زندگی کی اساس

عبدالخالق چوہدری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں بعض ایسی ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں۔ انہی بنیادی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت پانی ہے۔ پانی وہ قدرتی عطیہ ہے جس پر انسانوں، حیوانات، نباتات اور پوری کائنات کی زندگی کا انحصار ہے۔ اگر پانی نہ ہو تو زمین کی ساری رونقیں ختم ہو جائیں اور زندگی کا سلسلہ منقطع ہو جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار پانی کی اہمیت کو بیان کیا ہے تاکہ انسان اس نعمت کی قدر پہچانے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری کو سمجھے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:(سورۃ الانبیاء: 30)
ترجمہ:‘‘اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔’’یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ پانی دراصل زندگی کی بنیاد ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات بھی اس قرآنی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ زمین پر موجود ہر جاندار کی زندگی پانی سے وابستہ ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور جسم کے تمام نظام درست طریقے سے چلانے کے لیے پانی ناگزیر ہے،اللہ تعالیٰ نے پانی کو صرف زندگی کا ذریعہ ہی نہیں بنایا بلکہ زمین کی زرخیزی اور انسانی معیشت کی ترقی کا بھی بنیادی سبب بنایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:(سورۃ ق: 9)ترجمہ:‘‘اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا جس کے ذریعے باغات اور کھیتی کی پیداوار اگائی۔’’اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:(سورۃ ابراہیم: 32)ترجمہ:‘‘اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے تمہارے لیے مختلف پھلوں کو بطور رزق پیدا کیا۔’’ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ پانی انسان کی خوراک، معیشت اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اسلام نے پانی کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ پیاسے کو پانی پلانا اسلام میں بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انسانوں ہی نہیں بلکہ جانوروں کو پانی پلانے کو بھی باعثِ اجر قرار دیا ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستے میں جا رہا تھا، اسے شدید پیاس لگی۔ وہ ایک کنویں میں اترا اور پانی پی کر باہر آیا۔ باہر اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا ہے اور مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے سوچا کہ اس جانور کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے موزے میں پانی بھر کر اوپر آیا اور اس کتے کو پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو پسند فرمایا اور اس کے گناہ معاف کر دیے۔(صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
ترجمہ:‘‘سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے،’’ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے فرمائے گا:‘‘اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔’’بندہ عرض کرے گا: اے اللہ! میں تجھے کیسے پانی پلا سکتا تھا جبکہ تو تو رب العالمین ہے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا:‘‘میرا فلاں بندہ تجھ سے پانی مانگ رہا تھا، اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو مجھے اپنے پاس پاتا۔’’(صحیح مسلم)
یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ پانی پلانا اسلام میں ایک عظیم انسانی خدمت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا اجر بہت بڑا ہے۔بدقسمتی سے آج کے دور میں جہاں انسان نے سائنسی ترقی کی بے شمار منازل طے کر لی ہیں، وہاں صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے لیکن اس میں سے صرف بہت تھوڑا حصہ پینے کے قابل ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ آلودہ اور غیر محفوظ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں بھی صاف پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی آلودگی، ماحولیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث زیر زمین اور سطحی پانی دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں لوگ ایسا پانی پینے پر مجبور ہیں جو جراثیم اور کیمیائی مادوں سے آلودہ ہوتا ہے۔آلودہ پانی انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلودہ پانی پینے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، ڈائریا اور معدے کی دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی میں آرسینک اور دیگر زہریلے مادوں کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی فضلہ، فیکٹریوں کے کیمیکل اور سیوریج کا گندا پانی دریاؤں اور نہروں میں شامل ہو کر پانی کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔پانی کی آلودگی کی ایک بڑی وجہ انسانی غفلت اور لاپرواہی بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں صفائی کے اصولوں کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ گلیوں اور نالوں میں کوڑا کرکٹ پھینک دیا جاتا ہے جو بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر دریاؤں اور زیر زمین پانی کو آلودہ کر دیتا ہے۔اسی طرح فیکٹریوں اور صنعتوں کا فضلہ بغیر کسی صفائی کے دریا یا نہروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے پانی کے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔عوامی مقامات پر نصب واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی کئی جگہوں پر اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ حکومت اور فلاحی ادارے عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر فلٹر پلانٹس نصب کرتے ہیں، لیکن اکثر جگہوں پر ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر عوامی مقامات پر لگائے گئے فلٹر پلانٹس کے فلٹرز عرصہ دراز تک تبدیل نہیں کیے جاتے۔ اس کے نتیجے میں یہ فلٹر پلانٹس صاف پانی فراہم کرنے کے بجائے مزید آلودہ پانی فراہم کرنے لگتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ان منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی اور دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے،صاف پانی کی فراہمی دراصل ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صحت مند ماحول اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ صاف پانی بھی انہی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ پانی کے ذخائر کی حفاظت، سیوریج کے نظام کی بہتری اور صنعتی فضلے کے کنٹرول کے لیے مؤثر پالیسیاں وضع کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ یہ منصوبے واقعی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔اس کے ساتھ فلاحی اداروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں کئی فلاحی تنظیمیں عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مختلف علاقوں میں کنویں، ہینڈ پمپس اور فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جا رہے ہیں جن سے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔تاہم اس مسئلے کی وسعت کو دیکھتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ فلاحی اداروں کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایسے منصوبے شروع کریں جن سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔عوام الناس کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں بہت اہم ہے۔ اگر ہر فرد پانی کو اللہ کی نعمت سمجھ کر اس کی حفاظت کرے اور اسے ضائع ہونے یا آلودہ ہونے سے بچائے تو اس مسئلے کو کافی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے وقت بھی پانی کے اسراف سے منع فرمایا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
‘‘پانی میں اسراف نہ کرو اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔’’یہ تعلیم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پانی جیسی نعمت کو ہر حال میں احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔پانی کی آلودگی سے بچاؤ اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے چند عملی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے صنعتی فضلے کو بغیر صفائی کے دریاؤں اور نہروں میں چھوڑنے پر سخت پابندی عائد کی جائے۔ سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ گندا پانی صاف پانی کے ذخائر میں شامل نہ ہو۔عوامی مقامات پر نصب فلٹریشن پلانٹس کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ان کے فلٹرز کو مقررہ مدت کے اندر تبدیل کیا جائے۔ پانی کے ذخائر کی حفاظت کے لیے شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔تعلیمی اداروں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے عوام میں پانی کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے تاکہ ہر فرد اس قومی ذمہ داری کو سمجھ سکے۔آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم امانت ہے۔ اگر ہم نے اس امانت کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ صاف پانی کی فراہمی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اگر ہم سب مل کر اس نعمت کی حفاظت کریں تو نہ صرف ہماری موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔پانی واقعی نعمتِ خداوندی ہے، اور اس نعمت کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button