مریم نوازاورپہلی رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس کا قیام
لاہور(فیاض ملک) فیاضیاں

ارض پاک کے طول و عرض میں واقع ہر شہر ،تحصیل اور علاقے میں آئے روز مظاہرہ، دھرنا، جلوس، ریلی، ہڑتال، پہیہ جام ہڑتال، قلم چھوڑ ہڑتال، بھوک ہڑتال، خودسوزی، ملین مارچ اور روڈ بلاک کرنا ایک معمول بن گیا ہے، کوئی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے تو کوئی اپنی کمزوری بے بسی اور محکومی کا مظاہرہ احتجاج کی صورت میں کرتا ہے۔
اس طرح سیاسی مظاہروں کے علاوہ ملک میں سماجی اور ذاتی نوعیت کے مظاہروں کا رواج بھی جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ اور ہر کسی نے یہ سہل راستہ ڈھونڈ نکالا ہے کہ معمولی نوعیت کے مسئلے کے حل کے لیے چند بندوں کو تیار کر کے مظاہرے پر اکسا دیا جاتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں سڑک یا کوئی چوک بند کر کے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات اور تکالیف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے ، سڑکوں اور چوراہوں پرکھڑے ہو کر مظاہرہ کرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے لوگوں کو آنے جانے میں دقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ماضی میں اگر دیکھا جائے تو مختلف احتجاجی جلسے جلوسوں میں مشتعل مظاہرین کے حملوں سے نہ صرف املاک کو نقصان پہنچایا جاتا تھا جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی متاثرہوتا تھا ۔
صوبے میں پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں تخمینے کے مطابق ایک دن میں 192 ارب کا نقصان ہوتا ہے، فسادیوں کی طرف سے ریاست کی رٹ کو بار بار چیلنج کرنے، فسادیوں اور ان کے منتظمین کی طرف سے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعدد اہلکار ہلاک، اغوا اور زخمی ہو چکے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے پہلی مرتبہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کوپہلی ترجیح دیتے ہوئے اگر کسی وزیر اعلی نے حقیقی معنوں میں عملی طور کام کیا،وہ ہے وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف ،جنہوں نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ، عوام کے جان ومال اور سرکاری املاک کے تحفظ کےلئے باقاعدہ طور پر پہلی رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس قائم کردی ہے۔
قارئین کرام، موجودہ صورتحال میں کسی بھی مشتعل جلوس سے ہر قسم کی سرکاری اور نجی املا ک کوپہنچنے والے نقصان کو بچانے کیلئے رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس کا قیام خوش آئند ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس سکواڈ کا قیام موجودہ حکومت کا ایک بڑا اقدام ہے،جس کے آنےوالے دنوں میں انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے گے۔

پنجاب پولیس کے اندر بننے والے اس نئے ونگ کی کمانڈ اس وقت ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر طارق رستم چوہان اور ان کے ساتھ ڈی آئی جی اسد سرفراز خان کے سپرد کی گئی ، ان افسران کی انتھک محنت کی وجہ سے پنجاب پولیس کے اس نئے ونگ میںشامل5ہزار کے قریب جسمانی طورپر متحرک، مستعد اور چست افسران اور جوانوں کی جدید خطوط پر فاروق آباد ٹریننگ سنٹر میں امریکہ، ترکی،یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ٹریننگ مینول کے مطابق خصوصی ٹریننگ دی گئی ہیں ۔

اس فورس کا مقصد عوامی احتجاج اور ہنگاموں سے نمٹنا، حساس تنصیبات جیسا کہ سرکاری عمارات اور سفارتی دفاتر کی حفاظت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ فورس اس وقت لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں تعینات ہے، اسکے آپریشنزاے آئی پر مبنی نگرانی، ہجوم کی نقل و حرکت کی نگرانی، اور فوری ردعمل شامل ہیں۔رائٹ مینجمنٹ پولیس فورس کی ایک ٹیم 250اہلکاروں پر مشتمل ہے اور ہر ٹیم میں 15 سب ٹیمیں بھی قائم کی گئیں ہیںجن میںرائٹ مینجمنٹ پولیس میں فرسٹ ایڈ ٹیم، ڈرون ٹیم،کراوڈ انگیج منٹ ٹیم، مذاکراتی ٹیم، کراوڈ کنٹرول ٹیم شامل ہے، یہ فورس جدید آلات سے لیس ہے جن میں غیرمہلک ہتھیار، ڈرونز اور ہجوم کنٹرول کے جدید آلات شامل ہیں۔

جن کی مدد سے یہ تربیت یافتہ جوان مشتعل مظاہرین کو کنٹرول کرنے سرکاری و نجی املاک کو نقصان سے بچانے کےلئے ناصرف انگیج بھی کریں گے بلکہ نجی اور سرکاری املاک پر پلاننگ کر کے حملہ کرنےوالے مظاہرین پر بھی قابو کرسکے اور اسکے ساتھ ساتھ عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کےلئے جتھوں کی صورت میں حملہ کرنےوالوں کو پروفیشنل طریقے سے ہینڈل کرے گی،رائٹ مینجمنٹ پولیس میں مظاہرین کی گرفتاری کےلئے خصوصی ٹیم، متاثرہ مقام سے انخلا کےلئے ایک الگ خصوصی ٹیم،کے نائن (ڈاگ ہینڈلر)،سنائپر ٹیم او ردیگر پروفیشنل بھی شامل ہیں ۔
پنجاب پولیس کی رائٹ مینجمنٹ فورس نے ایک نئے فیصلے کے تحت پرتشدد مظاہروں اور دنگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کتوں اور گھوڑوں کا استعمال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کیلئے آٹھ بیلجیئن میلینوا نسل کے کتے خرید رہی ہے جو چھوٹی عمر کے ہوں گے اور انہیں خصوصی تربیت دی جائے گی۔اسکے علاوہ چھ گھوڑے بھی حاصل کیے جا رہے ہیں، جن کی مجموعی مالیت ایک کروڑ روپے ہے۔ ان وسائل کے ساتھ دو واٹر کینن اور ایک آرمڈ وہیکل بھی شامل کی جا رہی ہے۔

ان تمام آلات سے دنگے، فساد اور پرتشدد مظاہروں پر قابو پایا جائے گا۔واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کتوں کو استعمال کیا جائے گا۔ تاہم ڈی آئی جی اسد سرفراز خان کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال صرف اس وقت کیا جائے گا جب دیگر تمام وسائل ناکام ہو چکے ہوں گے۔ یعنی یہ آخری ہتھیار کے طور پر استعمال ہوں گے۔یہی نہیں اب تو پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کر کے رائٹ مینجمنٹ پولیس (RMP) کو باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا، اب اس ترمیم شدہ قانون کے تحت پرتشدد ہجوم کا رویہ ناقابلِ ضمانت اور قابلِ دست اندازی جرم قرار دے دیا گیا ہے، جس کا ٹرائل سیشن کورٹ میں ہوگا۔
پرتشدد ہجوم میں ملوث عناصر کیلئے سزائوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس میں 10 سال تک قید اور 1 سے 5 لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔اس قانون میں ’ رائٹ زون‘ کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت نیک نیتی سے فرائض انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ رائٹ زون کے تحت سرکاری و نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی فسادات کے منتظمین اور شرکاءسے کی جا سکے گی۔
پرتشدد احتجاج کے منتظمین اور شرپسند عناصر کے لیے سخت اور اضافی سزائوں کا قانون میں واضح تعین کر دیا گیا ہے۔رائٹ مینجمنٹ پولیس کا قیام پنجاب پولیس کے پیشہ ورانہ، قانونی اور موثر امن و امان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔



