
لاہور:(بیوروچیف)حضرت علی ہجویریؒ المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار مبارک کے توسیعی منصوبے میں ایک جدید ترین، دلکش اور شاندار طرزِ تعمیر کا حامل گنبد تعمیر کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف مزار کی روحانی و تاریخی عظمت کو مزید اجاگر کرے گا بلکہ اس کی افقِ منظر کو بھی ایک منفرد اور دلکش شناخت فراہم کرے گا۔

یہ گنبد روایتی اسلامی فنِ تعمیر اور جدید انجینئرنگ کا حسین امتزاج ہوگا، جو زائرین کے لیے ایک روحانی و بصری کشش کا مرکز بنے گا۔ مزار کے توسیعی منصوبے میں گنبد کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جو منصوبے کی پیش رفت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
سیکرٹری / چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ان خیالات کا اظہار مزار کے توسیعی منصوبے کے تفصیلی دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پراجیکٹس اوقاف رفیق نور وٹو، جنرل منیجر نیسپاک عادل نذیر، سپرنٹنڈنگ انجینئر سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ عیسیٰ بن معین، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو عمیر حسن، ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان، منیجر داتا دربار گوہر مصطفیٰ، ایکسین اوقاف ذوہیب محمود اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دورے کے دوران انہیں بریفنگ دی گئی کہ گنبد کی تعمیر نہایت باریک بینی، مضبوط ڈھانچے، تعمیراتی ہم آہنگی اور روحانی جمالیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہے۔ بالائی ڈھانچے کی تعمیر بھی گنبد کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ اعلیٰ معیار کے سنگِ مرمر کی کٹنگ اور خوبصورت اسلامی خطاطی کے کام پر بھی تیزی سے پیش رفت جاری ہے، جس سے مزار کی شان و شوکت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی باہمی ہم آہنگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ اسی رفتار کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گنبد سمیت منصوبے کے تمام اہم حصے آئندہ دو ماہ میں مکمل کیے جائیں تاکہ آنے والے عرس سے قبل زائرین کے لیے بہتر سہولیات یقینی بنائی جا سکیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ 4 کنال 4 مرلہ اور 17 کنال 6 مرلہ اراضی منصوبے کا حصہ ہے، نہ کہ تعمیر شدہ عمارات۔ انہوں نے بتایا کہ 4کنال 4 مرلہ کے رقبے پر سماع ہال، ہجویریہ مدرسہ کمپلیکس اور لنگر خانے تعمیر کیے جائیں گے، جو زائرین کے لیے دینی، تعلیمی اور فلاحی سہولیات میں نمایاں اضافہ کریں گے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنجاب مزارات کی بہتری، زائرین کی سہولیات میں اضافہ اور مذہبی و تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، اور یہ منصوبہ مزار کی روحانی عظمت اور تعمیراتی شان کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



