انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ٹرمپ ،یاہوگرگٹ،پاکستان مذاکرات پھر ٹریک پر لانے کیلئے سرگرم

سپیڈبریکر، میاں حبیب

مشرق وسطی پر مسلط امریکی واسرائیلی جنگ دنیا کی اس حوالے سے انوکھی جنگ ہے کہ یہ گرگٹ کو بھی مات دے گئی ہے گرگٹ تو ایسے ہی بدنام ہے اصل گرگٹ تو ٹرمپ اور نتن یاہو ہے جنھیں دنیا کے بےاعتباروں کا بے تاج بادشاہ کہا جا سکتا ہے جن کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا جو ہر وقت سجی دکھا کر کھبی مارنے کے چکروں میں رہتے ہیں وہ کہہ کچھ رہے ہوتے ہیں اور کر کچھ رہے ہوتے ہیں ۔

اگر مشرق وسطی میں جاری 50 دنوں کی جنگ کا جائزہ لیا جائے تو یہ کنفیوژن کا شاہکار نظر آئے گی کئی بار ایسے لگا بس آخری فیصلہ کن لمحہ آ گیا ہے کئی بار ایسا معلوم ہوا چند سیکنڈوں کی گیم رہ گئی ہے ابھی ایٹم بم برسا ہی چاہتے ہیں کبھی ایسے لگا تیسری عالمی جنگ چھڑا ہی چا رہی ہے کبھی ایسے لگا پورا مشرق وسطی تباہ ہونے والا ہے اور پھر ایسے بیانات بھی آئے سب ٹھیک ہو گیا ہے ہر طرف شانتی ہی شانتی ہے ابھی فوجیں بیرکوں میں جانے والی ہیں لیکن اگلے ہی لمحے ایسا موڑ آگیا کہ دوبارہ محسوس ہونے لگا کہ اب تباہی مقدر بن چکی طرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ کسی کے ایک بیان سے سٹاک مارکیٹس کریش ہوتی رہیں اور ساتھ ہی یوٹرن سے سٹاک مارکیٹس زبردست تیزی دکھانے لگیں۔

لمحوں میں فیول کی قیمتوں میں اتار چڑھائو آنے لگے لمحوں میں ہوائی مسافروں کی نقل وحمل بحال اور لمحوں میں معطل ہونے لگیں ہزاروں مسافروں کی کئی راتیں ائیرپورٹوں پر گزریں لمحوں میں بات بنتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور لمحوں میں سب کچھ ملیا میٹ ہوتا نظر آنے لگا ایسے منظر نامے بھی شاید ہی کسی نے زندگی میں پہلے کبھی دیکھے ہوں گے خدایا یہ دنیا کا نظام کن کے ہتھے لگ گیا ہے جن کا اپنا کوئی دین مذہب ہے نہ وہ دنیا کو سکھی رہنے دینا چاہ رہے ہیں جب سے مشرق وسطی پر جنگ مسلط کی گئی ہے آدھی سے زیادہ دنیا عذاب سے گزر رہی ہے تذبذب کا شکار ہے۔

عجیب وغریب قسم کی افراتفری ہے نہ کوئی کاروبار کر پا رہا ہے نہ کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے حتی کہ کوئی کہیں آنے جانے کا شیڈول بھی طے نہیں کر پا رہا کہ نہ جانے اگلے لمحے کیا ہو جائے دنیا کی معیشتوں پر لرزہ طاری ہے لیکن سنا ہے کہ ہر لمحے بدلتی ہوئی صورتحال میں جان بوجھ کر ایسے ایکٹ کیے جاتے ہیں اور ایسی بیان بازی کی جاتی ہے جس کے اثرات پر کاروبار کیا جا رہا دنیا کو خوف وہراس میں مبتلا رکھ کر کئی ایک دیہاڑیاں لگا رہے ہیں کبھی وہ قیمتیں بڑھا کر دیہاڑیاں لگا رہے ہیں اور کبھی قیمتیں گھٹا کر دیہاڑیاں لگا رہے ہیں اس غیر یقینی کی فضا نے کروڑوں لوگوں کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے لوگ جس شخص کو پاگل قراردے رہے ہیں اس نے دنیا کو پاگل کر رکھا ہے۔

اچھا بھلا معاملہ وائنڈ اپ کی طرف جا رہا تھا پاکستان نے دوسرے مرحلہ کے مذاکرات کے لیے سٹیج تیار کر لیا تھا امریکہ کی خواہش کے مطابق کئی باتوں پر ایران اور خطے کے دوسرے ممالک کو راضی بھی کر لیا تھا دونوں فریقین کی مذاکراتی ٹیمیں اسلام آباد پہنچنے ہی والی تھیں امریکہ نے تو اپنے سازوسامان کے سات جہاز اسلام آباد پہنچا دیے تھے اسلام آباد میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے لیے ہزاروں اہلکار کئی روز سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اسلام آباد کے شہریوں کو سیکیورٹی کے نام پر یرغمال بنایا ہوا تھا اسلام آباد کو چھوڑ کر پنڈی وال بھی مذاکرات کی سیکیورٹی کے لیے قربانیاں دے رہے تھے کہ اچانک امریکہ نے ایران کے ایک کارگو جہاز جو کہ چین سے واپس آ رہا تھا اس کو نشانہ بنا دیا نہ صرف اسے ہٹ کیا گیا بلکہ اس پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنا لیا اور تاثر دیا گیا کہ جہاز کو چیک کیا جا رہا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے یعنی کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید چین ایران کی مدد کر رہا ہے لیکن جہاز سے تو کچھ نہیں نکلا ۔

ایران نے دوبار مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے غیر مشروط طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دیا تھا لیکن امریکہ نے تاحال ناکہ بندی ختم نہیں کی اب چین دوسرے مرحلہ کے مذاکرات میں آنے سے ہچکچا رہا ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے دھوکہ دیا جا رہا ہے اب وہ پہلے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے اس صورتحال نے مذاکرات میں ایک بار پھر ڈیڈ لاک پیدا کر دیا ہے پاکستان اس بنی بنائی گیم کو کسی طور پر بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا وہ بھر پور کوششوں کے ساتھ دونوں فریقین کو اکھٹا کر کے مذاکرات کے ذریعے معاملہ کا حل چاہتا ہے تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے پاکستان کی ان امن کوششوں کو دنیا بھر کی حمایت حاصل ہے صرف بھارت اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ یہ بیل منڈھے چڑھے اس کے لیے وہ نہ صرف الٹے سیدھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں بلکہ شرارتوں سے بھی باز نہیں آ رہے بظاہر تو کام خراب ہو چکا ہے لیکن توقع یہی ہے کہ پاکستان مذاکرات کو دوبارہ ٹریک پر لے آئے گا ۔

ایک دو دن کی تاخیر سے پاکستان دونوں فریقین کو اسلام آباد میں دوبارہ ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن چونکہ اب اعتماد سازی کو بڑا ڈینٹ پڑ چکا ہے اب فریقین کا معاہدہ تک پہنچنا اتنا آسان نہیں بس دعا کریں معاملات احسن طریقے سے حل ہو جائیں اور دنیا سکھ کا سانس لے سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button