
محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے اور یہ ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر قرآن مجید فرقان حمید میں خصوصی عظمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو "شہرُ اللہ” یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی فضیلت اور تقدس کی واضح دلیل ہے۔اس مہینے کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں ہر قسم کے ظلم، ناانصافی، جنگ و جدل اور گناہوں سے سختی سے بچا جائے کیونکہ حرمت والے دنوں میں نیکیوں کا اجر جتنا زیادہ ہے گناہوں کا وبال بھی اتنا ہی سنگین ہو جاتا ہے۔ محرم الحرام ہمیں امن و امان، اخوت اور مہم جوئی کی بجائے ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔محرم الحرام کا پورا مہینہ ہی عظیم قربانیوں کا مظہر ہے۔ اس مقدس مہینے کی شروعات ہی ایک ایسی عظیم شہادت سے ہوتی ہے جس نے تاریخِ اسلام کا دھارا بدل دیا۔ محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی امتِ مسلمہ کو خلیفۂ ثانی، امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت یاد آتی ہے، جن پر مسجدِ نبوی میں نمازِ فجر کی امامت کے دوران بزدلانہ حملہ کیا گیا اور آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
یہ ایک تاریخی اور فکری ربط ہے کہ سالِ نو کا آغاز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادتِ عظمیٰ سے ہوتا ہے اور اسی ماہ میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی پر ہوتا ہے۔ یہ دونوں عظیم ہستیاں عدل و انصاف، قانون کی بالادستی اور اسلام کی سربلندی کی علامت ہیں۔ ایک نے مسجدِ نبوی کے مصلے پر سجدے کی حالت میں جان دے کر حق کا پرچم بلند کیا اور دوسرے نے میدانِ کربلا میں تپتی ریت پر سجدۂ آخریں ادا کر کے باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا ابدی درس دیا۔ ان دونوں شہادتوں کا مقصد ایک ہی تھااور وہ تھا پرچمِ اسلام کا تحفظ اور ظلم و بربریت کا خاتمہ۔
آج جب ہم محرم الحرام کے تقدس اور قیامِ امن کی بات کرتے ہیں تو سچی بات یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت دنیا کے لیے امن، عدل اور مثالی سکیورٹی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ انہوں نے ایک وسیع و عریض ریاست میں وہ امن قائم کر کے دکھایا جہاں ایک عام شہری بھی رات کے اندھیرے میں خود کو محفوظ مامون سمجھتا تھا۔ شرپسند عناصر نے اس وقت بھی اسلام کے اس پرامن نظام کو ہدف بنانے کے لیے مسجدِ نبوی کے تقدس کو پامال کیا اور امیر المومنین پر حملہ کیا۔ چنانچہ محرم کا مہینہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کا ہدف ہمیشہ سے مسلمانوں کا امن اور ان کا اتحاد رہا ہے۔بدقسمتی سے ماضی میں شرپسند عناصر نے اس مقدس مہینے کے تقدس کو پامال کرنے اور فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے کی ناپاک کوششیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج محرم الحرام کے آتے ہی جہاں دل ان عظیم قربانیوں کے غم میں نڈھال ہوتے ہیں وہاں امن و امان کا قیام ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر غیر معمولی اور مخلصانہ کوششیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ریاست کی جانب سے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی پلان تشکیل دیے جاتے ہیں جن میں حساس علاقوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی الرٹ پوزیشن اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی شامل ہے۔دوسری طرف صرف سرکاری اقدامات سے دیرپا امن ممکن نہیں جب تک عوامی سطح پر شعور بیدار نہ ہو۔
نجی سطح پر علمائے کرام، دانشور، سول سوسائٹی اور امن کمیٹیاں صفِ اول میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کا ایک دوسرے کی مجالس میں شرکت کرنا اور محبت کا پیغام دینا، بہترین مثالیں ہیں۔ ان تمام کوششوں میں "قومی پیغامِ امن کمیٹی” کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر حافط محمد طاہر محمود اشرفی ہیں ، جنہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر سفیر امن قرار دیا جاتا ہے ، عالم اسلام کی واحد نمائندہ تنظیم نے بھی انہیں امن ایوارڈ سے نوازا۔ اس وقت ان کی قیادت قومی پیغام امن کمیٹی پوری طرح فعال ہے۔ اس کمیٹی نے ملک بھر میں اتحاد، یکجہتی اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے جو کاوشیں کی ہیں وہ بلاشبہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔کمیٹی نے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کو ایک میز پر بٹھا کر یہ عہد لیا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے لے کر اہل بیتِ اطہار اور امام حسین علیہ السلام تک تمام مقدسات کا احترام سب پر لازم ہے اور کسی کے نظریات پر تنقید کی آڑ میں دل آزاری نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال، اشتعال انگیز تقاریر اور تکفیری نعروں پر مکمل پابندی کے ضابطہ اخلاق کو یقینی بنایا گیا ہے۔ محرم کے دوران اگر کہیں کوئی غلط فہمی یا چھوٹا موٹا تنازع کھڑا ہو تو کمیٹی کے اراکین فوری طور پر وہاں پہنچ کر معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرتے ہیں، جس سے دشمن کی سازشیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر مشترکہ اعلامیوں کے ذریعے عوام کو مسلسل یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے اور یہ تمام عظیم ہستیاں پوری امت کا سانجھا اثاثہ ہیں۔محرم الحرام کا مہینہ ہمیں جوڑنا سکھاتا ہے، توڑنا نہیں۔
سیدنا عمر فاروق اور امام حسین علیہ السلام دونوں نے انسانیت، سچائی اور امن کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ اجتہاد، مصلحت اور رواداری کا تقاضا ہے کہ ہم محرم الحرام کے اس تقدس کو برقرار رکھیں۔ حکومت کی انتظامی کوششیں، نجی شعبے کا تعاون اور بالخصوص قومی پیغامِ امن کمیٹی کا یہ مثالی اتحاد اس بات کی نوید ہے کہ اب پاکستان دشمن عناصر ہمیں مسلکوں میں بانٹ کر اپنی روٹیاں نہیں سیک سکتے۔ آئیے اس محرم الحرام میں یہ عہد کریں کہ ہم چوکس رہیں گے، افواہوں پر کان نہیں دھریں گے، اور محبت کا ہاتھ بڑھا کر دشمن کی ہر اس سازش کو ناکام بنا دیں گے جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں کو سچی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نفرتوں سے پاک کر کے ملک و قوم کے امن و استحکام کے لیے یکمشت ہو جائیں۔



