انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

جنگ بندی سے پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا

فرخ ریاض بٹ

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مخلصانہ اور سنجیدہ سفارتی کاوشوں کی بدولت امریکا، اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں دنیا کو ایٹمی تباہی سے بچا لیا گیا۔حالانکہ جنگ کے شعلے اس پورے خطے کو تقریباً اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے اور پورا خطہ متاثر تھا مگر جنگ بندی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت و قار سے نوازا، پاکستان کی سفارتی محاذ پر کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے۔پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی چندگھنٹے ہی ہوئے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔لیکن دنیا کی نظریں اب اس مشروط اور عارضی جنگ بندی کو ایک معاہدے کی شکل دینے کے لیے مذاکراتی عمل پر جمی ہیں جو آج سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔
جنگ بندی سے اسرائیل کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ وہ ایران کے حوالے سے امریکا سے جو توقعات وابستہ کیے ہوئے تھا، وہ پوری نہ ہو سکیں۔ امریکا بھی اس جنگ سے نقصان اٹھا چکا ہے، اور امکان یہی ہے کہ وہ اس صورتحال کو آسانی سے فراموش نہیں کرے گا۔ اسرائیل کے نزدیک اس کے ”گریٹر اسرائیل“ کے تصور کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران مستقبل میں ان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ بندی کے باوجود یہ تنازع خلیجی خطے میں پراکسی جنگ کی صورت میں جاری رہے۔ بلاشبہ، پاکستان کو سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن اگر اس کامیابی کو بنیاد بنا کر ہم نے اپنی معیشت کو مستحکم نہ کیا اور داخلی معاملات کو بہتر نہ بنایا تو اس سفارتی کامیابی کے ثمرات محدود رہ جائیں گے۔ اس وقت اگرچہ دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہے، تاہم اس موقع پر مزید محتاط اور دور اندیش حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، عسکری اور معاشی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور آیندہ متوقع مذاکرات ایک ایسے پیچیدہ بیانیے کو جنم دے رہے ہیں جس میں طاقت، مفادات، نظریات اور سفارتکاری سب ایک دوسرے میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی شطرنج کا حصہ ہے، جہاں ہر چال کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جنگ بندی کا اعلان بظاہر ایک خوش آیند پیش رفت ہے، مگر اس کے اندر چھپی حقیقتیں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ امریکا کی جانب سے اسے اپنی مکمل کامیابی قرار دینا اور ایران کا اسے ایک عارضی وقفہ کہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں فریق اس معاہدے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔یہی تضاد مستقبل میں کسی بھی پائیدار حل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ امریکا کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرتے ہوئے خطے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے، جب کہ ایران اسے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے دفاعی اور سفارتی محاذ کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے درمیان اسلام آباد میں منعقد ہونے والی نشست میںیکھنا ہوگا کہ دونوں ممالک کیا طے کرتے ہیں اور آیا کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔ امریکا ہرگز نہیں چاہے گا کہ یہ تاثر قائم ہو کہ وہ ایران کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا ہے، جبکہ ایران بھی یہ نہیں چاہے گا کہ جنگ میں اسے کمزور سمجھا جائے۔ اسی لیے پاکستان سمیت وہ ممالک جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار بھی آئندہ دنوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے طرزِ عمل پر ہوگا۔ خلیجی ممالک کا کردار بھی واضح ہو جائے گا کہ وہ کس جانب کھڑے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان مذاکرات میں خلیجی ممالک کے تحفظات کیسے دور کیے جائیں گے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان، چین، روس، ترکیے اور مصر اپنی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں، جن کی اپنی اہمیت ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ امریکا، اسرائیل اور ایران کو ہی کرنا ہے اگر یہ ممالک اپنے رویوں میں لچک پیدا نہیں کرتے، خصوصاً اگر امریکا اور اسرائیل اپنے سخت موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے، تو مذاکرات کی کامیابی ایک بڑا سوالیہ نشان رہے گی۔ پاکستان نے اب تک جو کردار ادا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے، لیکن اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگر پاکستان اس مرحلے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو عالمی سیاست میں اسے ایک اہم برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button