انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پیغامِ پاکستان: دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کا جامع فکری بیانیہ

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف عالم اسلام کی سب سے اہم ریاست ہے بلکہ وہ واحد ملک ہے جو اپنی ایٹمی صلاحیت کی بدولت عالمی سطح پر خودمختار دفاع یقینی بنا سکتا ہے۔ دنیا کے کروڑوں مسلمان اس ملک کو اپنا حامی اور محافظ گردانتے ہیں کیونکہ پاکستان کی بقا اور استحکام نہ صرف خطے بلکہ عالم اسلام کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان، چاہے اس کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے، اپنی آنکھیں اور امن کی امیدیں اس ملک کی طرف مرکوز رکھتا ہےتاہم پاکستان کی اس طاقت اور خودمختاری سے بعض عالمی و علاقائی قوتیں نالاں ہیں۔ یہ قوتیں سیاسی، معاشی اور عسکری سطح پر پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل سازشوں میں مصروف رہتی ہیں۔ یہود، ہنود اور نصاریٰ اپنی اپنی حکمت عملیوں کے تحت ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیتے ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے دہشتگرد تنظیموں کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور اس جیسے دیگر شدت پسند گروہ، بنیادی طور پر ان بیرونی قوتوں کے مفادات کے لیے پاکستان میں خوف، انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں، دہشت گردی و بربریت کو جہاد کا نام دیتی ہیں ۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ داخلی اور خارجی محاذوں پر ایک ساتھ نبردآزما ہے۔ داخلی سطح پر دہشتگردی، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جبکہ خارجی سطح پر جارحانہ اور سازشی اقدامات سے ملک کی عالمی حیثیت اور دفاعی پوزیشن کو داؤ پر لگایا جاتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسے ادوار گزرے ہیں جب ریاست محض عسکری محاذ پر نہیں بلکہ نظریاتی و فکری سطح پر بھی شدید چیلنجز کا سامنا کر رہی تھی۔ 2000ء کی دہائی کے بعدپاکستان دشمن طاقتوں کی ایما پرہونے والی دہشت گردی، خودکش حملوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے ایک ایسی المناک فضا قائم کر دی تھی جس میں مذہب کے نام پر تشدد کو جواز دینے کی کوششیں عیاں ہو گئیں۔ یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اس نے ریاستی رٹ، آئینی بالادستی اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا۔اسی پس منظر میں پاکستان کو ایک ایسے متفقہ اور علمی بیانیے کی ضرورت محسوس ہوئی جو مذہب کے نام پر شدت پسندی و دہشت گردی کا مکمل اور شفاف ردعمل پیش کر سکے۔ دہشت گرد عناصر نے جہاد، تکفیر اور اسلامی ریاست جیسے حساس تصورات کو اپنے مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا، جس کے نتیجے میں نوجوان نسل گمراہی کی راہ پر چلی گئی۔
سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور نے قوم کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا اور یہ حقیقت واضح کی کہ دہشت گردی کے خاتمے میں صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ فکری اور تعلیمی اقدامات ناگزیر ہیں۔اسی ضرورت کے پیشِ نظر ریاست نے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی، جس میں عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ فکری و مذہبی بیانیہ سازی کو بھی اولین ترجیح دی گئی۔ اس مقصد کے لیے ملک کے جید علماء، مفتیان کرام اور علمی ادارے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تاکہ ایک ایسا متفقہ موقف سامنے آئے جو شرعی اعتبار سے مضبوط اور عوامی سطح پر قابلِ قبول ہو۔پیغامِ پاکستان نے ریاستی اختیار اور جہاد کے تصورات کو دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے، جہاد کا اعلان صرف ریاست کے اختیار میں ہے اور کسی فرد یا گروہ کو مسلح کارروائی کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ موقف نہ صرف اسلامی فقہ کی روشنی میں درست ہے بلکہ آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی قانون سے بھی ہم آہنگ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243، 245 اور 256 واضح طور پر ریاست کے علاوہ کسی کو عسکری اختیار دینے کی اجازت نہیں دیتے اور اقوامِ متحدہ کا چارٹر بھی غیر ریاستی عناصر کی مسلح سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ یہ بیانیہ مذہب کے نام پر نجی عسکریت اور تشدد کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور ریاستی حاکمیت کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔پیغامِ پاکستان دہشت گردی اور خودکش حملوں کو نہ صرف حرام قرار دیتا ہے بلکہ یہ قرآن و سنت کے اصولوں کے عین مطابق ہے کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ریاستی نظم و نسق کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنا اسلام میں فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے، جس کی سخت ترین مذمت کی گئی ہے۔فرقہ واریت اور تکفیر کے خاتمے کو بھی یہ بیانیہ انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ کسی مسلمان کو کافر قرار دینا، یعنی تکفیر، ایک انتہائی حساس اور خطرناک عمل ہے، جس کے دور رس اثرات معاشرے میں انتشار، نفرت اور خونریزی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے کثیرالمسالک معاشرے میں فقہی اختلافات کو ہمیشہ علمی مکالمے اور برداشت کے ذریعے حل کیا گیا اور یہ بیانیہ اس اصول کو مضبوطی سے اجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی، اشتعال یا تشدد ریاستی قوانین اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔آئینِ پاکستان کی بالادستی اور امن، رواداری و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کو پیغامِ پاکستان ایک لازمی اور متفقہ اصول کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ بیانیہ واضح کرتا ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرتی ہے، اور مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
پاکستان میں قومی یکجہتی، امن اور قانونی بالادستی کی مضبوطی اسی متفقہ بیانیے کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جس میں علماء، مشائخ، عسکری و سول قیادت، اور تعلیمی و سماجی حلقے سب ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔ اس قومی اتفاق نے نہ صرف انتہا پسندی کے بیانیے کو کمزور کیا بلکہ ریاست کے موقف کو بھی مستحکم کیا اور یہ ظاہر کیا کہ پاکستان میں داخلی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے تمام قومی عناصر متحد ہیں۔پیغامِ پاکستان محض ایک مذہبی فتویٰ نہیں بلکہ ایک مکمل قومی پالیسی فریم ورک ہے، جو قانونی و آئینی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ بیانیہ دہشت گردی کے خاتمے، انتہا پسندی کی روک تھام اور ریاستی اداروں کے تعاون کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی نصاب میں اس کی شمولیت، میڈیا میں آگاہی اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی روک تھام عملی نفاذ کے لازمی اقدامات ہیں، تاکہ نظریاتی مضبوطی اور قومی اتفاق کے ذریعے ایک مستحکم اور پرامن پاکستان قائم کیا جا سکے۔پیغامِ پاکستان ایک جامع، متفقہ اور شاندار قومی دستاویز ہے جو اسلام کی معتدل تعبیر، آئینی بالادستی اور ریاستی خودمختاری کو یکجا کرتی ہے، اور پاکستان کو ایک مستحکم، پرامن اور متحد ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button