
ریاستوں کی ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی۔ جدید سیاسی اور معاشی نظریات اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک کی اصل ترقی اس وقت مکمل سمجھی جاتی ہے جب اس کے شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ گویا ترقی کو سنبھالنا دراصل انسان کی عزت کو سنبھالنے کے مترادف ہے۔ اگر ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں عمارتیں تو بلند ہوں مگر انسان جھک جائے تو وہ ترقی نہیں بلکہ عدم توازن کی علامت بن جاتی ہے۔
پاکستان کی سیاست کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقتدار کی ایک طویل بندر بانٹ جاری ہے۔ کہیں سندھ ایک مخصوص خاندان کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، کہیں پنجاب چند سیاسی ناموں کے درمیان گردش کرتا نظر آتا ہے، کہیں خیبر پختونخوا ایک سیاسی گروپ کے زیر اثر ہے اور بلوچستان میں قبائلی اور خاندانی طاقت کا نظام غالب ہے۔ پھر جب یہی قوتیں اکٹھی ہو کر اسلام آباد میں وفاقی اقتدار کی شکل اختیار کرتی ہیں تو اکثر عوام کے حصے میں وعدے، تقاریر اور امیدوں کے سہارے رہ جاتے ہیں۔
اسی سیاسی اور معاشی نظام کی ایک جھلک مجھے ایک شام انارکلی بازار میں دیکھنے کو ملی۔ دفتر سے واپسی پر اچانک بازار کا ماحول بدلا ہوا محسوس ہوا۔ ریڑھی والے، چھابڑی والے اور کندھوں پر سامان اٹھائے مزدور اچانک بھاگنے لگے۔ کچھ لوگ اپنے سامان کو سینے سے لگا کر گلیوں کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے مجھے واقعی خوف محسوس ہوا۔ مجھے لگا شاید کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آ گیا ہے اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ میں بھی گھبرا کر ایک تنگ سی گلی میں جا کر کھڑا ہو گیا جہاں پہلے ہی کئی لوگ چھپے ہوئے تھے۔ کچھ کے کندھوں پر سامان تھا اور کچھ کے ہاتھوں میں اپنی ریڑھیوں کا سامان تھا۔
میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ آپ لوگ کس سے بھاگ رہے ہیں؟ اس نے تلخی سے جواب دیا کہ ہم ایک ایسے حکومتی نظام سے بھاگ رہے ہیں جو نالائق بھی ہے اور عوام دشمن بھی۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ خدا کا خوف کریں، آپ کی حکومت آپ کے لیے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے بنا رہی ہے، سڑکیں بن رہی ہیں، دیواریں خوبصورت بنائی جا رہی ہیں اور شہر سنوارے جا رہے ہیں۔
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا کہ ان خوبصورت سڑکوں کا کیا کریں جن پر بھوکے لوگ چل رہے ہوں۔ کبھی ان رنگین دیواروں کے پیچھے جھانک کر بھی دیکھا ہے جہاں لوگ بھوک اور بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ کہیں خودکشیاں ہو رہی ہیں اور کہیں بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، سرمایہ کار ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، اور جو تھوڑی بہت روزی بچی تھی وہ بھی سرکاری جرمانوں اور دباؤ میں ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مزدوری اب روزگار نہیں بلکہ جرم بنتی جا رہی ہے۔
اس کی باتیں سن کر مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف چند افراد کی بھاگ دوڑ نہیں تھی بلکہ ایک پورے معاشی اور سماجی دباؤ کی تصویر تھی۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ کچھ دکانیں بظاہر بند تھیں مگر شٹر کے نیچے سے کاروبار جاری تھا اور لوگ گلیوں میں چھپ کر سامان خرید رہے تھے۔ یہ منظر کسی منظم بازار سے زیادہ ایک خوف زدہ معیشت کا منظر لگ رہا تھا۔
معاشی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاستی فیصلے عوامی زندگی کی بنیادی ضروریات کو سمجھے بغیر نافذ کیے جائیں تو وہ معاشرے میں غیر رسمی اور خفیہ معیشت کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ریاستی نظم متاثر ہوتا ہے بلکہ شہریوں کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی وسائل کی بچت اور نظم و ضبط پیدا کرنا مقصود ہو تو اس کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے؟ کیا اس چھوٹے دکاندار سے جس کی روزی کا واحد ذریعہ اس کی دکان ہے، یا ان مراکز اقتدار سے جہاں ریاستی وسائل سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں؟
دنیا کے کئی ترقی یافتہ معاشروں میں ریاستی قیادت سادگی اور ذمہ داری کی مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر کاپن ہیگن اور ایمسٹرڈیم جیسے شہروں میں وزراء اور اعلیٰ حکام کا سائیکلوں پر دفتر جانا ایک عام منظر ہے۔ اسی طرح فن لینڈ اور ناروے میں حکمران طبقہ ریاستی وسائل کے استعمال میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے جس کی وجہ سے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد قائم رہتا ہے۔
اس کے برعکس جب ریاستی ڈھانچے اور عوامی زندگی کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں تو معاشرتی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں میں اصل چیلنج یہی ہے کہ ترقی کے منصوبے عوامی عزت اور معاشی انصاف کے ساتھ جڑے ہوں۔ اگر ترقی کا ماڈل صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود رہے اور انسانی فلاح کو نظر انداز کر دے تو وہ ترقی دیرپا نہیں رہتی۔
سیاسیات اور معاشیات کے کئی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست کی کامیابی کا اصل پیمانہ انسانی وقار ہے۔ جب شہری خود کو محفوظ، باعزت اور معاشی طور پر بااختیار محسوس کریں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ معاشروں نے ایک بنیادی اصول اختیار کیا ہے کہ ریاست کی طاقت کا مقصد عوام پر اختیار قائم کرنا نہیں بلکہ عوام کی عزت کو محفوظ بنانا ہے۔
اگر کسی معاشرے میں شہری خوف کے ماحول میں روزگار تلاش کریں، مزدور اپنی محنت کو چھپ کر بیچنے پر مجبور ہو جائے اور چھوٹا کاروبار نظام کے دباؤ میں غیر رسمی شکل اختیار کر لے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ترقی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں سڑکیں بھی بنتی ہیں اور انسان بھی سنبھلتا ہے، کیونکہ جب ریاست اپنے شہریوں کی عزت کی حفاظت کرتی ہے تو دراصل وہ اپنی ہی ترقی کو محفوظ کر رہی ہوتی ہے۔ شاید یہی وہ بنیادی سبق ہے جو ایک مصروف بازار کے ایک مختصر مگر گہرے مشاہدے سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔
اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر ترقی کا توازن انسان سے چھن جائے تو پھر معاشرے میں عجیب منظر جنم لیتے ہیں — جہاں زندہ لوگوں کی امیدیں خاموش ہو جاتی ہیں اور قبرستان کے باہر ترقی کا میلہ سجا دیا جاتا ہے۔



