انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترین

اشرافیہ کا پاکستان عوام تو بس غلام ہیں؟

تحریر: محمد قیصر چوہان

پاکستان کاایک عام آدمی، غریب، سفید پوش اور دیہاڑی دارپٹرولیم مصنوعات، آٹے، گھی، چینی پر ٹیکس ادا کر کے ریاست پاکستان کے خزانے کو بھرنے میں اپنا حصہ ملاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ہر شے پر ٹیکس ادا کرتا ہے مگر اس کے بدلے میں وہ زندگی معاشی بدحالی کے جبر تلے سسک سسک کر گزارتا ہےدوسری جانب پاکستان کی سیاسی، غیر سیاسی اور بیورو کریٹک اشرافیہ کی زندگیوں کو پر آسائش بنانے کے لیے سرکاری خزانہ ایک خریدے ہوئے غلام کی طرح خدمت پر کمر بستہ رہتا ہے۔

پچاس فی صد لوگ جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں، ان کے شب و روز بہت مشکل سے گزرتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ بیش تر سفید پوش ہے،اس کے بچے سکول جاتے ہیں۔ وہ خوشی، غم بھی کسی طرح بھگتا لیتا ہے۔مہینے کے آخری دس دن اس پر عذاب بن کر گزرتے ہیں۔ اس طبقے کے افراد بھی گھی، چینی، آٹا خریدتے وقت اتنا ہی ٹیکس دیتے ہیں جتنا معاشی طور پر خوش حال پاکستانی دیتا ہے۔ یہ اس کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ آخر وہ کس چیز کی سزا بھگت رہا ہے؟ اتنا ٹیکس دینے کے بعد بھی ریاست پاکستان اس کے بچوں کو ڈھنگ کی مفت تعلیم نہیں دیتی، بیماری میں مناسب علاج نہیں ملتا۔

غریب عوام پس رہے ہیں، بھوکے مر رہے ہیں، انھیں ریلیف دینے کے بجائے ہمارے حکمران ان پر مزید ٹیکس عائد کر رہے ہیں اور ساتھ افسروں کو بھی عیاشیاں کروا رہے ہیں۔عوام ٹیکس دے رہے ہیں اور افسر شاہی سمیت حکمران طبقہ عیاشیاں کر رہاہے ہیں۔ ملکی خزانے کو کتنی بے رحمی کے ساتھ ضایع بھی کیا جا رہا ہے،عوام کو صبر اور کفایت شعاری کی تلقین کی جاتی ہے اور خود ان کی مراعات اور عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہیں۔سرکاری آفسیرز کو ایک لاکھوں میں تنخواہیں دی جاتی ہیں، اور پھر انھیں مفت بجلی، مفت پٹرول، مفت گاڑیاں ، سرکاری گھر یا ہاﺅس رینٹ اور ملازمین بھی دیے جاتے ہیں۔دوسری طرف ایک عام آدمی جو30 ہزار روپیہ تنخواہ لے رہا ہے، وہ اپنی جیب سے بجلی کے بل بھی ادا کرتا ہے، پٹرول بھی خریدتا ہے، گاڑیوں کے کرائے بھی ادا کرتا ہے، سب کچھ اپنی جیب سے کرتا ہے تو لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے اپنی جیب سے کیوں نہیں کرسکتے؟ انھیں تو گاڑی تک نہیں ملنی چاہئیں۔

جتنی ان کی تنخواہیں ہیں یہ تو اپنی تنخواہ سے بھی گاڑی خرید سکتے ہیں بڑی گاڑیاں نہ خریدیں جتنی ان کی تنخواہیں ہیں ، ان کے مطابق اپنے لیے گاڑیاں لے لیں، جب عوام کیلئے کام کر رہے ہیں تو پھر عوام کا خیال بھی کریں۔کاش ہمارے حکمران عام پاکستانیوں کے چہرے کبھی غور سے دیکھیں، جن کے چہروں پر حسرت نمایاں نظر آتی ہے اور آنکھوں میں آنے والے دنوں کے وسوسے اور خدشات سر اٹھاتے ہیں۔

پاکستانی اقتصادیات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ ہی سے ملک میں ہوشربا مہنگائی ہوئی ہے، جس میں غریب عوام پستے ہی جا رہے ہیں۔اس مہنگائی کی وجہ سے زراعت میں بھی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے، جس سے پاکستان کا غریب کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کے صرف پانچ فی صد جاگیردار64 فی صد زرعی زمین پر قابض ہیں۔کس قدر بے حسی ہے کہ پاکستان میں افسر شاہی کی مراعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جبکہ غریب افراد روٹی کو ترس رہا ہے۔

ہمارے ملک میں سرکاری افسروں کو بہت زیادہ مراعات دی جاتی ہیں، انھیں مفت بجلی، مفت گاڑیاں اور مفت پٹرول دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی افسروں کو ملازمین دیے جاتے ہیں، کئی افسروں کو سیکیورٹی گارڈز اور بنگلے بھی ملتے ہیں، پھر ان بنگلوں کی حفاظت کیلئے سیکیورٹی گارڈ اور ان کے باغیچوں میں کام کرنے کیلئے مالی اور کچن میں کام کرنے کیلئے خانساماں اور کئی طرح کے ملازمین دیے جاتے ہیں، جو صرف اور صرف ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ہماری حکومتیں افسروں کو یہ مراعات دیتی ہیں اور انھیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں، کیونکہ یہ پیسہ ہمارے حکمرانوں کی جیبوں سے نہیں آتا، یہ عوام کا پیسہ ہے، اس لیے مفت کا مال سمجھ کر خوب لوٹا جا رہا ہے۔عوام کو مہنگائی، بدامنی ، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی دلدل سے نکالنے کیلئے حکمرانوں نے کچھ نہیں کیا، اربوں ڈالر غیر ملکی قرضے لینے کے باوجود عوام کو اندھیرے میں رکھنا، غریب عوام سے بجلی کے ڈبل، ٹرپل بل وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ آج ہر شخص بیروزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور بد امنی کی وجہ سے شدید پریشان ہے۔

اس وقت وطن عزیز بہت ہی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کشکول توڑ دیں تو طبقہ اشرافیہ گزارا کیسے کرے گا؟یہ اشرافیہ کا پاکستان ہے ، عوام تو بس غلام ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button