لاہور ( زبیر اسلم خان) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی معاہدے کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی تحسین ہو رہی ہے، تاہم اس کے ثمرات موثر طریقے سے سمیٹنے کے لیے ملک کے اندر سیاسی استحکام ضروری ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ میں سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایران، امریکہ، اسرائیل عارضی جنگ بندی معاہدہ کے بعد پاکستان کی دنیا بھر میں تحسین ہو رہی ہے تاہم عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کے ثمرات موثر طریقے سے سمیٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خطے میں کردار کے بعد افغانستان کے ساتھ امن کے قیام کی اہمیت مزید اجاگر ہوگئی ہے، حکومت اور ادارے اس معاملے پر بھی غور کریں۔ امیر جماعت اسلامی نے ممبر سازی مہم شروع کرنے اور ملک بھر میں عوامی کمیٹیوں کے قیام کی ہدایات جاری کیں اور پنجاب میں موثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے احتجاجی تحریک کو ازسرنو منظم کرنے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست کی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں توانائی بحران شدت اختیار ک رہا ہے، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، حکومت فی الفور بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے، پٹرول پر لیوی کو ختم کیا جائے اور آئی پی پیز کو اربوں کی ادائیگی بند کرکے ان سے کیے گئے مہنگے معاہدے ختم کیے جاءیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چھوٹا کسان پس چکا ہے، حکومت گندم کی خریداری کسانوں کے مطالبات کے مطابق یقینی بنائے، انہوں نے صوبے میں زراعت کی تباہی اور زرعی ادویات، کھاد اور بیجوں کی انتہائی مہنگے داموں دستیابی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت پنجاب کی کارکردگی اشتہارات کی حد تک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں وڈیرہ شاہی اور ظالمانہ نظام اور کراچی پر قابض میئر سے جان چھڑانا ہوگی، سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے تحریک جاری رہے گی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قیام امن ضروری ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں سٹیک ہولڈرز سے ملکر امن یقینی بنائیں اور عوام کو ان کے حقوق دئیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو غزہ کے بعد ایران میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑی، عالمی برادری دو ہفتے کی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے اور اسرائیل کو لبنان پر بم باری سے روکا جائے، امریکہ تمام منصوبوں کے باوجود ایران میں حکومت کا تختہ نہیں الٹا جاسکا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکومت کی جڑیں عوام میں ہیں۔



