انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

اسلام کا پیغامِ امن و سلامتی

فرخ ریاض بٹ

اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں اور جملہ مخلوقات کے لیے حضرت محمد ﷺکو رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺنے اشرف المخلوقات یعنی انسانوں کو تو عام طور پر اور مسلمانوں کو خاص طور پر تمام انسانیت اور تمام مخلوقات پر رحم کرنے اور انہیں ایذا رسانی سے بچنے کا حکم فرمایا۔ احترام انسانیت اور جملہ مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا کنبہ بتا کر آپ ﷺنے جو امن و راحت اور سکون و محبت کا پیغام عطا فرمایا، وہ آپکی ایک عظیم الشان خصوصیت ہے۔آپ ﷺجو دین لے کر آئے،وہ صبر وبرداشت، عفوودرگزراور امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، جو تمام مخلوقات کے لیے احترام، محبت اور رحم و شفقت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دین انسانی جان، مال، اور عزت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اور ظلم و زیادتی کی سخت ممانعت کرتا ہے۔ اسلام کا بنیادی پیغام معاشرے میں سکون اور بھائی چارہ قائم کرنا ہے۔ لہٰذا احترامِ انسانیت اور انسان دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرے میں امن و سلامتی کو فروغ دیا جائے۔ایثار و ہمدردی اور رحم دلی کو اپنایا جائے۔
عام انسانوں کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ اورحضرت محمد ﷺنے پرخلوص نیت کے ساتھ ایمان لانے اور مسلمانوں کے طبقے میں شامل ہونے والوں کا مقام اور درجے کا ذکر فرمایا تو کہا۔تمام کلمہ گو مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔کسی قبیلے، کسی گروہ، کسی شہر،کسی ملک اور کسی زبان والے نے جب کلمہ طیبہ (خلوص دل اور نیک نیتی کے ساتھ) پڑھ لیا تو ہر ایسا خوش قسمت مسلمان ایک دوسرے کا بھائی بن گیا۔آپ ﷺکے ارشاد کے مطابق ہر مسلمان کلمہ گو ایک دوسرے کا بھائی ہے۔صاحب شعور و عقل بخوبی سمجھتے ہیں کہ بھائی سے بھائی کا رشتہ کتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔ان میں آپس میں کتنا پیار ہوتا ہے اور کتنی بے مثال محبت سے وہ سرشار ہوتے ہیں، یہی خانگی اور خاندانی پیار و محبت اور باہمی چاہت و الفت ہر مسلمان اور کلمہ گو انسان میں پیدا کرنے کا سبق اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺکی تعلیمات سے ہمیں ملتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی پاکیزہ زندگی کے شان دار باہمی تعلقات و روابط اور آپس کی محبت و الفت کے بے شمار واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ رشتے دار، بھائی یا بیٹا جو مسلمان نہ ہوا، وہ غیر رشتے دار مسلمان بھائی کے مقابلے میں نظروں سے گر گیا اور غیر رشتے دار مسلمان اور مومنین متقین آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔
اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کی شان دار تعلیمات اور مسلمانوں کا شان دار ماضی اس بات کا ثبوت ہے۔مذکورہ بالا اسلامی تعلیمات اور باہمی اخوت و بھائی چارہ پیدا کرنے کے ارشادات کے ہوتے ہوئے معاشرے میں فساد ،بدامنی اور دہشت گردی کتنے افسوس اور شدید رنج کی بات ہے۔وہ انسانی جان جس کی حرمت و قیمت کعبتہ اللہ سے بھی زیادہ بتائی گئی ہو، ظلم، فساد اور ناحق (بے گناہ) قتل کو سنگین اور کبیرہ گناہ بتایا گیا ہو۔جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی شدید وعید سنائی گئی ہو اور یہ فرمایاگیا ہو کہ جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کرے،اس کی سزا یہ ہے کہ اسے جہنم رسید کیا جائے گا،وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کا مزا چکھے گا۔اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت برسائے گا اور (مزید یہ) کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔اس کے ساتھ حق تعالیٰ نے یہ نوید بھی سنا دی کہ اگر کسی نے کسی کو قتل و خوں ریزی سے بچا لیا اور اس کی زندگی کو آنچ نہ آنے دی تو اس کا یہ کارنامہ ایسا عظیم ہے کہ گویا اس نے پوری انسانیت کو زندہ درگور ہونے سے بچا کر زندگی کا جوہر بخش دیا۔اسی لیے فرمایا گیا کہ نیکی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرو، مگر کسی گناہ کے کام اور ظلم کے ارتکاب میں مدد مت دو۔وہ چور، لٹیرے،راہ زن، وہ دن دہاڑے لوٹ مار کرنے والے اور انسان نما درندے ذرا تعلیمات اسلامی اور تہذیب و تمدن کی روشنی میں عقل کے ناخن لیں کہ چھوٹی سے چھوٹی اور معمولی سے معمولی قیمت کی اشیاءکے چھینتے وقت بھی، لوٹ مار کرتے ہوئے اگر کوئی بے چارا بے گناہ انسان اپنی چیز حوالے نہ کرنے میں ہلکی سی مزاحمت بھی کرتا ہے، تو اسے موٹ کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ رات کی تاریکی اور سنسان جگہوں میں لوٹ مار اور ظلم و جور میں تو کوئی انتہا ہی نہیں چھوڑی جاتی۔ اغوا کی وارداتیں بھی کر بیٹھتے ہیں۔ عصمت دری اور آبروریزی کے شرم ناک واقعات بھی سننے اور پڑھنے میں آتے ہیں۔ کوئی انتہا ہے اس بے حیائی اور ظلم و زیادتی کی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مظلوم کی آہ اور عرش الٰہی کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ دل کی بددعا ظالم و قاتل کو چار دن کی چاندنی اور پھر عذاب الٰہی کا کوڑا اور اندھیری رات کا سماں ضرور دکھاتی ہے۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جس کسی سے بھی ایسا ظلم سرزد ہوگیا تو وہ صدق دل سے توبہ کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے اور معاشرے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اسلام کا پیغام امن و سلامتی اور انسان دوستی ہے، جو تمام مخلوقات کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر زور دیتا ہے، باہمی احترام اور پ±رامن بقا کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں امن اور سکون قائم کرنا ہے۔ امن و امان ایک انسانی ضرورت ہے، قرآن مجید میں نعمت امن کو اللہ تعالیٰ نے بطور احسان بھی جتلایا ہے، اس لیے امن و امان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ایک خوشگوار اور کامیاب معاشرے کے لیے امن وسلامتی انتہائی ضروری ہے ،ورنہ اس کے بغیر زندگی کا سکون اور معاشرتی راحت حاصل نہیں ہوسکتی، اس لیے اسلام نے انسانوں کو ہر شعبہ زندگی میں امن قائم کرنے اور عدل وانصاف سے کام لینے کا حکم دیا۔نبی کریم ﷺنے انسانی جان کے تحفظ لیے نہ صرف اخلاقی تعلیم دی ، بلکہ اس کے لیے قانونِ قصاص و دیت بھی دیا، تا کہ انسانی جان محفوظ رہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺکی پاکیزہ سیرت کے مطابق ہر انسان کی جان قابل احترام ہے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب۔ حضرت محمد ﷺکی پاکیزہ سیرت اور تعلیمات کے مطابق رشوت، غبن، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی بیشی، دھوکا و فریب، حرام اور ناجائز چیزوں کا کاروبار،ناجائز قبضہ، لوٹ کھسوٹ، جوا، سود اور چوری وغیرہ ،مال و دولت حاصل کرنے کے ناجائز ذریعے ہیں۔اگر ان ذرائع سے روزی حاصل کی گئی تو معاشرے میں فتنہ اور فساد برپا ہو جائے گا اور ملک سے امن و سکون چلا جائے گا۔ اس لیے امن و سلامتی کے پیغمبر ﷺنے ان سب ذرائع سے روزی حاصل کرنے کو حرام اور ناجائز قرار دیاہے۔دنیا میں امن و سلامتی کو قائم رکھنے اور فتنہ اور فساد سے بچنے کے لیے آپ ﷺنے جو تعلیمات اور پاکیزہ سیرت ہمارے لیے چھوڑی ہیں،انسانی تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ آج ہمارے معاشرے میں جو بدامنی، بے چینی، فتنہ و فساد برپا نظر آتا ہے وہ دراصل نبی کریم ﷺکی سیرتِ طیبہ سے دوری کا نتیجہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button