
یکم مئی یعنی”یومِ مئی“ ہر سال کیلنڈر پر ایک سرخ نشان کی طرح نمودار ہوتا ہے۔ یہ دن بظاہر ان جفاکش ہاتھوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہے جنہوں نے انسانیت کے خوابوں کو کنکریٹ اور سٹیل کی تعبیر دی، لیکن حقیقت میں یہ دن ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ شکاگو کے مزدوروں نے 1886 میں جن حقوق کے لیے اپنا خون دیا تھا، کیا وہ آج کے پاکستانی یا تیسری دنیا کے مزدور کو میسر ہیں؟ یا ہم صرف ایک دن کی سرکاری چھٹی منا کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں؟
آج جب آپ مئی کی اس تپتی دوپہر میں اپنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر یہ سطریں پڑھ رہے ہیں، ذرا تصور کریں اس باپ کا جو شاہراہوں پر بھاری پتھر توڑ رہا ہے تاکہ اس کے بچے دو وقت کی روٹی سکون سے کھا سکیں۔ اس کے ماتھے سے ٹپکنے والا پسینہ صرف پانی نہیں بلکہ اس کی زندگی کا نچوڑ ہے جو اس بے رحم سڑک پر خشک ہو جاتا ہے جس پر بڑی بڑی گاڑیاں اسے حقارت سے دیکھتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں، وہاں مزدور کی اہمیت صرف ایک”ٹول“ (آلے) کی سی رہ گئی ہے،استعمال کرو اور بھول جاؤ۔ہمارے لیے یہ مقامِ فکر ہے کہ آج بھی ملک کے لاکھوں بھٹوں، کارخانوں اور کھیتوں میں ”جبری مشقت“ کی زنجیریں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ ننھے ہاتھ جنہیں قلم پکڑنا چاہیے تھا، وہ کیوں اینٹیں تھوپ رہے ہیں؟ وہ بوڑھی آنکھیں جنہیں تسبیح کے دانوں پر سکون تلاش کرنا چاہیے تھا، وہ کیوں کوڑے کے ڈھیر میں رزق تلاش کر رہی ہیں؟ ہم نے ترقی کا ایسا مینار کھڑا کیا ہے جس کی بنیادوں میں غریب کی ہڈیاں دفن ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے ”حق ِ محنت“ کو”بھیک“ بنا دیا ہے۔ مزدور کو اس کا جائز حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر آ کر احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ سرمایہ دار طبقہ ایوانوں میں بیٹھ کر ان کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے۔ جب کم از کم اجرت کا اعلان ہوتا ہے، تو کیا کبھی کسی پالیسی ساز نے سوچا کہ موجودہ ہوشربا مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے طوفان میں کیا ایک خاندان پچیس یا تیس ہزار روپے میں مہینہ گزار سکتا ہے؟ یہ اجرت نہیں، یہ غریب کو زندہ درگور کرنے کی ایک کوشش ہے۔یومِ مئی پر بڑے بڑے سیمینارز ہوں گے، ہوٹلوں میں پرتعیش ظہرانے دیے جائیں گے جہاں ”مزدور کی عظمت“ پر تقاریر کی جائیں گی۔ لیکن ان تقاریر کی گونج اس مزدور تک کبھی نہیں پہنچتی جو شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہوئے اپنے بچوں سے نظریں چرانے پر مجبور ہوتا ہے۔ کیا ہمارا احساس اس وقت نہیں جاگتا جب ہم کسی ریستوراں میں ہزاروں روپے کا بل ایک پل میں ادا کر دیتے ہیں، لیکن رکشے والے سے دس روپے کے لیے آدھا گھنٹہ بحث کرتے ہیں؟ ہماری یہ دوغلی اخلاقیات ہی وہ سماجی کینسر ہے جو اس معاشرے کو اندر سے کھا رہا ہے۔
اسلام نے تو حکم دیا تھا کہ”مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو“، لیکن ہم نے اسے ایسا نظام دیا ہے جہاں اس کا پسینہ تو کیا، خون بھی نچوڑ لیا جائے تب بھی اسے اس کا پورا صلہ نہیں ملتا۔ آج مزدور صرف بھوک سے نہیں مر رہا، وہ ہماری بے حسی سے مر رہا ہے۔ اسے تحفظِ صحت میسر نہیں، اسے سوشل سیکیورٹی حاصل نہیں، اور اگر وہ کام کے دوران کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو اس کی زندگی کی قیمت صرف چند لاکھ روپے لگائی جاتی ہے۔آئیے اس یومِ مئی پر صرف چھٹی نہ منائیں، بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ اگر آپ کے گھر یا دفتر میں کوئی ملازم کام کرتا ہے، تو کیا آپ نے کبھی اس کے بچوں کی تعلیم کا پوچھا؟ کیا آپ نے اسے عید پر وہ خوشیاں دیں جو آپ نے اپنے بچوں کے لیے خریدیں؟ اگر جواب”نہیں“ ہے، تو ہمیں یومِ مئی کی تقریبات کا حصہ بننے کا کوئی حق نہیں۔
یاد رکھیں،جب تک محنت کش طبقہ سسکتا رہے گا، یہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ ترقی وہ نہیں جو آسمان چھوتی عمارتوں سے نظر آئے، ترقی وہ ہے جو اس مزدور کے چہرے پر اطمینان کی صورت میں جھلکے جس نے وہ عمارت بنائی ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے اور عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم نہ کیا، تو تاریخ گواہ ہے کہ جب بھوک اور پیاس حد سے بڑھ جاتی ہے، تو پھر بڑے بڑے تخت و تاج ہوا میں اڑ جایا کرتے ہیں۔مزدور کی سسکتی ہوئی آہ صرف ایک آواز نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے،اس سے پہلے کہ یہ آہ کسی طوفان میں بدل جائے، محنت کش کو وہ عزت اور حق دیجیے جس کا وہ مستحق ہے۔



