انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

امریکہ، ایران تکنیکی مذاکرات ،پاکستانی وفدبھی شریک ، آبنائے ہرمز پھر بند ؟

مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع:محسن نقوی کی ایرانی وزیر داخلہ و خارجہ سے اہم ملاقاتیں،امریکہ کے ساتھ معاہدے میں آگے بڑھنے کیلئے تیار :ایران

اسلام آباد ،تہران : (ویب ڈیسک )اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ کی جانب سےجاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پردستخطوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہوں گے۔ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے نمائندے شریک ہوں گے،پاکستان اور قطر کے ثالثی کردار ادا کرنے والےنمائندے بھی بات چیت میں حصہ لیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمتوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیشرفت کو عملی شکل دی جا سکے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی تعمیری سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد آج سوئٹزرلینڈ جائے گا،پاکستانی وفد برگن سٹاک میں ٹیکنیکل مذاکرات میں شریک ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب ایران امریکہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچے ہیں جہاں ایرانی وزیرخارجہ اور وزیر داخلہ سے ان کی ملاقات ہوئی اور ہم امورپر تبادلہ خیال کیاگیا۔ تہران پہنچنے پرایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ائیرپورٹ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پرتپاک استقبال کیا۔

بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے امریکہ ایران معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا اور اس پیشرفت کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی وزارت خارجہ پہنچے جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر محسن نقوی اور عباس عراقچی کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران تعلقات، امریکہ ایران معاہدے کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام، دوطرفہ روابط کے فروغ اور موجودہ سفارتی پیشرفت کے تناظر میں آئندہ تعاون کے امکانات پربھی بات چیت کی گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا مذاکراتی وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وفد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت جنگ خاتمے سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد کی پیروی کرے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی باقری، ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مذاکراتی وفدکو میناب 168 کا نام دیا گیا ہے۔روانگی سے قبل ائیرپورٹ پرمیڈیا سے گفتگو میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پرعمل کیا ہے، امریکہ پابند ہےکہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبورکرے، اگلے فریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی تو سمجھوتہ خطرے میں پڑجائےگا، اگلےفریق کو جلدازجلد ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، اگلےفریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری سے انکار کیا تو ایران جوابی اقدامات کرےگا۔

اسماعیل بقائی نے کہا سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی شرکت کا مقصد دوسرے فریق سے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا حتمی معاہدے کے لیے بات چیت صرف اُسی وقت شروع ہو گی جب مفاہمتی یادداشت کی شق ایک، چار، پانچ، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا اور اسے یقینی بنایا جائے گا۔

اُن کے بقول فی الحال یہ صورتحال نہیں ہے اور اسی لیے ایران آئندہ مذاکرات میں وعدوں پر عمل درآمد کے لیے امریکہ پردباؤ ڈالے گا۔امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات سے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں ۔

وینس کا کہنا تھا کہ دونوں افراد ان مذاکرات کے کچھ تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا اُن کی صبح جیرڈ کشنر اور وٹکوف سے بات ہوئی ہے اور میری سمجھ کے مطابق چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔جب امریکی نائب صدر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی سوئٹزر لینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ میں اگلے دو روز میں وہاں جاؤں گا۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدے پر مرحلہ وار پیشرفت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن اپنی سنجیدگی ثابت کرے اور اسرائیل لبنان سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل کو یقینی بنائے۔عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ سمجھتا ہے تاہم امریکہ کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ اسرائیل اپنی کارروائیاں مستقل بنیادوں پر روکے اور معاہدے کی پاسداری کرے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جنگی کارروائیوں کے سنگین اور فوری نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ایران غزہ سمیت تمام محاذوں پر امن کا خواہاں ہے اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ جنگ بندی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران بین الاقوامی قوانین اور عمان کے تعاون سے بحری آمد و رفت کی سہولت جاری رکھے گا، معاہدے کے تحت 60 دن تک کسی قسم کی راہداری فیس عائد نہیں کی جائے گی تاہم اس مدت کے بعد آبی گزرگاہ کے انتظام کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ امریکہ سے معاہدے کے حوالے سے ضروری مشاورت جاری ہے اور مذاکرات کے لیے حالات سازگار ہونے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے یہ دعوی کیا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی یہ رپورٹس بے بنیاد ہیں کہ ایران نے آئی اے ای اے کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق 8 کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر ہوں گے، بشرطیکہ دستاویز کی شق 13 میں درج مذاکرات کے آغاز کی تمام پیشگی شرائط پوری کی جائیں۔بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 9 یہ واضح کرتی ہے کہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر بوشہر جیسے جوہری مراکز میں جاری معائنہ کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم ان تنصیبات کے معائنے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آئی اے ای اے کی رسائی معطل کر دی گئی تھی، مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج سے مشروط ہوں گے۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ تنصیبات سے متعلق کسی بھی قسم کی آئندہ پیشرفت جاری مذاکرات اور ان کے حتمی نتائج کے مطابق طے کی جائے گی۔دریں اثناء ایران نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں ترجمان خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹر زنے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجمان خاتم الانبیا ءسنٹرل ہیڈکوارٹر زنے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔

یہ دشمن کی وعدہ خلافی کا پہلا جواب ہے۔انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو دشمن کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کی خاطر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے علیحدہ بیان میں تصدیق کی کہ ہفتے کی صبح سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق یہ تصدیق پاسداران انقلاب کے ایک فوجی ذریعے نے کی کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اب ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند ہے۔پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے جنگ بندی پر عملدرآمد سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔بیان میں تمام تجارتی، تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے شواہد نہیں ملے۔فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز پوری طرح کھلی ہے۔اُن کا کہنا تھا جمعے کو آبنائے ہرمز سے 16 ملین بیرل تیل ملا ہے، تو آپ ان جہازوں کی حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ سینٹکام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ 50سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ امریکی افواج علاقے میں موجود ہیں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کےلئے چوکنا ہیں۔ بیان میں ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ عالمی اہمیت کی اس بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق 20جون کوآبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر 55تجارتی جہاز بحفاظت گزرے اور ایک کروڑ 70لاکھ بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر بیان پر جاری اپنے بیان میں کہنا تھا کہ دائیں بازو کے احمق اور ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی۔اُنہوں نے کہا ایران کو حالیہ جنگ میں مکمل طور پر شکست ہو چکی، سابق صدر اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، اوباما نے ایران کیخلاف امریکی فوج کا استعمال ہی نہیں کیا جو ضروری تھا۔امریکی صدر کا کہنا تھا دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سر پرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھا، ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو انتہائی ناکام لیڈر سمجھتے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو ناکام سمجھنے میں 100 فیصد درست تھے، میرے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایران مسلسل 47 برس من مانی کرتا رہا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ میرےاقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا،امریکہ پھر سے طاقتورہو چکا ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button