بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات آج

فیصل درانی

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی پولنگ 7 جون 2026 کو ہورہی ہے۔ یہ انتخابات پہلے جنوری 2026 میں ہونے تھے لیکن شدید موسم اور برفباری کی وجہ سے مؤخر کر دیے گئے تھے۔
موجودہ انتخابی صورتحال یہ ہے کہ
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عمومی نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ حتمی فہرست کے مطابق 403 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 272 آزاد امیدوار اور 131 سیاسی جماعتوں کے امیدوار شامل ہیں۔
ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 23 امیدوار, پاکستان مسلم لیگ نون کے 22 امیدوار نمایاں حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ بظاہرا تحریک انصاف کے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے امیدواروں کو ابتدائی طور پر ہی اؤٹ کر دیا گیا ہے اور کمپین کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی مگر ان تمام تر پابندیوں اور حکومتی دھونس کے باوجود تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام انہیں ہی ووٹ دے گی دوسری جانب میرے مشاہدے کے مطابق اس بار کوئی ایک جماعت واضح برتری میں نظر نہیں آ رہی۔ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد اور مقامی سیاسی دھڑوں کی موجودگی کی وجہ سے ہنگ اسمبلی یا اتحادی حکومت کا امکان زیرِ بحث ہے۔
جسکے اہم عوامل
مقامی مسائل, روزگار، سیاحت، معدنیات، آئینی حقوق اور دیگر ہیں جس میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات اور آزاد امیدواروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف اضلاع جیسے گلگت، اسکردو، دیامر، غذر اور استور میں مقامی برادریوں کا ووٹ بینک عوامل نتائج پر اثرانداز ہوں گے۔ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی عوام متجسس ہیں کہ
کون جیت سکتا ہے؟
اس حوالے سے کوئی مستند سروے یا پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ گلگت کے رہائشی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی , مسلم لیگ نون, پاکستان تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان سخت مقابلے ہو گا، لیکن حتمی نتیجہ ووٹنگ اور بعد ازاں آزاد امیدواروں کی حمایت پر منحصر ہوگا۔ میں اپنے قار ین کو بتانا چاہتا ہوں کہ
گلگت بلتستان اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں، جن میں 24 عمومی اور 9 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ تاہم انتخابی مقابلہ بنیادی طور پر 24 عمومی حلقوں میں ہوتا ہے، جبکہ مخصوص نشستیں بعد ازاں جماعتی پوزیشن کے مطابق تقسیم کی جاتی ہیں۔ 2026 کے انتخابات میں سیاسی منظرنامہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ کھلا اور غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے کیونکہ 2020 میں برتری حاصل کرنے والی تحریک انصاف شدید داخلی اور قومی سیاسی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مجلس وحدت المسلمین ، جے یو آئی (ف) اور آزاد امیدوار کئی حلقوں میں مضبوط حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت وفاق میں حکمران جماعت ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں، وفاقی وسائل اور تنظیمی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی گلگت بلتستان میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت کو مقامی انتخابات میں فائدہ ملتا ہے۔ جبکہ حالیہ انتخابی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ (ن) لیگ گلگت، دیامر اور استور کے متعدد حلقوں میں مضبوط مقابلہ کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی
گلگت شہر، گانچھے اور بعض بلتستانی حلقوں میں روایتی ووٹ بینک رکھتی ہے۔ سابق ادوارِ حکومت اور مقامی قیادت کی موجودگی کی وجہ سے یہ جماعت کئی حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا ووٹ تقسیم ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی کو اضافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
2020 میں تحریک انصاف نے سب سے بڑی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی اور متعدد آزاد امیدوار بھی بعد میں اس میں شامل ہوئے تھے۔ تاہم 2023 کے بعد قومی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود استور، گلگت، غذر اور بعض دیہی حلقوں میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مجلس وحدت المسلمین بلتستان خصوصاً سکردو کے بعض حلقوں میں ایک اہم قوت ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مقامی مسائل پر سیاست کے باعث یہ جماعت مخصوص حلقوں میں براہِ راست کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسی طرح آزاد امیدوار گلگت بلتستان کی سیاست میں شخصیات، قبائلی اثر و رسوخ اور خاندانی روابط بہت اہم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بڑی جماعتوں کے امیدواروں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2020 میں بھی متعدد امیدوار آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر بعد میں مختلف جماعتوں میں شامل ہوئے تھے۔
اس وقت گلگت بلتستان کے انتخابات میں علاقہ وار اور حلقہ وار صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ گلگت شہر کاحلقہ روایتی طور پر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلے کا میدان رہا ہے۔ شہری ووٹر ترقیاتی منصوبوں، روزگار اور آئینی حقوق کے معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس بار تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
نگر میں مقامی شخصیات کا اثر کافی زیادہ ہے۔ یہاں جماعتی وابستگی کے ساتھ ساتھ امیدوار کی ذاتی مقبولیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آزاد امیدوار یا مقامی دھڑے انتخابی نتائج بدل سکتے ہیں۔
ہنزہ نسبتاً تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پر متحرک حلقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نظریاتی سیاست، سیاحت، ماحولیات اور مقامی خودمختاری کے موضوعات اہم ہیں۔ اس حلقے میں روایتی جماعتوں کے ساتھ مقامی امیدوار بھی مضبوط چیلنج پیش کر سکتے ہیں۔
غذر میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مقامی قوم پرست عناصر کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔ یہ ضلع انتخابی طور پر غیر متوقع نتائج دینے کے لیے مشہور رہا ہے۔
استور اور دیامر روایتی طور پر قومی جماعتوں کے درمیان مقابلے کا مرکز رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی سیاسی میراث اور پی ٹی آئی کا اثر اب بھی موجود ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) بھی یہاں بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کا حلقہ نمبر 13 خصوصی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ یہ نشست قانونی تنازعات کے باعث طویل عرصہ زیر بحث رہی۔
دیامر میں مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف)، پی ٹی آئی اور بااثر مقامی خاندانوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ مذہبی اور قبائلی سیاست یہاں نسبتاً زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
بلتستان ڈویژن کا حلقہ سکردو پورے گلگت بلتستان کا سب سے زیادہ سیاسی طور پر متحرک خطہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی سبھی سرگرم ہیں۔ کئی حلقوں میں نتائج کا فرق چند ہزار ووٹوں سے بھی کم رہ سکتا ہے۔
کھرمنگ اور شگر کے حلقے روایتی سیاسی خاندانوں اور مقامی شخصیات کے اثر میں رہتے ہیں۔ جماعتی وابستگی اہم ضرور ہے لیکن امیدوار کی مقامی مقبولیت اکثر فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
گانچھے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اثر رہا ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) بھی اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کئی سیاسی مبصرین گانچھے کو "کنگ میکر ضلع” قرار دیتے ہیں کیونکہ یہاں کے نتائج حکومت سازی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے تین بڑے امکانات سامنے آتے ہیں:
مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن جائے اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت تشکیل دے۔ ہنگ اسمبلی وجود میں آئے جہاں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ پیپلز پارٹی اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں، خصوصاً اگر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان نشستیں قریب قریب تقسیم ہو جائیں۔ 33 نشستوں والی گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جیت ہی پاکستان میں ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button