پاکستانتازہ ترین

فیصلہ سازو! ہمارا اقتصادی مستقبل کیا ہے؟ نظام حکومت درست کرو: مولانا فضل الرحمان

لاہور (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کے اقتصادی مستقبل اور حکومتی نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ ساز واضح کریں کہ پاکستان کی معیشت کس سمت جا رہی ہے، اور نظام حکومت کی بنیادوں کو درست کیا جائے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایوان اقبال میں معروف مزاح نگار اور شاعر سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی جاگیردار یا بیوروکریسی کی ملکیت نہیں بلکہ یہ عوام کا ملک ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعض شخصیات اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ہوتی ہیں، اور ایسے لوگوں کے انتقال سے معاشرہ خود کو یتیم محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات پر 1961ء میں عوام نے خود کو یتیم محسوس کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علما نے بڑی قربانیاں دیں اور 1974ء کی تحریک میں وہ خود بھی شریک رہے، حتیٰ کہ ایک ہفتہ جیل بھی کاٹی۔ ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کی دستاویز آج بھی قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور اس مشن کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کلمے کے نام پر قائم ہوا لیکن افسوس کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اسلامی نظام نافذ نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان واضح طور پر کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔

انہوں نے موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسائل کے باعث تجارت متاثر ہو رہی ہے جبکہ چین جیسے اہم اتحادی بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا اقتصادی مستقبل کیا ہے اور پالیسی ساز اس حوالے سے کیا حکمت عملی رکھتے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج فی الحال موخر کیا گیا ہے لیکن کسی بھی وقت دوبارہ کال دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں جمہوریت، آمریت اور عسکریت تینوں نظام ناکامی کا شکار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی زبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا لہجہ مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی کا عکاس ہے۔

آخر میں انہوں نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "فارم 47 کی پیداوار” قرار دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button