انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ تریندلچسپ و حیرت انگیزسائنس و ٹیکنالوجیعلاقائی خبریں

فریج نہ بجلی،مغل بادشاہ دہلی، آگرہ اور لاہوربرف کہاں سے لاتے تھے؟

لاہور:(ویب ڈیسک) حیران کن طورپر جب فریج اور بجلی نہیں تھی، تب مغل بادشاہ گرمیوں میں برف کہاں سے لاتے تھے؟
ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں سے برف منگوانے سے لے کر اسے خصوصی طور پر تعمیر کیے گئے زیرِ زمین برف خانوں میں محفوظ رکھنے تک، مغل شہنشاہوں نے جدید ٹیکنالوجی، بجلی اور فریج کی ایجاد سے کئی صدیاں پہلے گرمی سے بچنے اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے حیرت انگیز طریقے اختیار کر رکھے تھے۔ یہ انتظامات نہ صرف مغل دور کی انتظامی صلاحیت، فنی مہارت اور سائنسی فہم کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ اس عہد کے لوگ محدود وسائل کے باوجود قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ضروریات پوری کرنے کے غیر معمولی طریقے جانتے تھے۔

ذرا تصور کیجیے کہ دہلی کی ایک جھلسا دینے والی گرمی کی دوپہر ہے۔ درجہ حرارت آسمان کو چھو رہا ہے، سورج پوری شدت سے آگ برسا رہا ہے، اور ایئر کنڈیشنر کی ایجاد میں ابھی کئی صدیاں باقی ہیں۔ لیکن اسی دوران مغل سلطنت کے شاندار محلات کے اندر شہنشاہ ٹھنڈے شربت نوش کر رہے ہیں، یخ بستہ مٹھائیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور یہاں تک کہ برف کو طبی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
یہ سن کر شاید ناممکن لگے، لیکن حقیقت میں ایسا ہی تھا۔ مغل دور میں جدید فریج یا بجلی نہ ہونے کے باوجود برف حاصل کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کے ایسے حیرت انگیز طریقے موجود تھے جنہوں نے بادشاہوں اور شاہی خاندانوں کو شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک اور آسائش فراہم کی۔

ہندوستانی گھروں میں فریج کے عام ہونے سے بہت پہلے، مغلوں نے برف حاصل کرنے، اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے نہایت مؤثر اور حیران کن طریقے ایجاد کر لیے تھے۔ ان کے یہ طریقے ذہانت، منظم انتظامات اور شاہانہ طرزِ زندگی کا ایک منفرد امتزاج تھے۔

جدید ٹیکنالوجی سے محروم اس دور میں مغل سلطنت نے برف کی فراہمی اور حفاظت کے لیے ایسے انتظامات قائم کیے تھے جو اپنے وقت کے لحاظ سے غیر معمولی سمجھے جاتے تھے۔ ان طریقوں میں فطری وسائل سے فائدہ اٹھانے، تیز رفتار نقل و حمل کے نظام اور شاہی خزانے کی فراخ دلانہ سرپرستی کا اہم کردار تھا، جس کے باعث شدید گرمی کے موسم میں بھی شاہی دربار ٹھنڈے مشروبات اور یخ بستہ اشیاء سے لطف اندوز ہوتا تھا۔

شہنشاہ ہمایوں، اکبر اور شاہ جہاں کے ادوارِ حکومت میں قدرتی برف کشمیر، ہماچل پردیش اور گڑھوال کے برف پوش پہاڑی علاقوں سے منگوائی جاتی تھی۔ سردیوں کے موسم میں مزدور برف کے بڑے بڑے تودے کاٹتے اور پھر انہیں نہایت منظم انداز میں شاہی دارالحکومتوں، جیسے دہلی، آگرہ اور لاہور، کی جانب روانہ کرتے تھے۔

اصل مشکل برف حاصل کرنا نہیں تھی بلکہ اسے طویل سفر کے دوران پگھلنے سے بچانا تھا۔ اس مقصد کے لیے مغل انتظامیہ نے ایک مؤثر نظام قائم کر رکھا تھا، جس کے تحت برف کو خصوصی طریقوں سے محفوظ کر کے تیز رفتار ذرائع کے ذریعے منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شدید گرمی کے باوجود شاہی محلات میں ٹھنڈے مشروبات، یخ بستہ پکوان اور دیگر آسائشیں دستیاب رہتی تھیں۔.

جب برف اپنی منزل تک پہنچ جاتی تھی تو اسے "برف خانوں” (Baraf Khanas) یا آئس ہاؤسز کہلانے والی خصوصی عمارتوں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ یہ زمین کے اندر گہرائی میں تعمیر کیے گئے ایسے کمرے ہوتے تھے جن کی دیواریں موٹی اور حرارت کو روکنے والی ہوتی تھیں، تاکہ اندر کا درجہ حرارت کم سے کم رہے۔

برف کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو ذخیرہ کرنے سے پہلے ان پر بھوسہ، کپڑا، راکھ اور دیگر حرارت سے بچانے والے مواد کی تہیں لپیٹ دی جاتی تھیں۔ یہ سادہ لیکن انتہائی مؤثر طریقہ برف کو پگھلنے سے بچاتا تھا اور اسے کئی مہینوں تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتا تھا، حتیٰ کہ سال کے شدید ترین گرمی والے دنوں میں بھی برف قابلِ استعمال رہتی تھی۔

اس طرح مغل دور میں جدید فریج یا بجلی کی عدم موجودگی کے باوجود برف کو محفوظ رکھنے کا ایک منظم اور حیرت انگیز نظام موجود تھا، جو شاہی خاندان اور دربار کو گرمی کے موسم میں ٹھنڈک اور آسائش فراہم کرتا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button