کراچی: (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں جاری اپنے ویڈیو پیغامات میں کہا ہے کشمیر کے عوام کو وہی آئینی، جمہوری اور معاشی حقوق دلانا چاہتے ہیں جو پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہیں۔
حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کشمیری عوام کے بنیادی حقوق ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی جدوجہد جاری رکھے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ویڈیو پیغام میں کہا کشمیری عوام کا سب سے بنیادی حق حقِ حاکمیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام جس امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیں، انتخابی نتائج بھی اسی عوامی فیصلے کی حقیقی عکاسی کریں۔
آزاد کشمیر کی حکومت اور اس کے مستقبل سے متعلق تمام فیصلے کشمیر کے عوام کی مرضی اور مینڈیٹ کے مطابق ہونے چاہئیں۔ پاکستان کے جن اداروں میں کشمیر کے پانی، بجلی اور بجٹ سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں، وہاں کشمیری عوام کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی اپنی آواز اور مؤثر کردار موجود ہو۔اپنے دوسرے ویڈیو پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے حقِ ملکیت پر زور دیتے ہوئے کہاکشمیر کے پانی، بجلی، زمین، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل پر پہلا حق کشمیری عوام کا ہونا چاہیے۔
اگر کشمیر کے دریاؤں سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان کو روشن کرتی ہے تو کشمیر کے گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں کو بھی اس کے ثمرات اور سہولیات پوری طرح ملنی چاہئیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے وسائل سے چلنے والے ہر ترقیاتی منصوبے کا مکمل حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور وسائل کا جائز حصہ کشمیری عوام کو دیا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تیسرے ویڈیو پیغام میں حقِ روزگار کو نوجوانوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کشمیر کے وسائل یا کشمیر کی زمین پر شروع ہونے والے تمام منصوبوں میں روزگار کا پہلا حق مقامی نوجوانوں کو ملنا چاہیے۔ ہر ہائیڈل پاور پراجیکٹ، سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں اور سیاحت سے متعلق ترقیاتی اسکیموں میں مقامی افراد کے لیے ملازمتیں لازمی قرار دی جائیں۔
یہ کسی صورت مناسب نہیں کہ زمین اور وسائل کشمیر کے ہوں جبکہ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی ملازمتیں دوسرے علاقوں کے لوگوں کو دی جائیں۔کشمیر کے وسائل، کشمیر کی زمین اور ان سے پیدا ہونے والا روزگار کشمیری نوجوانوں کا حق ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے آزاد کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ 2 اگست کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان "تیر” پر مہر لگا کر حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کے حصول کی جدوجہد میں ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل، وسائل اور ترقی کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بلاول بھٹو نے پیغام میں کہاآزاد کشمیر میں مصالحتی کمیشن بنانے کی تجویز پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جواب دیتے ہوئے تجاویز دی ہیں۔مجھے (کالعدم) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مصالحتی کمیشن کی تجویز کے خط کا جواب موصول ہوگیا ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی نے جواب کے ساتھ کچھ تجاویز بھی ارسال کی ہیں۔ ہر قیمتی جان کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے، اس وقت میری اولین ترجیح یہ ہے کہ موجودہ بحران کے خاتمے میں مدد کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
اسی کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں جلد از جلد معمولاتِ زندگی بحال کروانا بھی میری ترجیح ہے۔ میں خیرمقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مجوزہ کمیشن کو آگے بڑھنے کے ایک ممکنہ ادارہ جاتی راستے کے طور پر قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، اس کمیشن کی توثیق اب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بھی کرچکی ہے جس کا میں بغور جائزہ لوں گا۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد اب میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سے بھی مشاورت کروں گا جس پر وہ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے ابتدائی رائے حاصل کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا کسی متفقہ تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ بنیاد موجود ہے یا نہیں ہے۔



