انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

معرکۂ حق سے سفارتی محاذ تک

شاہدجاوید ڈسکوی / دستک

دنیا اس وقت غیر یقینی، کشیدگی اور طاقت کے بدلتے توازن کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی سیاست میں معمولی سی چنگاری بھی ایک بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ ایسے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک ممکنہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر رہی تھی، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں تاہم اس خطرناک صورتحال میں پاکستان نے جس بصیرت، حکمت اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ تاریخ ساز بھی ہے۔اسلام آباد تیزی سے عالمی سفارتکاری کے ایک نئے تزویراتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں بڑی طاقتوں کی نظریں مرکوز ہوتی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کو پاکستان بھیجنے کا باضابطہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس وفد میںاہم اور بااثرامریکی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شمولیت اس دورے کو مزید وزن دیتی ہے، جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ محض رسمی یا روایتی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ تاریخی عالمی معاہدے کی تیاری ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوںگے۔اس ساری پیش رفت کا سہرا پاکستان کے سر سجتا ہے۔
حالیہ عرصے میں پاکستان نے داخلی استحکام اور دفاعی میدان میں جو کامیابیاں حاصل کیں، خصوصاً معرکۂ حق میں ازلی و ابدی دشمن ہندوستان کے خلاف تاریخی فتح نے نہ صرف قوم کے حوصلے بلند کیے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان عالم اسلام کی ایک مضبوط، خودمختار اور فیصلہ ساز ریاست ہے۔ اس کامیابی میں بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت نمایاں رہی، جنہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ بعد ازاں سفارتی میدان میں بھی پاکستان کے کردار کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل، جغرافیہ یا عسکری طاقت سے عظیم نہیں بنتیں بلکہ ان کی اصل قوت ان کی قیادت، عزم اور درست سمت کے تعین میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کو اولوالعزم، مدبر اور دوراندیش قیادت میسر آ جائے تو ناممکن دکھائی دینے والے اہداف بھی ممکن بن جاتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ صورتحال میں بھی ایک ایسی ہی قیادت کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف داخلی و خارجی چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا بلکہ عالمی سطح پر ملک کا وقار بھی بلند کیا۔فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اس تمام منظرنامے میں غیر معمولی طور پر نمایاں رہی۔ انہوں نے عسکری میدان میں پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بہترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو بھی ناکام بنایا۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے جس نظم، ضبط اور جذبۂ قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ قومی تاریخ کا ایک روشن باب بھی ہے۔تاہم اس قیادت کی اصل انفرادیت صرف عسکری کامیابیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سفارتی میدان میں بھی اس کے اثرات نمایاں طور پر دیکھنے کو ملے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ رہی تھی اوراہم ممالک آمنے سامنے کھڑے تھے، پاکستان نے نہایت ذمہ داری، بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کیا۔ اس عمل نے نہ صرف ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد دی بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اجاگر کیا۔ پاکستان نے پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کو تحمل، مکالمے اور امن کی راہ اپنانے پر آمادہ کیا۔یہ ایک نہایت نازک اور پیچیدہ مرحلہ تھا، جہاں کسی بھی غلط قدم سے صورتحال مزید بگڑ سکتی تھی مگر پاکستان نے اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی جو امن، توازن اور ڈائیلاگ پر مبنی ہےکو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے اس مثبت کردار نے جہاں عالمی برادری میں اس کے وقار میں اضافہ کیا، وہیں ہندوستان جیسی بعض پاکستان دشمن قوتوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت بن گیا۔ وہ عناصر جو ہمیشہ پاکستان کو غیر مستحکم، کمزور اور عالمی تنہائی کا شکار دیکھنا چاہتے تھے، آج اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی پذیرائی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ان قوتوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈا، گمراہ کن بیانیے اور سازشی نظریات کا فروغ دراصل اسی اضطراب کا مظہر ہے۔یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بھی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ معرکۂ حق میں کامیابی نے جہاں دفاعی قوت کو اجاگر کیا، وہیں ایران-امریکہ کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں نے پاکستان کی سافٹ پاور کو بھی نمایاں کیا۔آج پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی اس مؤثر سفارتی حکمتِ عملی نے عالمی برادری میں اس کے مقام کو مزید مستحکم کیا۔ ہندوستان اور اسرائیل جیسی وہ قوتیں جو ہمیشہ پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنے کی خواہاں رہی ہیں، اس بدلتی ہوئی صورتحال سے واضح طور پر پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان کا ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو بھی متاثر کرتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو مخالف قوتوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ہمہ جہتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب انہیں ایک واضح سمت، مضبوط قیادت اور کامیابیوں کا تسلسل نصیب ہوتا ہے۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر قومیں اپنی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں درست فیصلے، قومی یکجہتی اور قیادت پر اعتماد اسے ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔اولوالعزم قیادت ہی کسی بھی قوم کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ اگر قیادت مخلص، باصلاحیت اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے والی ہو تو مشکلات خواہ کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، کامیابی بالآخر اسی قوم کا مقدر بنتی ہے۔ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اسی حقیقت کی عملی تصویر ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ عزم، حکمت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو کوئی منزل دور نہیں رہتی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button