
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) ایران، امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے مشاورتی عمل جاری ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد نے ملاقات کی۔ تفصیل کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے وزیراعظم ہائوس پہنچے۔ ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔
جبکہ ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ غریب آبادی، سفیر رضا امیری مقدم اور ترجمان وزارت خارجہ بقائی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایران اور پاکستان کے درمیان علاقائی سکیورٹی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ایران اور پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا۔ پاک، ایران تعلقات اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ موجودہ علاقائی صورتحال پر خوشگوار اور گرمجوشی کے ماحول میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔
ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ہم نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی گفتگو کی، جن میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جاری بیانات میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے۔ بیانات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت اور جنگ کے مکمل خاتمے پر اپنے ملک کا اصولی موقف وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد عباس عراقچی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنی سوچ اور موقف بیان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انہوں نے جنگ بندی سے متعلق حالیہ صورتحال اور جنگ کے مکمل خاتمے کے بارے میں ایران کے اصولی موقف کی وضاحت کی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ مزید برآں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دورے میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی سے متعلق امور پر بات ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر بھی بات ہوگی تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی میٹنگ طے نہیں ہے، پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں ایران اپنے مشاہدات پاکستان کو فراہم کرے گا۔
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا بھی کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جوہری معاملہ ایران کی ریڈ لائن میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنمائوں نے علاقائی صورتحال پر مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ کو اہم سفارتی کوششوں پر اعتماد میں لیا ۔ نائب وزیراعظم نے ترک ہم منصب کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار کا مصر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کو فون کرکے خطے کی صورتحال اور امن کوششوں میں پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں پر بات کی، خطے اور عالمی امن کیلئے جاری مذاکرات و سفارتکاری اور امن عمل میں فریقین کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ مزید برآں اسحاق ڈار نے ایران، امریکہ مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے اور اس سے آگے امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایران، امریکہ سہولت کاری سے متعلق صرف سرکاری بیانات ہی پاکستان کا موقف ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کے زیرصدارت خطے کی تازہ صورتحال پر اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایران، امریکہ مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان کے بعد عمان روانہ ہوگئے، جہاں سے وہ ماسکو جائیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دورہ نہایت سود مند رہا ہے۔
اسلام آباد سے مسقط پہنچے کے بعد ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے قابل عمل فریم ورک کے حوالے سے موقف پیش کیا، اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارتکاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے خطے میں امن بحال کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور برادرانہ کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔



