انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

ریاست، عوام اور بیانیوں کی کشمکش

تحریر: عاصم رضا خیالوی

تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں اصل جنگ بارود، گولی اور توپ کی نہیں بلکہ الفاظ، تصورات اور بیانیوں کی ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر پیدا ہونے والا حالیہ تنازع بھی صرف ایک آئینی یا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کی جنگ بن چکا ہے جس میں حقائق، جذبات، سیاست اور قومی مفادات ایک دوسرے کے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں کوئی اچانک پیدا ہونے والا انتظام نہیں۔ یہ نشستیں ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی حیثیت، تقسیم ہند کے بعد ہونے والی ہجرتوں اور کشمیری مہاجرین کی سیاسی نمائندگی کے تصور سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر کسی طبقے کو ان نشستوں پر اعتراض ہے تو پاکستان اور آزاد کشمیر کا آئین اس کے لیے قانونی اور جمہوری راستے فراہم کرتا ہے۔ عدالتیں موجود ہیں، اسمبلی موجود ہے، سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور آئینی ترمیم کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔

جمہوریت میں اختلاف رائے جرم نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح ہے۔ لیکن اختلاف رائے اور ریاستی تصادم کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے۔ جب احتجاج کی زبان آئین اور قانون کے دائرے سے نکل کر تصادم، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے میں تبدیل ہو جائے تو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ واقعات کے دوران بعض حلقوں نے پورے معاملے کو اس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جیسے پاکستان اور کشمیری عوام ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔ یہ تاثر نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے بلکہ زمینی حقیقت سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کو اپنے قومی تشخص کا حصہ سمجھا ہے۔ لاکھوں کشمیری خاندان پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔ انہیں تعلیم، کاروبار، ملازمت اور جائیداد کے وہی حقوق حاصل ہیں جو دیگر پاکستانی شہریوں کو حاصل ہیں۔ کشمیریوں کو کبھی اجنبی نہیں سمجھا گیا بلکہ انہیں قومی وجود کا حصہ تصور کیا گیا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں شدید اختلافات کے باوجود آئین اور قانون کے اندر رہ کر جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ کسی بھی سیاسی یا آئینی مسئلے کا حل پارلیمنٹ، عدالت اور جمہوری مکالمے میں تلاش کیا جاتا ہے، نہ کہ تصادم اور انتشار میں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پربدھ کو بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رہی۔ راولا کوٹ میں صورتحال زیادہ حساس رہی جہاں مساجد سے ہونے والے اعلانات کے ذریعے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی بھی اطلاعات ہیں۔

ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی کے مطابق راولا کوٹ کی مساجد سے “کرفیو کے نفاذ” کے اعلانات کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
مقامی صحافیوں کے مطابق بعض مساجد سے ایسے اعلانات کیے گئے جن میں شہریوں کو گھروں میں رہنے اور شہر میں داخلے سے روکنے کی بات کی گئی۔ ایک مقامی شہری نے بھی ان اعلانات کی تصدیق کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق لانگ مارچ کے لیے آنے والے قافلے ہجیرہ کے علاقے میں موجود ہیں اور راولا کوٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احتجاج کے باعث پورے خطے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مظفر آباد میں فضائی نگرانی جاری ہے جبکہ باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں کاروبار، ٹرانسپورٹ، بینک اور پٹرول پمپس بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ احتجاج 9 جون سے جاری ہے جس کا تعلق مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے ہے، اور کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رہے گی۔
حکومت اور احتجاجی قیادت اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں جبکہ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
مظفر آباد پولیس کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے رہنما شوکت نواز میر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے رائے سازی کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ یوٹیوب، سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن چینلز کے ذریعے بعض اوقات ایسے بیانیے بھی سامنے آتے ہیں جن میں ریاستی اداروں، خصوصاً پاکستان کے عسکری، سکیورٹی اور سیاسی اداروں کے بارے میں شدید اور یکطرفہ تنقید کی جاتی ہے۔ اس تنقید کا ایک حصہ یقیناً جمہوری آزادیِ اظہار کے دائرے میں آتا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تاثر سازی اور حقائق کے درمیان توازن ختم ہو جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے تجزیہ کار اور یوٹیوبرز ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرتے ہیں، اور بعض اوقات ان کے بیانیے میں جذباتی یا سیاسی جھکاؤ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے، بشمول افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ملک کا سیاسی و آئینی ڈھانچہ، دہائیوں سے ملک کے اندر امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔

ریاستی اداروں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ الزام کہ ریاست اپنے ہی عوام کی دشمن ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جسے ثابت کرنے کے لیے غیر معمولی شواہد درکار ہوتے ہیں۔

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ خون، تاریخ، ثقافت اور مشترکہ مستقبل کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو مضبوط بنانے کا راستہ آئین، قانون اور مکالمے سے گزرتا ہے، نہ کہ نفرت اور تصادم سے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button