پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا نیا طوفان
تحریر:حافظ محمد صالح

پاکستانی حکومت نے انٹرنیشنل مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے تاریخ ساز مہنگائی کی آگ میں جلنے والی عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پٹرول بم گرا دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان برپا ہو گیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ایک چین ری ایکشن کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔
حالیہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بوجھ کس تیزی سے عام آدمی تک منتقل ہو رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا دکاندار اس اضافے کو کس طرح برداشت کرے گا، اس کا کوئی واضح جواب حکومتی پالیسیوں میں نظر نہیں آتا حالانکہ ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہ فریضہ شامل ہے کہ وہ عوام کو مسائل اور مصائب سے محفوظ رکھنے کی منصوبہ بندی کرے مگر پاکستان میں حکومتی اقدامات عام آدمی کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ہاں البتہ اشرافیہ کے آرام و آسائش کا اہتمام حکومتوں کی طرف سے ضرور کیا جاتا ہے جس کی تازہ مثال یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی حالیہ جارحیت کو جواز بنا کر حکومت نے جتنے بھی اقدامات کیے ہیں ۔
ان کے منفی اثرات براہ راست عام آدمی کو برداشت کرنا پڑے ہیں جبکہ اشرافیہ کو چونکہ رہائش اور آمدو رفت وغیرہ وغیر ہ کی تمام سہولتیں حکومتی خرچ پر مفت فراہم کی جاتی ہیں اس لیے یہ طبقہ نہ صرف یہ کہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے اثرات سے محفوظ رہا ہے بلکہ اسے فراہم کی جانے والی آسائشوں پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافہ کا بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو یقیناً ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس بحران کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دینا ہی واحد راستہ تھا؟ حکومت نے ایک طرف یہ مو¿قف اختیار کیا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ یہ تضاد عوامی سطح پر بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔معاشی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بحران کے وقت بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جس طرح اندھا دھند اضافہ کیا ہے یہ سراسر ظلم ہے عوام کے لیے یہ ظلم برداشت کرنا ممکن نہیں ہو گا حکومت کو اس ظلم سے گریز کرنا چاہیے۔ حکمرانوں کو شاید اندازہ نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ظالمانہ اضافہ کے اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر کس قدر سنگین ہوں گے اور پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام آدمی کے لیے زندگی کس قدر دشوار ہوگیا ہے۔
پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ تاریخی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ انحصار محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ پالیسی سازی کی ناکامیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ ماضی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں، تب بھی توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے اس رفتار سے آگے بڑھے جس کی ضرورت تھی، نہ ہی مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، ہائیڈرو پاور یا شمسی توانائی کو مو¿ثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً آج جب عالمی سطح پر بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔
یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں خوراک کی بنیادی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو جواز بنا کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انتظامی ناکامی، مارکیٹ ریگولیشن کا فقدان اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے۔توانائی کے شعبے میں بدانتظامی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل نہ صرف حل طلب ہیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان اداروں کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے؟ یا ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے دعوے بھی حقیقت سے زیادہ قریب نہیں لگتے۔
بیوروکریسی کے اخراجات، سرکاری مراعات اور غیر ضروری منصوبے بدستور جاری ہیں۔ ایسے میں جب عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ یکطرفہ محسوس ہوتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے بھی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہیں۔ قرضوں کے حصول کے لیے حکومت کو سخت شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہوتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط کو قبول کرنے سے پہلے کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی؟ کیا معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود ہے؟ پاکستان کی معاشی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بار بار بیرونی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت قلیل المدتی ریلیف کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظرانداز کرتی رہی ہے۔
نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ ایک قسط کی ادائیگی کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کا آسان ترین ذریعہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حالیہ اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جب مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر براہ راست مہنگائی پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک معاشی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری جانب آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔اگر موجودہ پالیسیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔



