انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

امن معاہدہ کی نئی امید

سپیڈبریکر، میاں حبیب

قبل ازیں اتنی بار مشرق وسطی کی جنگ کے خاتمہ بارے دنیا کو امن معاہدہ کی خوشخبریاں سنائی گئیں اور اتنی بار ہی نت نئے بہانوں سے سبوتاژ کیا گیا کہ اب کوئی بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہم نے بھی فیصلہ کیا تھا اب جب تک امن معاہدہ پر فریقین کے دستخط نہیں ہو جاتے اس وقت تک اس بارے کچھ نہیں لکھا جانا چاہیے کیونکہ ٹرمپ کو تو اپنی ساکھ کی کوئی فکر نہیں لیکن ہمارے قاری تو اس بارے میں پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ لکھا تھا لیکن ہوتو کچھ اور رہا ہے اس لیے ہم تو سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں دراصل ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے متعدد بار ایران کو مختلف حربوں سے الجھا کر طرح طرح کی دھمکیاں دے کر اور کئی بار حملے کرکے نفسیاتی حربے استعمال کرکے دیکھ لیے لیکن ایرانی اپنے بیانیے کے بڑے پکے نکلے اوپر سے ان کے ہاتھ میں جو آبنائے ہرمز کا ہتھیار آگیا اس سے پوری دنیا کی ٹریڈ متاثر ہو رہی تھی جس پر دنیا کا امریکہ پر دباو بڑھ رہا تھا علاوہ ازیں امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی خواہشات پوری نہیں ہو رہی تھیں
امریکہ کو ایران نے پھنسا لیا تھا آخر کار اس نے جنگی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے سفارتی داو پیج استعمال کرنا شروع کر دیے لیکن ایرانی امریکی نفسیات کو بڑی اچھی طرح سمجھ چکے تھے۔ وہ اب امریکہ کی چکنی چپڑی باتوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے وہ اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہے اور آخر کار امریکہ کو ہی جائز مطالبات کے ساتھ ایران کے ساتھ معاہدہ کی طرف آنا پڑا اب کہا جا رہا ہے کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امن معاہدہ پر دستخط ہوں گے اس کی تصدیق امریکہ ایران پاکستان اور قطر بھی کر رہا ہے۔
لیکن یقین کریں کہ ابھی بھی اعتبار نہیں کہ کسی بھی لمحے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے بے اعتباری عالمی قیادت کاکسی لمحے بھی موڈ بدل سکتا ہے جس طرح پچھلے تین ماہ میں پینتھرے بدلے گئے سیدھی بات ہے اب کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں اس بےاعتباری سیاست اور عالمی راہنماوں کے بدلتے رنگوں نے جتنا نقصان عالمی تجارت کو پہنچایا ہے اور دنیا پچھلے چار ماہ سے جس ہیجانی کیفیت سے گزری ہے جوں جوں ٹرمپ بیانات بدلتے تھے اور حالات کا نقشہ کھینچا جاتا تھا ۔
اس کے ساتھ ساتھ ہی سٹاک مارکیٹس اور تیل کی قیمتیں بھی اوپر نیچے ہوتی رہتی تھیں اب ایک بار پھر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ 19 جون کو امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے تو تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اللہ کرے کہ یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے تاکہ دنیا کو قرار آ سکے دنیا کی معیشتیں روٹین پر آ جائیں لیکن جتنا نقصان ہو چکا اب اس کی ریکوری میں ایک لمبا عرصہ لگے گا خاص کر مڈل ایسٹ کے ممالک جو متاثر ہوئے ہیں ان کی سرگرمیاں بحال کرنے میں بڑا وقت لگے گا اور پھر یہ بڑی طاقتوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے رویوں میں کیسی تبدیلی لاتی ہیں اگر امن معاہدہ کے باوجود زبانی کلامی کھینچاتانی جاری رہی تو غیر یقینی برقرار رہے گی۔
ویسے امریکہ کا کوئی اعتبار نہیں وہ معاہدہ کرکے بھی مکر جائے کیونکہ ایران کے ہاتھوں ہونے والی حزیمت اسے برداشت نہیں ہو رہی وہ اندر ہی اندر پیچ وخم کھاتا رہے گا ابھی تو اس معاہدہ کے بارے میں بھی غیریقینی برقرار ہے لیکن اس کی تکمیل کے باوجود امریکہ پر اعتبار نہیں کہ وہ کسی بھی وقت اسے کوئی موڑ دے کر گھمبیر صورتحال پیدا کر دے لیکن ایران بھی بے اعتبارے امریکہ پر کسی طور پر اب اعتبار کرنے کو تیار نہیں پچھلے سال جب ایران اسرائیل امریکہ جنگ بندی ہوئی تھی تو ایران نے پہلے سے زیادہ توجہ اپنے دفاع پر مرکوز کر لی تھی ۔
ان کے خدشات درست تھے یہی وجہ تھی کہ امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو ایران پہلے سے زیادہ تیار تھا اب اگر ایران کو موقع ملا تو وہ اپنی تیاریوں کو بام عروج تک پہنچائے گا ایک تو ایرانی قوم کا مورال پہلے سے زیادہ بلند ہے دوسرا اس کے راستے کھل رہے ہیں تیسرا اب متحدہ عرب امارات قطر اور عمان اب ایران کے ساتھ تعاون پر مجبور ہیں امریکہ کی مخالف عالمی قوتیں پہلے سے زیادہ ایران کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جس طرح پاکستان کی بھارت کے خلاف معرکہ حق بنیان المرصوص میں فتح کے بعد اہمیت بڑھی تھی اسی طرح سے ایران کی بھی عالمی سطح پر اہمیت میں اضافہ ہو گا ۔
ایران کو اگر موقع ملا تو وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے گا اس جنگ بندی میں پاکستان کا جو کردار رہا ہے دنیا اس کی متعرف ہے پاکستانیوں کی خواہش تھی کہ جس امن عمل کا آغاز ہم نے کیا تھا اسے پایہ تکمیل بھی پاکستان میں پہنچایا جاتا امن معاہدہ پر دستخطوں کی تقریب بھی پاکستان میں ہوتی چلیں جہاں بھی دستخط ہوں پاکستان کے کردار کو کم نہیں کیا جا سکتا اللہ کرے جلد امن معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچے اس کے بعد پاکستان کے پاس سنہری موقع ہو گا کہ وہ اپنی توانائی کی ضرورتیں ایران سے سستے داموں پوری کرے پاکستان دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو معاشی سرگرمیوں میں منتقل کرے تاکہ پاکستان میں معاشی جمود کو توڑا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button