Get Lost سے You Get Lost تک کا سفر
لاہور(فیاض ملک ) فیاضیاں

"گیٹ لوسٹ” (Get Lost) ایک انگریزی محاورہ ہے جس کا اردو میں مطلب "دفع ہو جاؤ”، "یہاں سے چلے جاؤ” یا "گم ہو جاؤ” ہے۔ آج کل ان دونوں جملوں کی سوشل میڈیاپر اچھی خاصی دھوم مچی ہوئی ہے۔جس کو دیکھو وہ ان جملوں کی ادائیگی کے پس منظر میں ہونے والے واقع پر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تجزیے بکھیر رہا ہے۔کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ کہہ رہا ہے۔ ہم سوچا کہ ہم بھی اس حوالے سے ضرور کچھ نہ کچھ کہے ۔خیر قارئین کرام:اس وقت سابق ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید اور ن لیگی ایم پی اے کے بیٹے حیدر بھٹی کے درمیان بغیر اجازت ذاتی واش روم استعمال کرنے پر ہونیوالے تلخ جملوں کے بعد اچانک ڈی پی او کامران حمید کی ٹرانسفر نے ایک بار پھر محکمہ پولیس کی خود مختاری پر لاتعداد سوالات کھڑے کردئیے ہیں؟۔

ایک واش روم کے استعمال کا تنازع، Get Lost کہنا ایک ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی رخصتی کیا واقعی روٹین کی ٹرانسفر ہے یا پھر سیاسی مداخلت؟ بہر حال اس وقت میں کامران حمید کی ٹرانسفر سے پنجاب پولیس کی تاریخ میں گڈ گورنس کی شاندار مثال قائم ہوگئی ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر ضلع کے ڈی پی او نے اپنی پوسٹنگ کی معیاد کو مکمل کرکے آخر کار تبدیل ہونا ہی ہوتا ہے ۔ لیکن اب یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں واش روم کی وجہ سے ٹرانسفر ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے یہ پہلے پولیس آفیسر ہیں اور ساری عمر ان کو انکے ساتھی افسران حافظ آباد کا واش روم یاد دلاتے رہیں گے کہ اس آفیسر نے اپنا واش روم بچا لیا مگر اختیار چھوڑ دیا۔
یہی نہیں دوسری جانب ایم پی اے صاحب اور انکے بیٹے اپنی ہر انتخابی تقریر میں اس تاریخی واشروم کا ذکر کرکے لوگوں پر اپنے ا ختیارات کی دھاک بٹھائیں گے اور زور دار تالیوں سے داد وصول کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈی پی او حافظ آباد کے اس واش روم کوُبند کر کے اس کو اعزازی یاد گار کا درجہ دے دینا چاہیے کیونکہ دنیا بھر میں کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری واش روم کو ایسا اعزاز حاصل نہیں ہوا ۔

تاریخ پنجاب حکومت کے اس عظیم کا رنامے کو جن الفاظ سے یاد رکھے گی ان کا رنگ ہمیں اختیارات کی کڑی دھوپ ہونے کی وجہ سے ابھی نظر نہیں آرہا ہے۔ کیونکہ ہر دور سیاست میں صاحب اقتدار کی پہلی ترجیح میں محکمہ پولیس کو فتح کرکے اپنی مفتوح بنانا ہوتا ہے۔ لیگی دور ہو یا پھر پی پی پی اور یا پھر تبدیلی سرکار کا ۔ ہر دور میں صاحب اقتدار کی صرف ایک ترجیح ۔من پسند افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ۔

اگر ہم تبدیلی سرکار کی ہی بات کریں تو انہوں نے سرکار بزدار دور کے محض ساڑھے تین سال کے دوران پنجاب میں انتظامی امور ، اصلاحات کے آڑ میں 7 آئی جی تبدیل کئے جو کہ پنجاب پولیس کا ریکارڈ ہے۔ یہی نہیں پولیس میں اصلاحات کے نام پر بدترین کھلواڑ کیا گیا جس کی واضح مثال یہ ہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کی یہ ٹرانسفر پوسٹنگ کا کھیل تھا۔یہی نہیں اس وقت پولیس اصلاحات میں بہتری لانے کے بلند و بانگ دعووں کے لائے ایک آئی جی صاحب کو محض ایک سے ڈیڑھ ماہ کے بعد اس بنیاد پر تبدیل کردیا گیا تھا کہ انہوں نے سپیکر صاحب کے کہنے پر انکے چہیتے آفیسر کو ڈی پی او گجرات لگانے سے انکار کردیا تھا۔
یہی نہیں اس وقت کے ایس پی کینٹ کے عہدہ پر فائز ایک انتہائی ایماندار ایس پی صرف اس لئے تبدیل کردیا گیا کہ انہوں نے ایک سیاسی شخصیت کے باورچی کی بات (ٹھیک طریقے ) سے نہیں سنی۔پاکپتن میں تعینات ڈی پی او اور اس کے ساتھ ساتھ آر پی او ساہیوال بھی سابق وزیر اعظم کی بیوی کے سابق شوہر کی شکایت پر اسی سیاست گردی کا شکار ہوئے تھے۔ماضی میں ہی انہی آر پی او کو جب وہ ڈی پی او بہاولنگر میں تعینات تھے ۔
ایک سیاسی شخصیت کے ڈیرے پر کھانا کھانے کیلئے نہ جانے پر تبدیل بلکہ صوبہ بدر کردیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ میں ایک اے ایس پی کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی پر احتجاجا آئی جی پنجاب کو خط لکھنے پر ایک ڈویژنل ایس پی کو اسکے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سیاسی مداخلت کے حوالے سے اسی طرح کے سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات اب تک پنجاب پولیس کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود ہر صاحب اقتدار کا یہ دعوے ہے کہ محکمہ پولیس میں ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ سو فیصد میرٹ پر ہیں اور اس میں سیاسی مداخلت کا سوال ہی نہیں پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ماضی کی طرح موجودہ حکومت پنجاب کا دعوٰی ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر سیاسی مداخلت سے پاک ہے۔
اب یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر سیاسی مداخلت نہیں ہے تو کیوں اچانک کامران حمید کو انکے عہدے سے ہٹایا گیا؟ خیر اس سوال کا جواب بھی یہی ہوگا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ نوکری کا حصہ ہے ۔
قارئین کرام: گیٹ لوسٹ سے یو گیٹ لوسٹ تک کے اس سفر میں جیت کس کی ہوئی اور شکست کس کی ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا فیصلہ آپ عوام کو ہی کرنا چاہیئے۔



