پاکستانتازہ ترین

موجودہ طرز حکمرانی میں ترقی ناممکن، بجٹ عوامی مسائل کا حل پیش کرنے میں ناکام: آل اپوزیشن سیمینار

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 عوامی مسائل کے حل میں ناکام رہا ہے اور موجودہ طرز حکمرانی میں معاشی ترقی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے قانون کی حکمرانی، سیاسی استحکام، شفاف انتخابات اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں عوام پاکستان پارٹی کے زیر اہتمام آل اپوزیشن سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں، ماہرین معیشت، تاجر نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ سیمینار میں وفاقی بجٹ 2026-27 اور ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

موجودہ نظام میں ترقی ممکن نہیں: شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اداروں کے پھیلاؤ، پنشن اخراجات اور غیر مؤثر ٹیکس نظام معیشت پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک گورننس میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

بجٹ میں عوامی ریلیف کا فقدان: مفتاح اسماعیل

سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں غربت، مہنگائی اور قرضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی ترقی اور برآمدات میں بہتری نہیں آئی۔ ان کے مطابق بجٹ میں عوامی ریلیف اور مہنگائی کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی شامل نہیں۔

بجٹ اشرافیہ نواز ہے: اپوزیشن رہنما

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوام پر مزید بوجھ ڈالتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات نظر انداز کی گئی ہیں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی، عدالتی آزادی اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے زرعی شعبے کی بدحالی اور تجارتی پابندیوں کو بھی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

انسانی ترقی کے اشاریے تنزلی کا شکار

عوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس مسلسل تنزلی کا شکار ہے جبکہ صحت کے شعبے میں پولیو، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قرض اور سودی ادائیگیاں بڑا مسئلہ

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے قرض اور سودی ادائیگیاں ترقیاتی بجٹ کو محدود کر رہی ہیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کے استحکام اور آئینی بالادستی پر زور دیا۔

متوسط طبقہ دباؤ کا شکار

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث متوسط طبقہ تیزی سے کمزور ہو رہا ہے جبکہ ٹیکس کا بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

معیشت کو بنیادی اصلاحات کی ضرورت

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ ملک کو بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے، کیونکہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔

تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ قوت خرید میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ رئیل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک نے کہا کہ بجٹ میں عام شہری کے لیے کوئی نمایاں ریلیف موجود نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button